اپریل 4, 2025 11:47 شام

English / Urdu

Follw Us on:

مشکیزہ: ایک قدیم روایت

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
مشکیزے کو بلوچی زبان میں ’’مشک‘‘کہا جاتا ہے ۔(فوٹو: ریڈیو ایشیا)

پرانے زمانے میں کھلی مشکیزےکو کہا جاتا تھا۔ کھلی کا مطلب پانی رکھنے کا مٹکا بھی ہے۔ آج کل ان کی جگہ کنستر یا بوتلوں نے لے لی ہے۔ آج بھی بلوچستان میں ایک بوتل پہ کپڑا چڑھا دیا جاتا ہے اور اس کا پانی پیا جاتا ہے۔ آج سے 50 سال پہلے (کھلی) مشکیزہ بنانے کے لیے بکری اور بکرے کی کھال کا استعمال کیا جاتا تھا۔

آج کل کھلی ملک میں ناپید ہو گئی ہے. چھوٹی بکری اور بکرےکو ذبح کرنے کے بعد اس کی کھال اتاری جاتی تھی۔ دس ہفتوں تک کھال کو خشک کیا جاتا تھا اور پھر گرم پانی میں ابالا بھی جاتا ہے  اس کے بعد پھر ریشم کے دھاگے سے سی دیا جاتا تھا۔ اس کا پانی فریج سے زیاد ٹھنڈا نہیں تو گرم بھی نہیں ہوتا۔

مشکیزےکا استعمال قدیم روایت کا حصہ ہے۔ دنیا میں بہت سی اقوام اس کا استعمال کرتی ہیں۔ بلوچ قوم بھی مشکیزے کا استعمال اپنے ارتقائی دور سے کرتی چلی آرہی ہے۔

مشکیزے کو بلوچی زبان میں ’’مشک‘‘کہا جاتا ہے ۔زمانہ قدیم میں پانی کو ٹھنڈا کرنے کے لئے مشکیزہ ایجاد کیا گیاتھا ۔ مشکیزہ بنانے کا کام کافی مشکل اور کھٹن ہونے کی وجہ سے بہت کم لوگ اس کو بناتے ہیں اور زیادہ تر بلوچ خواتین ہی مشکیزہ بنانے کا کام کرتی ہیں۔مشکیزہ بنانے کے لئے بکری اور بکرے کی کھال استعمال کی جاتی ہے۔

بکری یا بکرے کو ذبح کرنے کے بعد کھال کو اتارنے میں کافی احتیاط کی جاتی ہے تاکہ اس میں سوراخ نہ ہونے پائے، اور سوراخ ہونے کی صورت میں کھال مشکیزہ بنانے کے لئے کام نہیں آتی ۔یہ کام بھی ماہر لوگ ہی کرتے ہیں کھال کو اتارنے کے بعد تقریباً چار ہفتوں تک سورج کی تپش میں رکھ کر خشک کیا جاتا ہے اور پھر کیکر کے چھلکے سے ان کو گرم پانی میں ابالا جاتا ہے۔

آج سے 50 سال پہلے (کھلی) مشکیزہ بنانے کے لیے بکری اور بکرے کی کھال کا استعمال کیا جاتا تھا۔ (فوٹو: ایشیا ریڈیو)

دس دن تک یہ کھال پانی میں رکھی جاتی ہےجس سے یہ چمڑہ مضبوط ہوجاتا اور پھٹنے کا خطرہ ٹل جاتا ہے ۔اس کے بعد ریشم کے دھاگوں سے غیر ضروری سوراخ بند کرکے صرف پانی ڈالنے اور نکالنے کے لئے ایک بڑا سوراخ رہ جاتا ہے . پانی اس میں رکھنے کی وجہ سے کھال کی اصل رنگت تبدیل ہوجاتی ہے تو اس کا رنگ سرخ ہوجاتا ہے ۔کھال مضبوط اور پائیدار بن جاتی ہے۔ بعد میں مشکیزہ براؤن رنگ کا ہو جاتا ہے۔.

مشکیزے بلوچ ثقافت کا ایک اہم حصہ سمجھا جاتا ہے ،آج کے جدید دور میں بھی بلوچستان کے پہاڑی اور دور آفتادہ گاؤں میں جہاں بجلی کی سہولت موجود نہیں ہے،وہاں کے لوگ پانی ٹھنڈا کرنے کے لئے مشکیزے کا استعمال کرتے ہیں۔ مشکیزےمیں پانی رکھنے سے اس کی رنگت اور ذائقہ برقرار  رہتا ہے۔

مشکیزےبنانے والی ایک عورت کے مطابق مشکیزے کی تیاری کا مرحلہ انتہائی مشکل اور کٹھن کام ہے۔ جسے آج بھی مکران کے دیہی علاقوں میں استعمال کیا جارہا ہےاور جب ماضی میں پوری دنیا میں پانی ٹھنڈا کرنے کے ذرائع نہ تھے تو بلوچوں نے اپنی ضرورت کے پیش نظر مشکیزہ بناکر دنیا کو فریج اور ڈیفریزر بنانے کا خیال فراہم کردیا۔

لکھاری اور محقق گلزار گچکی کا کہنا ہے کہ جب انسانوں نے گاؤں کی صورت میں رہائش اختیار کرنا شروع کی تو قحط کے دنوں میں پانی کو ذخیرہ کرنے کا آغازہوا۔ اس وقت مشکیزے کا استعمال شروع ہوا۔وہ کہتے ہیں آج بھی ان علاقوں میں مشکیزے کا استعمال ہورہا ہے جہاں اب تک بجلی نہیں پہنچی ہے۔

کیچ اور آواران سمیت بلوچستان کے دور تر افتادہ گاؤں میں مشکیزے کا استعمال کیا جارہا ہے کیونکہ بجلی کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے دیہاتوں میں پانی کو ٹھنڈا کرنے کے لئے مشکیزہ استعمال کرنے کی قدیم روایت زندہ ہے۔

مشکیزے کی ایک چھوٹی قسم بھی ہے جسے مقامی زبان میں “کلی”کہا جاتا ہے اور یہ چھوٹی بکری یا بکرے کی کھال سے تیار کی جاتی ہے۔اسے عام طور پر چرواہے استعمال کرتے ہیں جوکہ چھوٹا ہونے کی وجہ سے ہلکی وزن کا ہوتا ہے۔

مشکیزے پاکستان کے دور افتادہ پہاڑی اور میدانی علاقوں میں لوگوں کے لئے ڈیپ فریزر اور فریج کا کام دیتے ہیں۔ ہرپاکستانی ان پسماندہ پاکستانیوں کی زندگی کے معمول کا اندازہ کرسکتا ہے خاص طور پر وہ جو فریج ،ڈیپ فریزر،کولر کے ٹھنڈے پانی کے عادی ہوں۔

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس