اسرائیلی فضائی حملے میں یمن کے دارالحکومت صنعاء میں حوثی باغیوں کی حکومت کے وزیراعظم احمد الرحاوی ہلاک ہوگئے۔
حوثیوں کے مطابق وہ اب تک کے سب سے سینئر عہدیدار ہیں جو اسرائیل اور امریکا کی مشترکہ کارروائیوں میں نشانہ بنے۔
بیان میں کہا گیا کہ احمد الرحاوی جمعرات کو ایک اجلاس کے دوران ہلاک ہوئے جہاں وزراء اور دیگر حکومتی اراکین اپنی کارکردگی کا جائزہ لے رہے تھے۔ اس حملے میں متعدد وزراء زخمی بھی ہوئے۔
اسرائیلی فوج نے بھی اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’’صنعا میں حوثی دہشتگرد حکومت کے ایک فوجی ہدف کو درستگی سے نشانہ بنایا گیا‘‘ اور اس میں الرحاوی سمیت دیگر اعلیٰ عہدیدار مارے گئے جو اسرائیل کے خلاف کارروائیوں میں ملوث تھے۔
الرحاوی کا تعلق جنوبی صوبہ ابین سے تھا اور وہ سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کے قریبی ساتھی رہے، تاہم 2014 میں حوثیوں کے اقتدار پر قبضے کے بعد ان کے ساتھ شامل ہوگئے۔ انہیں اگست 2024 میں وزیراعظم بنایا گیا۔

یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب حوثی رہنما عبدالملک الحوثی کی تقریر نشر کی جا رہی تھی، جس میں انہوں نے غزہ کی تازہ صورتحال پر بات کی اور اسرائیل کے خلاف ردعمل دینے کا اعلان کیا۔
حوثیوں کے مطابق یہ حملہ 24 اگست کو کیا گیا، تین روز بعد جب انہوں نے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل داغا تھا۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ پہلا کلسٹر بم میزائل تھا جو حوثیوں نے 2023 کے بعد داغا۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حوثیوں کے خلاف فضائی اور بحری کارروائیاں اس وقت شروع ہوئیں جب باغیوں نے غزہ جنگ کے دوران اسرائیل اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر میزائل و ڈرون حملے شروع کیے۔
ان حملوں نے عالمی تجارتی راستے کو بری طرح متاثر کیا ہے جس سے سالانہ کھربوں ڈالر کی تجارت گزرتی ہے۔
بین الاقوامی تجزیہ کار احمد ناجی نے اس ہلاکت کو حوثیوں کے لیے ’’سنگین دھچکا‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اب بنیادی ڈھانچے کے بجائے براہِ راست قیادت کو نشانہ بنا رہا ہے، جس سے ان کی کمانڈ اینڈ کنٹرول کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔
امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں میں اب تک درجنوں افراد مارے جاچکے ہیں۔ اپریل میں امریکی حملے میں صعدہ صوبے کی ایک جیل نشانہ بنی جس میں کم از کم 68 افریقی قیدی ہلاک اور 47 زخمی ہوئے۔