ملیر ہالٹ سے لے کر نمائش چورنگی تک بننے والے اس پروجیکٹ کا ابتدائی طور پر لاگت کا تخمینہ 79 ارب روپے تھا جو موجودہ ایکسچینج ریٹ کے مطابق 139 ارب روپے تک جا پہنچا ہے۔ اس پروجیکٹ کو ایک پرائیوٹ کمپنی ماس ٹرانزٹ بنا رہی ہے۔ دنیا بھر میں جب بھی کسی منصوبے کا آغاز کیا جاتا ہے تو اس کےمتبادل روٹس فرایم کیے جاتے ہیں تاکہ عوام کو کسی پریشانی کا سامنہ نہ کرنا پڑے مگر اس پروجیکٹ کی وجہ سے لوگ منٹوں کا فاصلہ گھنٹوں میں طے کرنے پر مجبور ہیں، یونیورسٹی روڈ پر کراچی کی دو سرکاری جامعات کراچی یونیورسٹی اور جامعہ اردو بھی موجود ہیں جبکہ گلشن اقبال ، گلستان جوہر اور اسکیم 33 میں رہنے والے شہریوں کا گزر بھی اسی روڈ سے ہوتا ہے جو لاکھوں کی تعداد میں روزانہ سفر کرتے ہیں۔
کراچی کے انفراسکٹریکچر کو بہتر طور پر جاننے والے ڈیموگرافر اور اربن پلینر عارف حسن کو بے آر ٹی ریڈلائن پروجیکٹ میں پلینگ کا شدید فقدان نظر آتا ہے ان کی رائے میں بی آر ٹیز بڑی تعداد میں لوگوں کو فائدہ نہیں دے سکیں گی جبکہ ہر روٹ پر بڑی بسوں کو لاکر سفر کی بہتر سہولیات فراہم کی جاسکتی تھی۔
2001 سے 2005 پرشہری ٹرانسپورٹ کے شعبے سے وابستہ رہنے والے قاضی صدر الدین سمجھتے ہیں کہ بی آر ٹی گرین لائن کا منصوبہ بھی نامکمل ہے اس ٹریک پر اب بھی ٹریفک کے مسائل موجود ہیں جبکہ اسی دوران خطیر رقم سے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر شروع کردی اور لوگوں کو متبادل راستہ فراہم نہیں کیا گیا کچھ سوچے سمجھے بغیر یہ پروجیکٹ بنایا جارہا ہے جو کہ کسی طور بھی وائبل نہیں ہے۔
اس پروجیکٹ کی تعمیر کا بڑاحصہ گلشن اقبال میں ہے ٹاؤن چیئرمین ڈاکٹر فواد احمد کہتے ہیں کہ گلشن اقبال کے رہائشی بالخصوص اس سے سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں مین یونیورسٹی روڈ اس وقت ایک پتلی گلی میں تبدیل ہوگئی ہے تعمیرات کے دوران کئی دفعہ پانی کی لائن بھی ڈیمج ہوئی جس کے سبب رہائشی کئی دنوں تک پا نی کی فراہمی سے محروم رہے۔
عارف حسن سمجھتے ہیں کہ حکومت کی ترجیح عوام نہیں ہے جبھی اس پروجیکٹ کو اب تک مکمل نہیں گیا ہے۔
قاضی صدرالدین کی رائے میں ماضی میں شہریوں کو گرین لائن کا تحفہ دیا گیا تھا جو کہ ایک مؤثر پلاننگ کا نتیجہ تھا اس وقت سارا مسئلہ عدم حکمت عملی کا ہےجو کہ کہیں بھی نظر نہیں آتی۔
میئر کراچی پہلے ہی کچھ تکنیکی مسائل کو وجہ بنا کر یہ بات کہہ چکے ہیں کہ یہ پروجیکٹ مزید دو سال تاخیر کا شکار ہوچکا ہے۔ ہمارے ذرائع کے مطابق ایک طرف ڈالر ریٹ کا بڑھ جانا اس پروجیکٹ میں تاخیر کی وجہ ہے جبکہ دوسرا اہم مسئلہ شہری اداروں اور ماس ٹرانسزرٹ کے درمیان ورکنگ ریلیشن نہ ہونا ہے جس کی وجہ سے کراچی کے لاکھوں شہری اذیت کا شکار ہورہے ہیں۔
ٹیکنالوجی کے دور میں اب آپ کو کئی بار اپنے لیپ ٹاپ اور موبائل فون استعمال کرنے کی ضرورت پیش آتی ہےپاور بینک اس کا حل ہے مگر بجلی نہ ہو توپاور بینک بھی ساتھ چھوڑ جاتا ہے۔
کراچی کے نوجوان غلام مصطفی نے اس مسئلے کا حل نکال لیا ہے آئیے انہیں کی زبانی جانتے ہیں۔