پاکستان نے اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو کی سعودی عرب کے اندر فلسطینی ریاست بنانے کی تجویز پر شدید ردِعمل کا اظہار کیا، بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے پر زور مذمت کر دی۔
پاکستان وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا بیان اشتعال انگیز، غیر سنجیدہ اور ناقابل قبول ہے، پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور آزاد ریاست کے جائز حق کی حمایت کرتا ہے۔
فلسطینی عوام اور ان کے حقوق کے لیے سعودی عرب کی غیر متزلزل حمایت کو پاکستان سراہتا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا ہےکہ فلسطینی عوام کا 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق آزاد ریاست کا حق مسلمہ ہے، القدس الشریف فلسطین کا دارالحکومت ہے اور رہے گا۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ فلسطینیوں کی بےدخلی کی کوئی بھی تجویز عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، فلسطین سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان فلسطینیوں کے حقوق کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا، پاکستان اسرائیلی وزیراعظم کے اشتعال انگیز بیان کی مذمت کرتا ہے، عالمی برادری کو چاہیے کہ اسرائیل کو امن عمل کو نقصان پہنچانے کی مسلسل کوششوں پر جواب دے۔
ترجمان وزارت خارجہ کے مطابق وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے مصری ہم منصب بدر عبدالعاطی سے بھی ٹیلیفونک گفتگو کی، دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان غزہ کی صورتحال اور انسانی بحران پر تبادلہ خیال کیا گیا،نائب وزیراعظم نے فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا، دونوں وزرائے خارجہ نے مسئلہ فلسطین پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان فلسطین کے عوام کے حق میں اور مصرکے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہارکرتا ہے، پاکستان او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیرمعمولی اجلاس کے انعقاد کی بھی حمایت کرتا ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے 2 ریاستی حل کو مسترد کرتے ہوئے سعودی عرب کے اندر فلسطینی ریاست بنانے کی تجویز دی تھی،دورہ امریکا کے دوران اسرائیلی میڈیا کو انٹرویو میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ فلسطینی ریاست کا قیام اسرائیل کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ سعودی فلسطینی ریاست اپنے ملک میں بناسکتے ہیں، سعودیوں کے پاس بہت زیادہ زمین ہے۔

جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم کے اس بیان پرسعودی وزارت خارجہ نے اس طرح کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہوکے ان بیانات کا مقصد غزہ میں فلسطینی بھائیوں کے خلاف اسرائیلی قبضے کے مسلسل جرائم سے توجہ ہٹانا ہے، جس میں ان کی نسلی صفائی بھی شامل ہے۔
سعودی حکومت نے اس بات کا اعادہ کیا کہ فلسطینی “گھسنے والے یا تارکین وطن” نہیں ہیں جنہیں اسرائیل کی مرضی سے بے دخل کیا جائے،فلسطینیوں کے حقوق مضبوطی سے قائم ہیں اور انہیں مٹایا نہیں جا سکتا۔