“مجھے خلع چاہیے” تصور کریں ایک خاتون حلق کے بل یہ تین الفاظ نکالتی ہے اور اس کے اثرات کہاں اور کیسے پہنچتے ہیں۔
سب سے پہلے تو شوہر نامدار وہ کچھ دیر کے لیے خاموش اور حیران ہو کر رہ جاتا ہے اور پھر زوردار ری ایکشن آتا ہے۔ پھر بچے پہلے تو سمجھ نہیں پاتے کہ ان کی ماما نے کیا کہا، لیکن جب سمجھ جاتے ہیں تو وہ واقعتاً بجھ سے جاتے ہیں اور بالکل خاموش ہو جاتے ہیں۔
پھر لڑکی کے والدین جو خود بھی شدید ڈپریشن والی کیفیت میں چلے جاتے ہیں الا یہ کہ وہ خود ہی شہہ دیتے رہے ہوں! اور یہ تو صرف آغاز ہوتا ہے ایک لمبی جدوجہد کا جو “مجھے خلع چاہیے” سے شروع ہوتی ہے۔
دونوں طرف کے خاندان ہل کر رہ جاتے ہیں اور پھر آغاز ہوتا ہے ایک لمبے، انتہائی مہنگے اور خواری سے بھرپور قانونی سفر کا۔
سندھ بھر کے کورٹ سے جمع شدہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2024 میں 20 ہزار خواتین نے خلع حاصل کی جبکہ 2023 میں یہ ڈیٹا بتاتا ہے کہ خلع لینے والی خواتین کی تعداد 18 ہزار رہی تھی۔ یعنی 20 ہزار خاندان 2024 میں ہمیشہ کے لیے جدا ہوئے۔ ان سے جڑے دسیوں ہزاروں بچے کورٹ میں دھکے کھاتے پھریں گے کہ ان کی کسٹڈی ان کی ماما کی طرف جائے گی یا پاپا کی طرف۔
آنسو، چیخیں، دکھ، غصہ، نفرت اور انتقام کے رنگ تقریبا ہر خلع کی کہانی میں نظر آئیں گے۔ کچھ کیسز میں والد بچوں سے ملنے کے لیے ترستے رہ جائیں گے!
آخر اتنی بڑی تعداد میں خواتین کیوں خلع کی طرف جارہی ہیں؟ ایک سینئیر کورٹ تجزیہ نگار کے مطابق ان میں سے زیادہ تر خواتین وہ ہوتی ہیں جن کی عمریں 20-30 برس کے درمیان ہوتی ہیں۔ بقول ان کے میں ہر روز ان خواتین کسی نہ کسی انداز میں عدالت میں دیکھتا ہوں اور باہر ان کے روئیے ذمہ دارانہ (mature) نہیں ہوتے۔ یعنی سوچ و فکر، احساسات اور روئیوں میں پختگی نہ ہونا ایک بنیادی وجہ ہے۔
اس کے علاوہ اگر چند عجیب و غریب اور نہ سمجھ میں آنی والی وجوہات میں دیر تک سونے یا جاگنے پر مسائل، شوہر یا سسرال والوں پر دقیانوسی ہونے کے الزام، مطلوبہ مالی سہولیات کی عدم دستیابی، شوہر کی شخصیت پسند نہ ہونا، اور جسمانی ضروریات پوری نہ ہونے جیسی کافی مشکلات شامل ہیں۔
لیکن ان میں سے بیشتر وجوہات عموما سطحی ہوتی ہیں۔ خلع کے پراسس کی ایک بہت بڑی مگر عدالت میں نظر انداز کی جانے والی وجہ سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا اثر و نفوذ ہوتا ہے۔
تحقیقات بتاتی ہیں خواتین کی فیصلہ سازی (Decision Making) پر ایک بڑا اثر ان کے سوشل سرکل کا ہوتا ہے جہاں خواتین کے گروپس پر ہر خانگی مسئلے کا حل ٹاکسک اور نارسسٹ بندے سے جان چھڑا کر امپاورڈ (Empowered) خاتون بن جانا ہوتا ہے۔
لیکن اس خلع کے بعد ایک خاتون کیسے سفر شروع کرتی ہے؟ اس کی جذباتی، نفسیاتی، سماجی حالت کیا ہوتی ہے؟ اور بچوں سے اس کے معاملات کس نوعیت کے ہوتے ہیں؟ ان سوالات پر سوشل میڈیا پر بحث ندارد ہے۔
فی الحال تو امپاورمنٹ (Empowerment) خلع کی ایک بنیادی وجہ بنتی چلی جارہی ہے، جس پر روک ٹوک کسی طرف سے آتی نظر نہیں آرہی۔ اس کا نتیجہ ہم 2024 میں 20 ہزار امپاورڈ (Empowered) خواتین کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں۔