رپورٹس کے مطابق معاہدے کے تحت امریکا ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کرے گا، جب کہ ایران آبنائے ہرمز سے تجارتی بحری جہازوں کی محفوظ اور بلا رکاوٹ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے گا۔
White House Denies ‘Leaked‘ Text of Iran Deal: ‘Does Not Reflect‘ Agreement https://t.co/K0urGysRXq via @BreitbartNews
— Harry (@harrytpk) June 17, 2026
جوہری پروگرام سے متعلق شقیں تاحال مکمل طور پر واضح نہیں ہیں۔ معاہدے کے تحت تہران ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کرے گا کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا، تاہم ایران ماضی میں بھی کئی بار ایسا وعدہ کر چکا ہے۔ دستاویز کے مطابق دیگر جوہری معاملات کو مستقبل میں ہونے والے حتمی معاہدے میں طے کیا جائے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ ایران پر بین الاقوامی پابندیاں برقرار رہیں گی، تاہم امریکا معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد ایرانی تیل کی برآمدات کے لیے استثنیٰ جاری کرے گا۔ اس کے علاوہ مذاکرات میں پیش رفت کے ساتھ ایران کے اربوں ڈالر مالیت کے منجمد اثاثے بھی مرحلہ وار بحال کیے جائیں گے۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکا میں بی بی سی کے شراکت دار ادارے سی بی ایس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا متن کم از کم جمعے کی صبح تک جاری کر دیا جائے گا۔
جے ڈی وینس کے مطابق قطر اور پاکستان کے مذاکرات کاروں نے فی الحال مکمل متن جاری نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ معاہدے کا متن آج ہی جاری کر دیا جائے کیونکہ ہم امریکی عوام کو بتانا چاہتے ہیں کہ اس معاہدے میں کیا شامل ہے۔
امریکی نائب صدر نے دعویٰ کیا کہ یہ معاہدہ امریکی عوام کے لیے ایک اچھا معاہدہ ہے۔
واضح رہے کہ سی این این کی جانب سے شائع کردہ متن اس دستاویز سے کافی حد تک مماثلت رکھتا ہے جو اس سے قبل بلومبرگ نے شائع کی تھی۔ اگرچہ یہ ضروری نہیں کہ یہی حتمی متن ہو جس پر جمعے کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط کیے جائیں گے، تاہم اس سے مجوزہ معاہدے کے کئی اہم نکات سامنے آئے ہیں۔






