پولیس کا کام عوام کے جان و مال کی حفاظت کرنا ہوتا ہے، لیکن جب قانون نافذ کرنے والے ہی قانون شکنی پر اتر آئیں تو انصاف کی امید کہاں جائے؟ لاہور میں پنجاب پولیس کے ایک اسپیشل یونٹ، آرگنائزڈ کرائم یونٹ کے اہلکاروں پر ایک خاندان نے گھر میں گھس کر لوٹ مار کا الزام عائد کیا ہے۔
متاثرہ شخص اکرم کا کہنا ہے کہ 7 فروری کو شام 6 بجے کے قریب 15 کے قریب اہلکار ان کے گھر میں داخل ہوئے، جن میں سے کچھ نے سول کپڑے پہن رکھے تھے۔ یہ چھاپہ اکرم کے بھائی اشرف کی گرفتاری کے لیے مارا گیا تھا، تاہم ساتھ ہی میرے کمرے کا تالا بھی توڑا گیا۔
اکرم کا کہنا ہے کہ چھاپے کے دوران پولیس اہلکاروں نے زبردستی کمرے کا تالا توڑا اور وہاں سے اس کی بیٹی کی شادی کے لیے جوڑا گیا جہیز اور نقدی لے گئے۔
لوٹی گئی اشیاء میں 3 تولے سونا، جس میں 4بچوں کی انگوٹھیاں، 2 مردانہ انگوٹھیاں اور بالیاں شامل ہیں۔
اس کے علاوہ شادی ہال کے اخراجات کے لیے رکھی گئی 5 لاکھ 20 ہزار روپے نقدی بھی لوٹی گئی۔
اکرم نے کہا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے گھر میں توڑ پھوڑ بھی کی۔
‘پاکستان میٹرز’ سے گفتگو کرتے ہوئے اکرم نے درخواست کی کہ ”اگر میرا بھائی مجرم ہے، تو قانون کے مطابق کارروائی کریں، میں اپنے بھائی سے کئی سال قبل ہی اعلانِ لاتعلقی کر چکا ہوں، مگر میری بیٹی یا میرا اس میں کیا قصور ہے؟ ہماری زندگی کی جمع پونجی محافظوں کے ہاتھوں لوٹ لی گئی۔ ہم کہاں جائیں؟
یاد رہے کہ 3 ستمبر 2015 کو اکرم نے نجی خبررساں ادارے روزنامہ دنیا میں اپنے بھائی سے لاتعلقی کا اعلان کیا تھا۔

اکرم نے ‘پاکستان میٹرز’ کو بتایا کہ ابھی تک پنجاب پولیس یا سی آئی اے کی جانب سے کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
واضح رہے کہ پولیس اہلکاروں پر شہریوں کو ہراساں کرنے، غیر قانونی چھاپے مارنے اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے کے الزامات پہلے بھی لگتے رہے ہیں، لیکن بیشتر مقدمات میں شفاف تحقیقات نہ ہونے کی وجہ سے متاثرہ افراد کو انصاف نہیں ملتا۔
اکرم نے آئی جی پنجاب اور ڈی آئی جی آرگنائزڈ کرائم سے اپیل کی ہے کہ وہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کروائیں اور ان کی بیٹی کے جہیز کا سامان اور دیگر لوٹی گئی رقم واپس دلوانے میں مدد کریں۔
‘پاکستان میٹرز’ سے گفتگو کرتے ہوئے اکرم نے کہا کہ ” یہ کیس صرف میرے گھر کا نہیں، بلکہ ہر عام پاکستانی کا ہے جو پولیس سے انصاف کی امید رکھتا ہے۔ اگر اہلکار ہی لوٹ مار میں ملوث ہوں گے، تو عام آدمی کا کیا بنے گا؟”
اس سب کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا متعلقہ حکام اس معاملے میں شفاف تحقیقات کریں گے؟ یا یہ واقعہ بھی دیگر کیسز کی طرح فائلوں میں دب کر رہ جائے گا؟
پاکستان میں پولیس کے خلاف شکایات اور انکوائریاں کوئی نئی بات نہیں، لیکن کتنے مقدمات میں متاثرہ افراد کو انصاف مل سکا؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر شہری کے ذہن میں موجود ہے۔
یاد رہے کہ مورخہ 7 فروری شام 6 بجے کے قریب 15 کے قریب سول کپڑوں میں ملبوس سی آئی اے این آئی یو کے اہلکاروں نے اشرف نامی شخص کو گرفتار کرنے کے لیے ریڈ کیا، اس دوران اس گھر میں مقیم اس کے بھائی اکرم کے کمرے کا تالا توڑ کر گھر میں موجود اس کی بیٹی کی شادی کے لیے رکھا گیا سونا اور نقدی لوٹ لی گئی۔