خیبر پختونخوا کے شہر پشاور میں ایک ٹیچر نے طلباء کی جانب سے گالیاں دینے پر پولیس کو درخواست دے دی۔
“سکول کے طلباء مجھ پر آوازیں کستے ہیں۔ نازیبا الفاظ کا استعمال اور ڈیوٹی میں رکاوٹ ڈالنا معمول بن گیا ہے”۔گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول کاکشال کے ٹیچر نے پولیس کو درخواست دے دی۔
پشاور کے علاقے مریم زئی کے رہائشی فرحان اللہ نے پولیس کو درخواست دی ہے کہ دوران ڈیوٹی طلباء مجھ پر آوازیں کستے ہیں۔مجھے نازیبا القابات سے پکارتے ہیں۔

پاکستان میٹرز نے ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا “میں مریم زئی کا رہائشی ہوں اور میری تقرری کاکشال میں ہوئی ہے۔ یہاں طلباء ہر وقت مجھے تنگ کرتے ہیں۔ مجھے گالیاں دیتے ہیں۔ میرا یہاں رہنا اجیرن ہوچکا ہے۔
میرے گھر سے سب سے نزیک اسکول ناکبند میں ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ میرا تبادلہ اس اسکول میں کر دیا جائے تا کہ میرا مسئلہ حل ہو”۔
پاکستان میٹرز کی جانب سے یہ سوال پوچھا گیا کہ یہ سب شروع کیسے ہوا اور طلباء ایسا کیوں کرتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا “میں نے یہ سب کچھ پولیس کو بتا دیا ہے”۔