پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف چھ روزہ دورے پر چین پہنچ گئے ہیں جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ وزیراعظم اپنے وفد کے ہمراہ چین کے شہر تیانجن پہنچے جہاں اُن کا شاندار استقبال کیا گیا۔ یہ دورہ چار ستمبر تک جاری رہے گا۔
اس دوران وزیراعظم شہباز شریف چین کے صدر شی جنپنگ، وزیراعظم لی کیانگ اور دیگر رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔ پاکستان اور چین قریبی اسٹریٹجک اتحادی ہیں اور سی پیک کے دوسرے مرحلے میں صنعت کاری، زراعت، توانائی اور رابطے پر کام آگے بڑھا رہے ہیں۔
ایس سی او کے آئندہ سربراہی اجلاس، جو 31 اگست سے یکم ستمبر 2025 تک چین میں منعقد ہوگا، کے دوران پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان علیحدہ ملاقات کے امکانات غیر یقینی ہیں۔
ذرائع کے مطابق، دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ ملاقات کے لیے اب تک کوئی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی۔پاکستان اور انڈیا کے تعلقات مئی میں ہونے والی جنگ کے بعد سے کشیدہ ہیں، جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے رہنما ایس سی او جیسے پلیٹ فارمز پر دوطرفہ مذاکرات سے گریز کرتے ہیں۔

گزشتہ سال 2024 میں اسلام آباد میں ہونے والے ایس سی او اجلاس میں نریندر مودی نے شرکت نہیں کی تھی، اور انڈیا کی نمائندگی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کی، جنہوں نے واضح کیا تھا کہ وہ صرف ایس سی او ایجنڈے پر بات کریں گے۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے حال ہی میں کہا کہ پاکستان نے انڈیا کے ساتھ بات چیت کے لیے کسی تیسرے فریق کی ثالثی کی درخواست نہیں کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ علیحدہ ملاقات کے امکانات کم ہیں۔
تاہم، نریندر مودی 2025 کے اجلاس میں شرکت کررہے ہیں، تو غیر رسمی رابطے ممکن ہوسکتے ہیں، جیسا کہ 2024 میں جے شنکر اور ڈار کے درمیان مختصر بات چیت دیکھی گئی تھی۔
فی الحال، دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات اور ماضی کے تجربات کی روشنی میں، باضابطہ دوطرفہ ملاقات کا امکان کم نظر آتا ہے، الا یہ کہ کوئی غیر متوقع سفارتی پیش رفت ہو۔
روانگی سے قبل وزیراعظم نے ایکس پر لکھا کہ وہ چین کے تاریخی دورے پر روانہ ہو رہے ہیں اور تیانجن میں ایس سی او اجلاس میں شریک ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صدر شی جنپنگ اور دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقات کے منتظر ہیں تاکہ چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
Departing on a historic visit to China! Will participate in the SCO Council of Heads of State Meeting in Tianjin and attend the 80th anniversary of the victory over Fascism in WWII in Beijing. I look forward to meeting H.E. President Xi Jinping and other world leaders to further… pic.twitter.com/lCD5ewH2pE
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) August 30, 2025
چین طویل عرصے سے ایس سی او کو مغربی طاقتوں کے بلاکس کے مقابل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ اس تنظیم کے 10 رکن ممالک ہیں اور چین تعاون کو مزید بڑھانے پر زور دیتا رہا ہے۔
چین کے نائب وزیر خارجہ لیو بن کے مطابق انڈین وزیراعظم نریندر مودی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن سمیت 20 سے زائد غیر ملکی رہنما اجلاس میں شریک ہوں گے، جو تنظیم کے قیام کے بعد سب سے بڑا اجلاس قرار دیا جا رہا ہے۔
اس اجلاس میں بیلاروس، ایران، قازقستان، پاکستان، ترکی اور ویتنام سمیت رکن اور مہمان ممالک کے اہم رہنما بھی شرکت کر رہے ہیں۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقاتیں صدر شی جنپنگ اور وزیراعظم لی کیانگ کے ساتھ پاک چین دوطرفہ تعاون کے مختلف پہلوؤں پر مرکوز ہوں گی۔
چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق انڈین وزیراعظم نریندر مودی بھی تیانجن پہنچے جہاں اُن کا بھی پرتپاک خیر مقدم کیا گیا۔