واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے ان خبروں کی تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں ایران کے لیے 300 ارب ڈالر کے تعمیرِ نو یا مالیاتی فنڈ کی شق شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کو ایک پیسہ بھی ادا نہیں کرے گا اور اگر ایران کو کسی قسم کی مالی سہولت یا معاشی فائدہ حاصل ہوتا ہے تو وہ صرف اسی صورت ممکن ہوگا جب تہران معاہدے کی تمام شرائط پر مکمل عمل کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ خلیجی عرب ریاستیں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی مفاہمت کا خیر مقدم کر رہی ہیں اور اسے خطے کے لیے ایک انقلابی پیش رفت قرار دے رہی ہیں۔ معاہدے کے تکنیکی اور عملی پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے 60 روزہ مدت کا آغاز ہو چکا ہے۔
جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے باعث ایران مستقبل قریب میں جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت سے محروم ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کی خواہش ہے کہ ایران نہ صرف جوہری ہتھیاروں سے دور رہے بلکہ خطے میں دہشت گرد گروہوں کی معاونت بھی ترک کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اگر مستقبل میں اپنا جوہری پروگرام دوبارہ فعال کرنا چاہے تو اسے اس کے لیے بہت بڑی مالی سرمایہ کاری درکار ہوگی کیونکہ امریکا نے ایران کے جوہری ڈھانچے کے اربوں ڈالر مالیت کے حصے تباہ کر دیے ہیں۔
امریکی نائب صدر نے دعویٰ کیا کہ معاہدے کے ابتدائی اثرات عالمی معیشت اور امریکی عوام پر پہلے ہی ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد آبنائے ہرمز کے ذریعے تقریباً 12.5 ملین بیرل تیل کی ترسیل ہو چکی ہے جب کہ تیل کی عالمی قیمتوں میں بھی استحکام دیکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی جہاز کو نشانہ نہیں بنایا جب کہ امریکا نے اپنی بحری ناکہ بندی کے باوجود تقریباً ایک درجن تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کو محصولات اور رکاوٹوں سے پاک ہونا چاہیے اور امریکا نہیں چاہتا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ عالمی معیشت کے خلاف دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جائے۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا معاہدہ؛ ٹرمپ اور پزشکیان کے بعد شہباز شریف کے مفاہمتی یادداشت پر بطور ثالث دستخط
ان کا کہنا تھا کہ مستقبل کے حتمی معاہدے میں خلیجی ریاستوں کے تعاون سے آبنائے ہرمز کے لیے ایک جامع سکیورٹی فریم ورک تشکیل دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے اندر اس وقت مستقبل کی حکمت عملی کے حوالے سے حقیقی اختلافات موجود ہیں تاہم امریکا کا خیال ہے کہ تہران میں نسبتاً عملی سوچ رکھنے والے عناصر مضبوط ہو رہے ہیں، جو خطے میں استحکام کے لیے مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے۔
اسرائیل اور لبنان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا اسرائیل کے حقِ دفاعِ خود کو تسلیم کرتا ہے، تاہم تمام فریقین کو امن عمل کے تحفظ کی ذمہ داری بھی نبھانی ہوگی۔
انہوں نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے رہائشی علاقے میں اسرائیلی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب معاہدے میں اہم پیش رفت ہو رہی تھی تو ایسے حملوں نے مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچانے کا خطرہ پیدا کر دیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اسرائیل کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور ایک ایسے علاقائی فریم ورک کی تشکیل چاہتا ہے جو حزب اللہ تک مالی معاونت کی رسائی روکنے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مدد دے۔
ایک سوال کے جواب میں جے ڈی وینس نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے حوالے سے میڈیا میں آنے والی بعض رپورٹس ان کی ذاتی گفتگو کی عکاسی نہیں کرتیں، تاہم اسرائیلی کابینہ کے بعض ارکان کی جانب سے معاہدے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید باعثِ تشویش ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ اس وقت دنیا کے ان چند رہنماؤں میں شامل ہیں جو اسرائیل کے سکیورٹی خدشات کو سنجیدگی سے سمجھتے ہیں اور ان کا مقصد خطے میں ایک ایسا پائیدار امن قائم کرنا ہے جس سے تمام فریق فائدہ اٹھا سکیں۔
امریکی نائب صدر نے بتایا کہ وہ ایران کے ساتھ آئندہ مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ میں متوقع مذاکراتی دور کے شیڈول پر ابھی کام جاری ہے اور دونوں ممالک کے نمائندوں کی دستیابی کے مطابق آئندہ ملاقاتوں کی تاریخوں کا تعین کیا جائے گا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ مفاہمتی یادداشت کے بعد شروع ہونے والے مذاکرات خطے میں دیرپا استحکام، جوہری تنازع کے حل اور اقتصادی تعاون کے نئے امکانات پیدا کریں گے۔






