اپریل 5, 2025 12:35 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

بیگ اور کتابوں کی چھٹی، ای لرننگ جدید مگر مکمل متبادل نہیں

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک

ای لرننگ نے تعلیم کے طریقوں میں انقلابی تبدیلیاں لائی ہیں لیکن اس کے باوجود روایتی اسکولوں میں سماجی تعلقات اور ذاتی تجربات کی اہمیت برقرار ہے۔ ٹیکنالوجی کا یہ انقلاب تعلیم کے تسلسل کو بہتر بناتا ہے مگر بچوں کی شخصیت کی تکمیل میں روایتی تعلیم کا کردار بھی ضروری ہے۔

ای لرننگ جسے آن لائن تعلیم بھی کہا جاتا ہے انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے تعلیم فراہم کرنے کا جدید طریقہ ہے یہ طریقہ تدریس جہاں کئی لحاظ سے سہولت فراہم کرتا ہے وہاں اس کے کچھ چیلنجز بھی ہیں۔

 بچوں کے اسکول جانے کی خوشی، استاد کے ساتھ براہِ راست تعلق اور کلاس روم کے ماحول کی تو ای لرننگ کا متبادل نظر آتا ہے۔ لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ ٹیکنالوجی کا یہ انقلاب بچوں کے دلوں میں اسکول جانے کی محبت کو مٹا دے؟

عالمی سطح پر تیز رفتار ٹیکنالوجی کی ترقی نے کئی شعبوں کو متاثر کیا ہے اور تعلیم ان میں سرِفہرست ہے۔ کرونا وبا کے دوران جب دنیا بھر میں اسکول اور تعلیمی ادارے بند ہوئے، ای لرنینگ (E-learning) نے نہ صرف تعلیمی تسلسل کو برقرار رکھا بلکہ اس نئے طریقہ تدریس نے تعلیم کے روایتی نظام کو چیلنج بھی کیا۔

ایک لمحے کے لیے یہ سوال دل میں آتا ہے کیا ای لرننگ وہ انقلاب ہے جو اسکولوں کے روایتی طریقے کو ہمیشہ کے لیے بدل دے گا؟ یا پھر یہ صرف ایک وقتی حل ہے جو وقت کے ساتھ اپنا اثر کھو دے گا؟

ای لرنینگ کا آغاز ابتدا میں صرف یونیورسٹیوں اور اوپن کالجوں تک محدود تھا لیکن کرونا وبا نے اس کے استعمال کی رفتار میں ایک زبردست اضافہ کیا۔ دنیا کے مختلف حصوں میں اسکولز بند ہونے کے باوجود ای لرننگ نے طلبا کو ایک نئی امید دی اور تعلیمی سلسلے کو جاری رکھا۔

جرمن شہر کولون میں اسکولوں نے اس بات کا تجربہ شروع کیا ہے کہ مستقبل میں اسکولوں میں کتابوں اور بلیک بورڈ کی ضرورت نہیں ہوگی۔ طلباء اپنے لیپ ٹاپز پر کلاس کے تمام مواد تک رسائی حاصل کریں گے اور انٹرنیٹ کے ذریعے سیکھنے کی سرگرمیاں بڑھیں گی۔

ہندوستان میں تقریباً 40 کروڑ طلباء ہیں اور 10 لاکھ سے زیادہ سکولز ہیں۔ (فوٹو: ای این )

مگر سوال یہ ہے کہ آیا اسکول میں بچوں کی ملاقات، دوستوں کے ساتھ کھیلنا اور اساتذہ کے ساتھ براہ راست رابطہ ان سب چیزوں کا متبادل ممکن ہے؟

دوسری جانب ای لرننگ کے بے شمار فوائد ہیں جو اسے روایتی تعلیم سے ممتاز کرتے ہیں۔ سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس میں طلباء کو جگہ اور وقت کی آزادی ہوتی ہے۔ وہ اپنے شیڈول کے مطابق تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ ویڈیوز، انٹرایکٹو ماڈیولز اور گیمز کے ذریعے تعلیم کو مزید دلچسپ اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم کیا یہ ڈیجیٹل تعلیم بچوں کی سوچ، جذبات اور سماجی تعلقات کو مکمل طور پر سمجھنے میں کامیاب ہو سکتی ہے؟

ای لرننگ کے فوائد کے باوجود اس میں کئی چیلنجز بھی ہیں جو اس طریقہ تدریس کو مکمل طور پر کامیاب ہونے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ ہندوستان میں تقریباً 40 کروڑ طلباء ہیں اور 10 لاکھ سے زیادہ سکولز ہیں مگر وہاں کئی علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت، بجلی کی فراہمی اور اسمارٹ فونز کی کمی کی وجہ سے ای لرننگ کے فوائد کو حاصل کرنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔

اس کے علاوہ کلاس روم کے ماحول میں جو سماجی تعلقات بنتے ہیں اور جو تفریحی سرگرمیاں بچوں کی شخصیت کو پروان چڑھاتی ہیں وہ ای لرننگ کے ذریعے حاصل نہیں ہو سکتیں۔ بچے سکول میں آکر اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ کھیلتے ہیں سیکھتے ہیں اور بہت کچھ سمجھتے ہیں جو ای لرننگ میں ممکن نہیں۔

جبکہ ای لرننگ کا مستقبل روشن نظر آ رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ روایتی تعلیم کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ماہرین کے مطابق مستقبل میں اسکولوں میں کتابوں اور کاپیوں کا تیزی سے خاتمہ ہو سکتا ہے اور ہر طالب علم کے پاس اپنا لیپ ٹاپ یا ٹیبلٹ ہوگا۔

ای لرنینگ کا آغاز ابتدا میں صرف یونیورسٹیوں اور اوپن کالجوں تک محدود تھا لیکن کرونا وباء نے اس کے استعمال کی رفتار میں ایک زبردست اضافہ کیا۔ (فوٹو: ایس سٹوڈیو)

تاہم ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ تبدیلی صرف تدریسی وسائل تک محدود ہوگی یا پھر اس کا اثر طلباء کی شخصیت پر بھی پڑے گا؟ بچوں کی شخصیت کی تکمیل کے لیے اساتذہ کا کردار, ہم جماعتوں کے ساتھ تعلقات اور اسکول کی روزمرہ کی سرگرمیاں بہت ضروری ہیں۔

ای لرننگ نے تعلیم کے میدان میں ایک نیا انقلاب برپا کیا ہے، جس نے دنیا بھر کے تعلیمی نظام کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ اگرچہ یہ ایک موثر طریقہ تدریس ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ روایتی اسکولوں کی اہمیت بھی برقرار رہنی چاہیے تاکہ بچوں کو ایک متوازن اور مکمل تعلیم فراہم کی جا سکے۔ مستقبل میں ای لرننگ کی ترقی کے ساتھ ساتھ ہمیں اس کے چیلنجز اور حل پر بھی نظر رکھنی ہوگی تاکہ ہم ایک مکمل اور ذمہ دار شہری تیار کر سکیں۔

پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ہادی ای لرننگ کے سی ای او حنین زیدی نے کہا کہ “ای لرننگ تعلیمی کارکردگی میں مثبت تبدیلیاں لائی ہیں، خاص طور پر ان بچوں کے لیے جو خود سے سیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ روایتی تعلیم کے مقابلے میں زیادہ لچکدار اور جدید تدریسی طریقے مہیا کرتی ہے، مگر یہ مکمل متبادل نہیں ہو سکتی، کیونکہ روایتی تعلیم کا سماجی اور اخلاقی ترقی میں بھی کردار ہوتا ہے۔ ای لرننگ کے فوائد جیسے کہ کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ سے سیکھنے کی سہولت اور جدید ڈیجیٹل مواد کی دستیابی، اسے ایک مستقل حل بنا سکتے ہیں۔ تاہم، تکنیکی رکاوٹیں، طلبہ کی توجہ مرکوز رکھنے میں مشکلات، اور اساتذہ و طلبہ کے براہ راست تعلق کی کمی جیسے چیلنجز موجود ہیں۔ لہذا، یہ مکمل روایتی تعلیم کی جگہ نہیں لے سکتی، لیکن ایک اہم جز ضرور بن سکتی ہے”۔

طلبا اور ای لرننگ کی وجہ سے ان کے روابط کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ “ای لرننگ میں کلاس روم جیسا سماجی ماحول نہیں ہوتا، جس سے بچوں میں باہمی روابط اور سماجی مہارتوں کے فروغ میں کمی آسکتی ہے۔ تاہم، اگر اس میں گروپ ایکٹیویٹیز، آن لائن مباحثے، اور انٹرایکٹو لرننگ کو شامل کیا جائے تو اس اثر کو کم کیا جا سکتا ہے”۔

ہ مکمل روایتی تعلیم کی جگہ نہیں لے سکتی، لیکن ایک اہم جز ضرور بن سکتی ہے۔ (فوٹو: انسپلیش)

ای لرننگ کو مؤثر بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات کیے جا سکتے ہیں

کم قیمت ڈیجیٹل آلات اور انٹرنیٹ کی فراہمی

سرکاری و نجی شراکت داری کے ذریعے مفت یا سبسڈی والے کورسز کی فراہمی

آف لائن ای لرننگ ماڈیولز متعارف کرانا

اساتذہ اور طلبہ کی ڈیجیٹل ٹریننگ

ان کا مزید کہنا تھا کہ “ای لرننگ اور روایتی تعلیم کے امتزاج سے “بلینڈڈ لرننگ” ماڈل تشکیل دیا جا سکتا ہے، جس میں

کلاس روم میں تدریس کے ساتھ ساتھ آن لائن سیکھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں

انٹرایکٹو اور ویڈیو بیسڈ لیکچرز کے ساتھ عملی مشقوں پر بھی زور دیا جائے

فزیکل کلاس رومز میں مباحثے اور پراجیکٹ بیسڈ لرننگ کے مواقع فراہم کیے جائیںیہ ماڈل تعلیمی معیار کو بہتر بنانے، سیکھنے کے عمل کو مزید مؤثر بنانے، اور مستقبل کے تعلیمی نظام کو زیادہ پائیدار اور ترقی یافتہ بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس