اپریل 5, 2025 12:33 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

ابن مریم ہوا کرے کوئی، مرے دکھ کی دوا کرے کوئی

شعیب ہاشمی
شعیب ہاشمی

ایک ہاتھ میں ببل اور ایک ہاتھ میں پیسے دبائے بوسیدہ سے کپڑے پہنے سات سال کا یہ بچہ کراچی میں ایک بس ٹرمینل پر ‘ببل’ بیچ رہا تھا۔

میں نے انتظار کے لمحوں میں شاید وقت دیکھا ہوگا، گھڑی کا ڈائل جگمگایا ہوگا۔ بچے کے لیے شاید یہ نیا سا تجربہ اور اضطراری فعل ہوگا، مجھے احساس تب ہوا جب بچہ اچانک میری کلائی سے بندھی گھڑی سے کھیلنے لگا۔

میں ایک لمحے کے لیے سٹپٹایا لیکن پھر بچے کو حیرت سے گھڑی سے کھیلتے دیکھ کر اپنی کلائی بچے کے حوالے کر دی اور وہ کتنی ہی دیر دنیا و مافیا سے بے خبر گھڑی میں مگن رہا۔ (ویڈیو بنانے کا خیال بہت بعد میں آیا) اور کچھ پل کو ہی سہی، بھول گیا کہ وہ کون ہے، کہاں سے اور کیوں آیا ہے۔

ببل اُس کے ہاتھ میں تھی لیکن وہ گھڑی سے کھیل رہا تھا۔ خیر کچھ دیر میں ہی اسے ویڈیو بننے کا احساس ہوا۔

پہلے اس نے پھر ببل بیچنا چاہی لیکن پھر موبائل سکرین میں اپنی کی تصویر دیکھ کر ایک مرتبہ پھر بہل گیا۔ جب تک سوالات اور ویڈیو کا سلسلہ چلا، بچہ تذبذب کا شکار ہی رہا۔ مجبوری اور ذمہ داری ببل بیچنے پر قائل کرتی اور اندر کی معصومیت موبائل سکرین پر خود کو دیکھ کر شاداں ہوئے جاتی۔

7 سال کا بچہ، قسم سے دل کٹ سا گیا.. اس کی معصومیت، بے خودی، تجسّس، حالت زار تھی کہ کچوکے لگائے جا رہی تھی۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Shoaib Hashmi (@link2shoaib)


بچے کہیں کے بھی ہوں، معصوم ہوتے ہیں. دو مرتبہ باپ کا پوچھا لیکن اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ ماں نے جانے کن حالات میں ننھی سے جان کو بس اڈوں کی سفاک دنیا میں جھونک دیا ہوگا.

دنیا میں ویسے تو جانے کتنی ہی مائیں حالات سے مجبور ہوکر ایسا کرتی ہوں گی.. میں نے خود 17 سال کی عمر سے نوکری شروع کی اور سخت حالات رہے، یہ تو فقط 7 سال کا ہے.. کھیلنے کودنے کی عمر میں دو وقت کی روٹی پوری کرنا زندگی کا مشن ہے۔

شاید یہ قطعہ انہی بچوں کے بارے میں ہے کہ

مجھ سے کیا پوچھتے ہو میری کہانی صاحب
ہوں فقط جھیل میں ٹھہرا ہوا پانی صاحب
میں نے بچپن میں بڑھاپے میں قدم رکھا ہے
میں نے دیکھی ہی نہیں اپنی جوانی صاحب

طویل عرصے سے میڈیا ریلیشننگ کے شعبے سے وابستہ شعیب ہاشمی گاہے پروفیشنل تقاضوں اور گاہے دلچسپی کی وجہ سے سفر میں رہتے ہیں۔ زندگی کے مختلف رنگ جب ان کے دل کے تار چھیڑیں تو وہ انہیں لفظوں میں بدل کر دوسروں دلوں پر دستک دینے لگتے ہیں۔

شعیب ہاشمی

شعیب ہاشمی

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس