یورپی کمیشن کے مطابق یہ عبوری حکم اس بنیاد پر جاری کیا گیا ہے کہ اگر فوری طور پر مداخلت نہ کی گئی تو اے آئی مارکیٹ میں مسابقت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ کمیشن نے میٹا کو ہدایت کی ہے کہ وہ اکتوبر 2025 سے پہلے موجود شرائط کے مطابق تمام تھرڈ پارٹی اے آئی فراہم کنندگان کو واٹس ایپ بزنس اے پی آئی تک رسائی دے، اور اس حکم پر پانچ ورکنگ دنوں کے اندر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

رپورٹس کے مطابق معاملہ اس وقت شروع ہوا جب میٹا پلیٹ فارمز نے اپنی پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے عمومی نوعیت کے اے آئی معاونین کو واٹس ایپ بزنس اے پی آئی استعمال کرنے سے روک دیا تھا، جنوری 2026 میں یہ پالیسی نافذ العمل ہوئی، جس کے نتیجے میں صرف میٹا کا اپنا اے آئی معاون ہی پلیٹ فارم کے ذریعے صارفین تک رسائی حاصل کر سکا۔

واٹس ایپ بزنس اے پی آئی دراصل کمپنیوں کو اپنے سسٹمز کو واٹس ایپ سے منسلک کرنے اور صارفین کے ساتھ براہِ راست رابطہ قائم کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ یورپی ریگولیٹرز کا مؤقف ہے کہ اس پالیسی تبدیلی کے ذریعے میٹا نے اپنے حریفوں کو غیر منصفانہ طور پر مارکیٹ سے باہر کرنے کی کوشش کی۔

یورپی کمیشن کے مطابق متعدد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اس فیصلے سے براہِ راست نقصان پہنچا۔ اوپن اے آئی نے اپنے صارفین کو واٹس ایپ سے اپنی ایپلیکیشن پر منتقل ہونے کی ہدایت کی، جبکہ مائیکروسافٹ نے بھی عندیہ دیا کہ ان کا اے آئی معاون “کوپائلٹ” واٹس ایپ پر دستیاب نہیں رہے گا۔

 میٹا نے مارچ 2026 میں حریف اے آئی سروسز کو محدود بنیادوں پر واٹس ایپ پر واپس آنے کی اجازت دی، تاہم اس کے لیے فیس عائد کی گئی جسے یورپی کمیشن نے غیر معمولی طور پر زیادہ اور مسابقت کے خلاف قرار دیا ہے۔

یورپی یونین کی جانب سے یہ اقدام ایک نایاب “عبوری حکم” کے تحت کیا گیا ہے، جس کا مقصد حتمی فیصلے سے قبل مارکیٹ میں کسی بھی ممکنہ اجارہ داری یا غیر منصفانہ فائدے کو روکنا ہے۔ ریگولیٹرز کا کہنا ہے کہ اے آئی انڈسٹری تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مارکیٹ میں مقابلہ مکمل طور پر متاثر ہو سکتا ہے۔

یورپی کمیشن نے واضح کیا ہے کہ یہ فیصلہ حتمی قانونی نتیجہ نہیں ہے، تاہم اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہوا کہ میٹا نے یورپی مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے تو کمپنی کو اپنی عالمی سالانہ آمدنی کے 10 فیصد تک بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: کینیڈا کا  اے آئی فار آل  پروگرام: 2.5 لاکھ ملازمتوں اور کروڑوں ڈالر کے ٹیک فنڈز کا فیصلہ

دوسری جانب میٹا پلیٹ فارمز نے یورپی کمیشن کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے اسے “ریگولیٹری حد سے تجاوز” قرار دیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ بزنس سروس ایک پریمیم انفراسٹرکچر ہے اور اس تک مفت رسائی دینے سے سروس کے معیار اور معاشی ماڈل کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

میٹا کے ترجمان کے مطابق اگر بڑی اے آئی کمپنیاں واٹس ایپ کے ذریعے مفت رسائی حاصل کریں گی تو اس کا بوجھ بالآخر یورپی کاروباری صارفین پر پڑے گا جو پہلے ہی اس پلیٹ فارم کی خدمات کے لیے ادائیگی کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف میٹا اور دیگر ٹیک کمپنیوں کے درمیان مسابقتی ماحول کو متاثر کرے گا بلکہ مستقبل میں یورپ میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور اے آئی ٹیکنالوجی کی ریگولیشن کے لیے بھی ایک اہم مثال بن سکتا ہے۔

یورپی صارفین کے لیے اس فیصلے کے براہِ راست اثرات محدود ہوں گے، تاہم اگر حریف اے آئی معاونین دوبارہ واٹس ایپ پر واپس آتے ہیں تو صارفین کو ایک ہی پلیٹ فارم پر زیادہ متبادل اے آئی سہولیات دستیاب ہو سکتی ہیں۔