لاہور میں ملتان روڈ اور اطراف میں تین گھنٹے سے جاری موسلا دھار بارش کے باعث نشیبی علاقے تالاب کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ بارش کے بعد سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
بارش کو بلاشبہ “رحمت” کہا جاتا ہے لیکن موجودہ صورتحال میں یہ کسی عذاب سے کم نہیں۔ پہلے ہی پنجاب کے کئی علاقے سیلاب کی لپیٹ میں ہیں اور مزید بارشوں کے باعث دریاؤں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔
شہریوں نے شکوہ کیا ہے کہ سیلاب اور بارشوں کی تباہ کاریوں کا نشانہ ہمیشہ غریب آبادی بنتی ہے، اشرافیہ کے علاقے محفوظ رہتے ہیں۔ حکومت امداد کے نام پر بریانی کے ڈبے بانٹ کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو جاتی ہے۔
متاثرین کا کہنا تھا کہ انہیں پیشگی اطلاع دیے بغیر سیلاب کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ کئی خاندان برسوں سے بسے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں لیکن متبادل انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سیلابی علاقوں میں رہائشی سوسائٹیز بنانے پر پابندی لگائی جائے اور نکاسیٔ آب کے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ ہر بارش کے بعد عوام کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