جکارتہ میں طلبہ کی جانب سے پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر احتجاجی کال کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے ہیں۔ احتجاج کی کال اس واقعے کے بعد دی گئی جس میں ایک موٹر سائیکل رائیڈ شیئرنگ ڈرائیور پولیس کی بکتر بند گاڑی کی ٹکر سے ہلاک ہوگیا تھا۔
یہ واقعہ گزشتہ روز جمعرات کو پارلیمنٹ کے قریب مظاہروں کے دوران پیش آیا، جب پولیس نے قانون سازوں کی تنخواہوں اور تعلیمی فنڈز کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔ مظاہرے رات گئے تک جاری رہے اور پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔
مظاہروں اور ڈرائیور کی ہلاکت کے بعد جکارتہ کے کئی اسکولوں نے طلبہ کو جلدی چھٹی دے دی جبکہ بینکوں اور کاروباری اداروں نے ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت دی۔ مقامی میڈیا کے مطابق کچھ علاقوں میں فوج بھی تعینات کردی گئی ہے۔

انڈونیشیا کی سب سے بڑی طلبہ تنظیم کے سربراہ مزمل احسان نے اعلان کیا ہے کہ طلبہ پولیس تشدد کے خلاف احتجاج کریں گے اور ان کے ساتھ دیگر طلبہ تنظیمیں بھی شامل ہوں گی۔
صدر پرابوو سبیانتو نے ایک خصوصی ویڈیو پیغام میں ڈرائیور اففان کورنیوان کی ہلاکت پر افسوس اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکاروں کے غیر ضروری اقدامات ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے واقعے کی شفاف تحقیقات کا حکم دیا اور کہا کہ ذمہ دار اہلکاروں کو جوابدہ بنایا جائے گا۔
جکارتہ پولیس چیف آصف ایڈی سہری نے اعتراف کیا کہ بکتر بند پولیس گاڑی کی ٹکر سے کورنیوان کی جان گئی۔ انہوں نے لواحقین اور عوام سے معافی مانگی۔ پولیس حکام کے مطابق گاڑی کے عملے کے سات افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔

واقعے کے بعد موٹر سائیکل ڈرائیورز کی بڑی تعداد نے احتجاج کیا اور کورنیوان کی نماز جنازہ میں سینکڑوں رائیڈ شیئرنگ ڈرائیورز نے شرکت کی۔ درجنوں موٹر سائیکلوں کے قافلے نے ان کے جسد خاکی کو مرکزی جکارتہ سے قبرستان تک پہنچایا۔
جکارتہ لیگل ایڈ نے حکومت اور پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ جمعرات کے احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے 600 افراد کو رہا کیا جائے۔
اس واقعے اور احتجاج کے باعث ملکی معیشت پر بھی دباؤ آیا۔ انڈونیشیائی کرنسی روپیہ جمعہ کو ایک فیصد تک گر گئی جو یکم اگست کے بعد کم ترین سطح ہے۔ اسٹاک مارکیٹ بھی دو فیصد تک گر گئی اور بارہ اگست کے بعد نچلی ترین سطح پر پہنچ گئی۔