اپریل 5, 2025 12:37 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

چینی بھائیوں کا شکریہ بنتا ہے

عامر خاکوانی
عامر خاکوانی
پاکستان میٹرز کے لیے عامر خاکوانی کی خصوصی تحریر (فوٹو: پاکستان میٹرز)

کالم لکھنے کا مقصد اپنے چینی بھائیوں، دوستوں کا شکریہ ادا کرنا، انہیں سلام محبت پیش کرنا ہے، مگر اس سے پہلے چند معروضات تو پیش کرنا بنتا ہے تاکہ بات اچھے طریقے سے سمجھ آ سکے۔ 

صاحبو ، ہمیں اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی سے کوئی کد یا ناراضی نہیں، اس کے فری ورژن سے فائدہ ہی اٹھا رہے ہیں۔ اچھی ، جامع معلومات دیتا ہے اور اس کے ساتھ کچھ سر کھپا لیا جائے تو ہماری ضروریات کو بہتر طریقے سے سمجھ جاتا ہے ۔

سچی بات ہے کہ میرے دل میں ڈیپ سیک اے آئی کے لئے بھی محبت کے چشمے نہیں ابل رہے۔ نیوٹرل سا معاملہ ہے۔ پہلے دن اس پر اکائونٹ ہی نہیں بنا سکا، جب بنایا تو اب مجھے چیٹ جی پی ٹی سے قدرے بہتر لگا کہ یہاں پر جتنے مرضی سوال پوچھ لو، یہ انکار نہیں کرتا، چیٹ جی پی ٹی کی طرح یہ نہیں کہتا کہ آپ کے سوالات کا کوٹہ ختم ہوگیا، اب چند گھنٹوں بعد رابطہ کریں۔ یہ بات مجھے ڈیپ سیک کی اچھی لگی۔ 

ویسے مجھے ڈیپ سیک یعنی اس کے اے آئی اسسٹنٹ کی یہ بات بھی اچھی لگی کہ وہ ہر جواب سے پہلے ایک مونولاگ یعنی خودکلامی کر کے بات سمجھنے کی کوشش کرتی ہے، یہ سب تیزی سے لکھا آتا ہے اور پھر اصل جواب سامنے آئے گا۔

چیٹ جی پی ٹی اور ڈیپ سیک میں اب آگے بڑھنے کی کشمکش ہوگی،ٹاپ پر آنے کے لئے دونوں کمپنیاں اپنی سرتوڑ کوشش کریں گی۔ سنا ہے کہ چینی کمپنی علی بابا نے بھی اپنا اے آئی اسسٹنٹ لانچ کر دیا ہے جو شائد چیٹ جی پی ٹی اور ڈیپ سیک سے بھی بہتر ہوگا۔ 

یہ سب لڑائیاں اپنی جگہ مگر میں چینی بھائیوں کا اس لئے شکرگزار اور ممنوں ہوں کہ انہوں نے ایک کرشمہ تخلیق کیا، ایک نئی امید جگائی، حوصلہ پیدا کیا ہے۔ 

چینی ماہرین نے یہ ثابت کیا ہے کہ آگے بڑھنے کے لئے ضروری نہیں کہ اربوں کھربوں ڈالر کا عظیم الشان انفراسٹرکچر اور بے پناہ مالی وسائل ہوں، دنیا کی جدید ترین امریکی کمپنیوں کی سپورٹ ہو اور مغرب کی چکاچوند کر دینے والی ٹیکنالوجی کا جادو شامل ہو۔ 

چینی کمپنی ڈیپ سیک کا اصل کارنامہ یہی ہے کہ انہوں نے یہ دکھا دیا ہے کہ اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی جیسےمیگا سٹرکچر، بے تہاشا وسائل اور نیوڈا کمپنی جیسے جدید ترین چپس کے بغیر بھی کام کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے آج کی بے رحم، سفاک اور سیاہ دنیا میں ہمیں بتلایا اور سکھایا ہے کہ کمزور بھی جنگ جیت سکتا ہے۔ 

آج کل ہمارے ہاں سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ موٹیویشنل سپیکرز سے اس لئے نالاں رہتے ہیں کہ ان کے خیال میں وہ خواب بیچتے ہیں، فرضی، خیالی کامیابی کی کہانیاں سناتے اور کمزوروں کو جیت جانے کی راہ دکھاتے ہیں۔ ہمارے یہ پریکٹیکل لوگ اس پر بڑے نالاں اور برہم ہوتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ عقلمند آدمی وہی ہے جو طاقتور ترین آدمی کی طاقت سے مرعوب ہو کر ہار مان لے، اس کے آگے کھڑا ہونے کا خیال بھی دل میں نہ لے آئے اور پوری فرماں برداری کے ساتھ اوسط درجے کی زندگی گزارتا رہے۔ 

