ترجمان نے مزید کہا کہ امریکی بحری جارحیت، جسے امریکہ بحری ناکہ بندی قرار دیتا ہے، کے خاتمے اور ایران کے منجمد مالی اثاثوں پر عائد پابندیوں کے خاتمے جیسے معاملات اس یادداشت کا اہم حصہ ہیں۔

ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق اسماعیل بقائی نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں بتایا کہ پاکستانی وفد گزشتہ رات ایران پہنچا۔

اس سے قبل پاکستانی وزیرِ داخلہ بھی چند روز سے ایران میں موجود تھے۔ ان کے مطابق پاکستان، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کا مرکزی محور ہے اور گزشتہ چند ہفتوں میں اس نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس دورے کا مقصد ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات کے تبادلے کے سلسلے کو آگے بڑھانا تھا۔

بقائی کے مطابق اس وقت ایران کی توجہ مسلط کردہ جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے، جو اسلامی جمہوریہ ایران کی 14 نکاتی تجویز کی بنیاد پر آگے بڑھ رہی ہے۔ یہ تجویز فریقین کے درمیان متعدد بار تبادلے کے بعد اب حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس تجویز کی مختلف شقوں پر فریقین نے اپنے اپنے مؤقف کا تبادلہ کیا ہے اور گزشتہ چند دنوں میں بعض نکات اور الفاظ پر اختلافات کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔

ترجمان کے مطابق اس سلسلے میں نئی تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں، جن میں سے کچھ پر ابھی غور جاری ہے، جبکہ فریقین اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