وزارت منصوبہ بندی نے عالمی مالیاتی فنڈ کو آگاہ کر دیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کی حد دو فیصد مقرر کی گئی ہے۔
یہ بات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی کے اجلاس میں بتائی گئی جس کی صدارت سینیٹر قرۃ العین مری نے کی اجلاس میں وفاقی سیکریٹری منصوبہ بندی اور رکن کوآرڈینیشن اویس منظور سمرہ نے شرکت کی اور پی ایس ڈی پی سے متعلق آئی ایم ایف کی سفارشات پر بریفنگ دی۔
انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے ایک تفصیلی سوالنامہ دیا ہے جس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور عوامی سرمایہ کاری سے متعلق امور شامل ہیں جو منصوبہ بندی کمیشن کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔
اویس منظور سمرہ نے وضاحت کی کہ وسائل کی کمی کے باعث پی ایس ڈی پی 2025-26 زیادہ تر قومی اہمیت کے جاری منصوبوں پر مرکوز ہے ان کے مطابق 10 فیصد کی حد پر عملدرآمد ممکن نہیں تھا اس لیے فنڈز کی حد دو فیصد تک محدود کی گئی ہے۔
مزید براں پی ایس ڈی پی 2024-25 کے جائزے کے بعد دو کھرب 52 ارب روپے مالیت کے 344 منصوبے مکمل یا بند کر دیے گئے ہیں جس سے آئندہ کے لیے اخراجات میں تقریباً دو کھرب 16 ارب روپے کی کمی ہوئی ہے۔
وفاقی سیکریٹری نے کہا کہ اگرچہ نئے منصوبوں کے لیے سخت حد مقرر کی گئی ہے تاہم موجودہ مالی بوجھ میں نمایاں کمی آ چکی ہے جو اب صرف دو فیصد رہ گیا ہے۔

ارکان پارلیمنٹ کی اسکیمیں کابینہ ڈویژن کے تحت آتی ہیں اور حکومت پی ایس ڈی پی 2025-26 میں بڑے اور تیز رفتار میگا منصوبوں کو ترجیح دے گی۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پی ایس ڈی پی کے عمل کو جدید بنانے کے لیے خودکار نظام متعارف کرایا جا رہا ہے جبکہ سست روی کا شکار منصوبوں سے فنڈز کو مکمل ہونے کے قریب اور غیر ملکی امداد یافتہ منصوبوں کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے جس کے لیے فنڈز کی دوبارہ منظوری اور تکنیکی اضافی گرانٹس فراہم کی جا رہی ہیں۔
آئی ایم ایف کی ڈائیگنوسٹک رپورٹ کے حوالے سے اویس منظور سمرہ نے کہا کہ فنڈ نے منصوبہ بندی کے عمل میں ترجیحات کی کمی تاخیر لاگت میں اضافہ اور فنڈز کے مؤثر استعمال میں ناکامی جیسے مسائل کی نشاندہی کی ہے۔
سینیٹر قرۃ العین مری نے زور دیا کہ کمیٹی کی سابقہ سفارشات کے مطابق نئے منصوبے شروع کرنے سے پہلے جاری منصوبوں کی تکمیل کو ترجیح دی جائے۔
اجلاس میں وزارت منصوبہ بندی نے کمیٹی کو انٹیلیجنٹ پروجیکٹ آٹومیشن سسٹم کے بارے میں بھی آگاہ کیا جس کا مقصد منصوبوں کی نگرانی بجٹ کی درست تیاری اور بروقت فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
علاوہ ازیں نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے کمیٹی کو سکھر حیدرآباد کراچی موٹروے ایم چھ اور کراچی کوئٹہ چمن روڈ این پچیس پر پیش رفت سے آگاہ کیا۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایم چھ منصوبے میں حیدرآباد سے سکھر تک پانچ حصے شامل ہیں جن میں نوشہروفیروز رانی پور اور رانی پور سکھر کے حصے پہلے مرحلے میں ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیے جائیں گے اور منصوبے کی منظوری ستمبر 2025 میں متوقع ہے۔
سینیٹر قرۃ العین مری نے ایم چھ منصوبے میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی کارکردگی پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کو حتمی شکل دینے کے لیے مزید چار ماہ کی توسیع قابل قبول نہیں ہوگی۔
واضع رہے کہ انہوں نے ہدایت دی کہ اکتوبر 2025 تک منصوبے پر کام شروع کیا جائے بصورت دیگر معاملہ ایوان بالا میں اٹھایا جائے گا اور اقتصادی امور ڈویژن اور دیگر متعلقہ اداروں کو آئندہ اجلاس میں طلب کرنے کی بھی ہدایت دی تاکہ منصوبے کی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ لی جا سکے۔