جو موٹیویشنل سپیکر اس کے برعکس باتیں بتاتے ، مختلف کامیابی کی داستانیں سناتے ہیں ان سب پر ہمارے یہ پریکٹیکل، روشن خیال ، سمجھدار، زیرک لوگ ناراض اور ناخوش ہیں۔ اسی لئے یہ وقتاً فوقتاً ان موٹیویشنل سپیکرز کو بے بھائو کی سناتے رہتے ہیں۔ 

سچی بات تو یہ ہے کہ چین نے بھی موٹیویشنل سپیکر والا کام کیا، فرق صرف یہ ہے کہ انہوں نے باتیں نہیں کیں، عمل بھی کر کے دکھایا۔ انہوں نے ایک بڑی زبردست، ہلا دینے والی شاک ویو مغرب کے اعلیٰ ترین، طاقتور ترین بزنس سرکلز میں انجیکٹ کر دی ہے ۔ 

تاریخ ہمیں ویسے اس طرح کی کئی کہانیاں سناتی ہے۔ تاریخ عالم میں ایسے کئی جتھے، گروہ اٹھے جو اپنے سے کئی گنا زیادہ بڑے طاقتور لشکروں سے ٹکرا گئے اور فتح پا لی۔ مغلیہ سلطنت کے بانی بابر کے بارے میں یہی کہا جاتا ہے کہ وہ چند ہزار کا لشکر لے کر آیا اور ابراہیم لودھی کے ایک لاکھ کے لشکر کی سوشل میڈیائی محاورے کے مطابق بینڈ بجا دی۔ بہادری اور جرات تو خیر ہوگی ہی ، مگر فرق شائد بابر کی جنگی چالوں اور بہتر عسکری ٹیکنالوجی کا بھی تھا۔ 

زمانے بدل گئے، دستور تبدیل ہوئے۔عہد حاضر میں جدید ٹیکنالوجی اور جدید وسائل کا ارتکاز چند ہاتھوں میں کچھ اس طرح ہوا کہ مغرب اور خاص کر امریکہ نے بڑی فیصلہ کن برتری حاصل کر لی ۔ گیپ اتنا زیادہ بڑھ گیا کہ کوئی ہوشمند شائد اسے پاٹنے کا، کم کرنے اور آگے نکل جانے کا سوچے ہی ناں۔ مجھے ازخود خوشی ہے کہ چینیوں میں ایسے ّّپریکٹیکل ٗٗ اور نپی تلی ّّہوشمندیٗٗ والے کم ہیں، خواب دیکھنے، کرشمہ تخلیق کرنے، اپنے فن کا جادو جگانے اور ناممکن کو ممکن بنانے والے لوگ موجود ہیں۔ 

کئی سال پہلے ایک برطانوی ادیب کا لیکچر کی تفصیل پڑھی۔ اس نے بتایا کہ چینیوں نے نائن الیون کے دو تین سال بعد اپنے ماہرین کی ایک ٹیم مغربی ممالک میں بھیجی جس نے طویل سٹڈی کے بعد بتایا کہ چینی بچوں کو فینٹسی پر مبنی کہانیاں پڑھنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد چینی سکولوں کے نصاب میں باقاعدہ طور پر سپر ہیروز والی کہانیاں ڈالی گئیں، فیری ٹیلز پڑھنے کی عادت بنائی گئی کیونکہ ان کہانیوں سے بچے یہ سیکھتے ہیں کہ طاقتور ترین کو بھی شکست دی جا سکتی ہے اور کچھ نیا، کچھ انوکھا، کچھ اچھوتا تخلیق ہوسکتا ہے جس سے جن اور دیو کو شکست ہو، پری کو رہا کرایا جا سکے اور کمزور کی جیت ہو۔ 

چینی کمپنیوں ڈیپ سیک، علی بابا اور دیگر کی حالیہ خیرہ کن کامیابیاں یہ بتاتی ہیں کہ پچھلے پندرہ برسوں میں چینی ماہرین نے اپنی نئی نسل کو آوٹ آف باکس تھنکنگ کی عادت ڈال دی۔ وہ مروجہ سیٹ پیمانے سے باہر نکل کر سوچنے اور کچھ کر گزرنے کے قائل اور عادی ہوچکے ۔ 

