امریکی صدر ٹرمپ کے حلف اٹھانے کے بعد عالمی منظر نامے میں کشیدگی مزید بڑھتی جا رہی ہے، گزشتہ دنوں وائٹ ہاؤس نے بیان جاری کیا ہے کہ امریکا جنگ سے تباہ حال غزہ کی پٹی پر قبضہ کرے گا اور فلسطینیوں کو پڑوسی ممالک میں بےدخل کرنے کے بعد اسے ترقی دے گا تا کہ دنیا کے لوگ وہاں آباد ہوں۔
پاکستان میٹرز سے بات کرتے ہوئے لمزکے براڈکاسٹ ہیڈ مدثر شیخ نے کہا کہ “اگر دنیا میں امن قائم ہو جائے تو امریکیوں کی جیب کیسے گرم ہو گی،امریکہ اپنے ہتھیار بیچنے کے لیے یہ سارے اقدامات کرتا رہتا ہے، پچھلے 20 برسوں میں امریکہ نے افغانستان کو میدان جنگ بنائے رکھا”۔
انہوں نے مزید کہا ” فلسطینوں نے اس زمین کے لیے 46ہزارجانیں قربان کی ہیں اگر ٹرمپ سمجھتا ہے کہ فلسطینی اپنے گھر چھوڑ کر چلے جائیں گے تو ہم نئی عمارتیں تعمیرکردیں گے تو یہ اس کی سب سے بڑی حماقت ہے”۔
تجزیہ کار ڈاکٹر اسامہ ضیا نے کہا کہ “ٹرمپ کا بیان اس وقت آیا ہے جب عالمی طاقتوں نے منہ کی کھائی ہے، اگرعالمی طاقتوں کی اتنی بڑی شکست کے بعد بھی ٹرمپ اس طرح کی بات کرتا ہے تو بیوقوفانہ بات ہے‘‘۔
انہوں نے کہا کہ ’’جس طرح ٹرمپ نے میکسیکواورکینیڈا پرٹیرف لگانے کی دھمکی دی ہے جو کہ ایک سٹریٹیجک کے علاوہ کچھ نہیں اپنے کچھ مطالبات ٹرمپ منوائے گا اور چھپ ہو جائے گا غزہ کے حوالے سے بھی ٹرمپ کے بیان اسی طرح مضحکہ خیز ہے”.
’’ٹرمپ جو بھی قدم اٹھاتا ہے وہ امریکہ کی پالیسی کے مطابق ہوتا ہے یہ نہیں ہے کہ یہ پالیساں ٹرمپ کی بنائی ہوئی ہیں چاہے وہ کینیڈا اور میکسیکو کو ٹیرف لگانے کی دھمکی ہو یا غزہ کے حوالے سے ہوں لیکن یہ مختصر وقت کے لیے اپنے مطالبات منوانے کے لیے دھمکیاں ہو سکتی ہیں لیکن اس کا مستقل دارومدار نہیں ہے”.
مدثرشیخ نے کہا کہ “پوری دنیا نے اسرائیل کی مخالفت کی ہے، امریکہ کے شہر اس کی سب سے بڑی مثال ہے جہاں امریکن نے اپنی حکومت اور اسرائیل کے خلاف کئی مظاہرے کیے ہیں، اگر ٹرمپ فلسطین کے حوالے سے کوئی حماقت کرے گا تو اسے بہت بڑی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا”۔
اس مسئلے پر پاکستان کے ردعمل کے بارے میں انہوں نے کہا کہ “پاکستانی حکومت نہ کھل کرامریکہ کی حمایت کر سکتا ہے اورنہ فلسطین کی، اگر حکومت امریکہ کے حق میں کچھ پالیسی بنانے کی کوشش بھی کرے گی تو اسے عوام کے بہت بڑے ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان کی اکانومی کا دارومدار بہت زیادہ امریکہ سے تعلقات پر منحصر ہے کیونکہ پاکستان میں امریکہ کی چیزوں کی درآمدات کے علاوہ بھی دوسروں ممالک سے معاہدے امریکہ کی پالیسی کے مطابق کرنا پڑتا ہے”.
انہوں نے مزید کہا کہ “اسرائیل اورغزہ کی جنگ بندی نہ ہوتی تو زیادہ نقصان اسرائیل کو ہو رہا تھا کیونکہ فلسطینی آخری دن تک اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے ہیں اور یہی اسرائیل کے لیے خوف کا باعث بن رہی تھی”۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت اوران کے بیانات کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ” ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات کی کوئی اہمیت نہیں ہے کیونکہ امریکی صدر نے جس طرح اپنے ہر ایک ہمسائے ملک کے ساتھ جنگ چھیڑ رکھی ہے وہ مزید کمزور ہو جائے گا۔ امریکہ کی اکنامی ۳۰ فیصد لوکل امریکن پر انحصار کرتی ہے جبکہ باقی ۷۰ فیصد اکنامی تارکین وطن پر انحصار ہے اگر امریکہ ان تارکین وطن کو نکال دے گا تو ان کی اکنامی کیسے متوازن رہے گی”.
ان کا کہنا تھا کہ ” ٹرمپ کی باتوں میں مضحکہ خیزی کے علاوہ کسی قسم کی میچیورٹی نہیں ہے کیونکہ ٹرمپ کا ماضی سیات سے نہیں ہے یہ ایک کامیڈین تھا جو کہ بعد میں بزنس کرنے کے بعد سیاست میں چلا گیا اسی وجہ سے اب اس کے سیاسی بیان بھی کامیڈی والے ہوتے ہیں اب یہ امریکیوں کی خوش قسمتی ہے یا پھر بدقسمتی کہ ٹرمپ امریکہ کی ناک کٹوا رہا ہے”.
تجزیہ کار ڈاکٹر اسامہ ضیا نے کہا کہ “امریکہ کا پاکستان میں اثرورسوخ ضرور ہے مگر پاکستان چین سے تعقات قائم رکھے بغیر کچھ نہیں کر سکتا، پاکستان کے صدر آصف علی زرداری چین کے دورے پر ہیں جو بڑی مثال ہے۔ اس میں پاکستان اور چین کے درمیان سیکیورٹی اور دیگر معاہدوں پر عمل درآمد ہوگا “۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ”پاکستان جغرافیائی حدود کے اعتبار سے امریکہ کے لیے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے لیکن امریکہ پاکستان کو استعمال کرنے کے علاوہ فائدہ نہیں دے سکتا، اس کی بڑی مثال ہمارے پاس انڈیا کی ہے امریکہ نے انڈیا کے ساتھ بہت سارے معاہدے کیے ہیں”