چین کا اصل کارنامہ یہ ہے۔ 

اس بے رحم دنیا میں جہاں ظلم اور جبر ہے، کھلا اورننگا استحصال ہے، جہاں ظالم کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہیں۔ جہاں اصول، ضابطے ، قوانین، دستور اب صرف ظالم اور طاقتور بناتا ہے۔ 

جس دنیا میں ضمیر نام کی کوئی چیز نہیں رہی، جہاں درندگی، بربریت اور ظلم کو روا رکھا جانے لگا ہے۔ جو ڈونلڈ ٹرمپ کی دنیا ہے۔ جہاں صرف خود غرضی، اپنی قوم کا مفاد دیکھنا اور صرف اپنے آپ کو ہی جتوانا درست اور جائز سمجھا جا رہا ہے۔ وہاں پر ہمیں ، اس دنیا کو چینیوں جیسی سوچ، ہمت اور جرات کی ضرورت ہے۔ 

جہاں ہم اپنی آنکھوں کے سامنے طاقتور تنظیموںکو ٹوٹتے تباہ ہوتے، بہادر شہ سواروں کو گھائل ہو کر گرتے ، دلیر اور زیرک کمانڈروں کو سربلند ہو کر دنیا سے رخصت ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ جہاں زخموں سے چور چور شیردل کے پاس صرف ایک ٹوٹی چھڑی بچی جس سے اس نے حملہ آور گدھ پر اپنا آخری وار کر کے آنکھیں موند لیں۔ 

اسی دنیا میں جہاں کمزور، زیردست اور بے وسائل لوگوں کو فاتحین اور ان کے گماشتے یہ سبق سکھا رہے کہ بے غیرتی کا دوسرا نام پریکٹکل بننا اور بے شرمی، بے حیائی اور بزدلی دراصل ہوشیاری اور سمجھداری ہے ۔ 

جہاں کمزوروں کو یہ درس دیا جا رہا کہ وہ طاقتوروں کے آگے سجدہ ریز ہوجائیں، انہیں سات سلام پیش کریں اور خلعت فاخرہ پا کر اترائیں۔

وہاں پر، اسی ظالم اور نا انصاف دنیا میں ایک چینی کمپنی بدرجہا کمتر وسائل کے ساتھ کچھ غیرمعمولی کر دکھائے۔ وہ جائنٹ کمپنیوں کو شرمسار کر ڈالے ۔ انہیں خجالت اور ندامت سے دوچار کرے ۔ تب اس چینی کمپنی کو، ان کے ماہرین کو خراج تحسین پیش کرنا بنتا ہے۔ سلام محبت بھیجنا فرض ہے۔ 

ممکن ہے دیو ہیکل کمپنی اوپن اے آئی پھر سے چیٹ جی پی ٹی کو اٹھا لے ، برتری لے لے، ممکن ہے امریکا اور مغرب اپنی بے پناہ قوت کے بل بوتے پر چینی کمپنیوں کو پسپا کر دیں، پیچھے دھکیل دیں۔ جو کام مگر انہوں نے کر دکھایا ہے، وہ کم اور معمولی نہیں۔ اس کا شکریہ بنتا ہے۔ 

ہمیں مرعوبیت کی غلام دنیا سے انہوں نے چند لمحوں کے لئے ہی سہی، باہر تو نکالا ہے۔ اس اندھیر کوٹھری میں امید کی کرن تو جگائی۔ آہنی مضبوط دیوار میں ایک روزن تو بنایا جہاں سے تازہ ہوا کا جھونکا آیا ہے۔ اللہ نے چاہا تو ایسے بہت سے خوشگوار، دل خوش کن مناظر اب دیکھنے کو ملیں گے۔ 

میں عامر خاکوانی، ایک ہیچ ، بے مایہ قلم کار اس پورے منظرنامے کو اس نظر سے دیکھتا ہوں۔ 

پاکستان میٹرز کے قارئین کو آداب، سلام محبت۔ انہی پیجز پر ان شااللہ ہفتہ وار حاضری لگاتے رہیں گے۔ یاران کہن کے ساتھ محفل بھی سجائیں گے، نئے دوستوں کا بھی خیر مقدم ۔

عامر خاکوانی پاکستانی صحافی ہیں۔ وہ متعدد اشاعتی اداروں سے وابستہ رہے ہیں۔ اخبارات میں کالم نویسی کے بعد اب ڈیجیٹل بلیٹ فارمز پر بلاگ لکھتے ہیں۔ مشکل سے مشکل موضوع کو دلچسپ پیرائے اور عام فہم انداز میں قاری تک پہنچانے میں انہیں خصوصی ملکہ حاصل ہے۔

عامر خاکوانی

عامر خاکوانی

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس