اپریل 4, 2025 11:35 شام

English / Urdu

Follw Us on:

حسن البنا شہید، دلیل کے ہتھیار سے اپنوں کے دل موہنے اور مخالفین کو لاجواب کردینے والا منفرد کردار

شاہد عباسی
شاہد عباسی

علم کا میدان ہو یا سیاست، سماج کا ذکر ہو یا امت کی سربلندی کی خواہش، بیسویں اور اکیسویں صدی میں ان موضوعات پر گفتگو اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک حسن البنا شہید کا ذکر نہ ہو جائے۔

عین اس وقت جب 1948 کی عرب اسرائیل جنگ جاری تھی۔ برطانیہ فسلطین کی سرزمین فلسطینیوں سے چھین کر اسرائیل قائم کر رہا تھا۔ 12 فروری 1949 کو مصری حکومت کی ایما پر حسن البنا کو فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا، انہوں نے محض 42 برس کی عمر پائی، مگر اس دوران وہ اتنا کچھ کر گئے کہ آج بھی ان کا نام عزت واحترام سے لیا جاتا ہے۔

نفرت وتعصب پر مبنی قوم پرستی کی مزاحمت ہو یا اصل ایشوز کو نظرانداز کر کے وقت گزاری کا انداز، حسن البنا شہید اور ان کے تربیت یافتہ اخوان المسلمون کے لوگ دنیا بھر میں دلوں پر دستک دینے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

حسن أحمد عبد الرحمن محمد البنا 14 اکتوبر 1906 کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں پیدا ہوئے۔ برطانیہ اور اتحادی خلافت عثمانیہ کو ختم کر کے مشرق وسطی پر قابض ہو چکے تھے۔

جہاں جو ملے، لوٹ لو یا کسی بھی قیمت پر چھین لو کے اصول پر کاربند برطانیہ اور اس کے اتحادی صرف عسکری ہی نہیں تہذیبی اور ثقافتی زبردستی بھی جاری رکھے ہوئے تھے۔

قوم پرست تحریک سے اپنی سیاسی زندگی شروع کرنے والے حسن البنا جب امت کو متحد کرنے نکلے تو برطانوی استبداد کے مقابلے کا مرحلہ درپیش تھا۔

اسی تناظر میں انہوں نے کہا کہ ” اسلام کی دعوت پر لبیک کہو، سپاہی بنو، کیوں کہ اِسی میں ملک کی بقا اور امت کی عزت ہے، بالآخر ہم تمام مسلمان آپس میں بھائی ہیں۔”

امریکا میں مقیم پاکستانی صحافی معوذ حسن کے مطابق ‘حسن البنا نے مختلف رسالوں میں 2000 سے زائد مضامین لکھے۔ اُن کی خود نوشت “مذکرات الدعوة والداعیة” آج بھی دُنیا بھر میں مقبول ہے’

پاکستانیوں سے حسن البنا شہید کا ایک منفرد رشتہ ہے۔ ان کا قائد اعظم کو تحفتا دیا گیا قرآن پاک کا نسخہ آج بھی کراچی میں محفوظ ہے۔

پاکستانی مصنف سلیم منصور خالد کے مطابق ‘قائداعظم اور حسن البنا کے درمیان براہِ راست ملاقات بھی ہوئی۔ بعدازاں یہ رابطہ متعدد حوالوں سے برابر قائم رہا۔’

مفتیِ اعظم فلسطین محمد امین الحسینی بیان کرتے ہیں ’’مجھے یاد ہے ایک دعوت کا اہتمام عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل عبدالرحمن عزام  نے قائداعظم محمد علی جناح کے اعزاز میں کیا تھا، قائداعظم کے ہمراہ لیاقت علی خاں بھی تھے، عزام صاحب کے گھر سب سے پہلے پہنچنے والوں میں، میں اور امام حسن البنا شہید تھے۔ ہم قائداعظم سے دیر تک محو گفتگو رہے۔

اسی عرصہ قیام کے دوران قاہرہ میں ایک ضیافت سے خطاب کرتے ہوئے 18دسمبر 46ء کو قائداعظم نے کہا تھا کہ ’’اگر ہند میں ہندو سلطنت قائم ہوگئی تو اس کا مطلب ہوگا ہند میں اسلام کا خاتمہ اور دیگر مسلم ممالک میں بھی… اس باب میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ روحانی اور مذہبی رشتے ہمیں مصر سے منسلک کرتے ہیں۔ اگر ہم ڈوبے تو سب ڈوب جائیں گے۔‘‘

پروفیسر خور شید احمد کہتے ہیں کہ ’’اخوان کے نوجوان رہنما سعید رمضان نے بتایا کہ وہ (حسن البنا شہید) خود اور اخوان کی قیادت کے مرکزی رہنما تحریک پاکستان کی تائید کے لیے مصر کے طول و عرض میں پُرجوش تقاریر کیا کرتے تھے۔اس کے برعکس مصرکے سیکولر قوم پرستوں میں کانگریس اور نہرو کے بارے میں نرم گوشہ پایا جاتا تھااور وہ ان کی تائید کرتے تھے‘‘۔

قیام پاکستان کی خبر سن کر حسن البنا نے قائد اعظم کو ٹیلی گرام بھیجا تھا (فائل فوٹو)

قیام پاکستان کی خبر سن کر حسن البنا نے پاکستان کے بانی اور گورنر جنرل قائداعظم کے نام حسب ذیل ٹیلی گرام ارسال کیا:
عزت مآب محمد علی جناح
آج کے اس تاریخی اور ابدی حقیقت کے حامل دن، کہ جب دانش اور حکمت پر مبنی آپ کی قیادت میں پاکستان کی اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آیا ہے،میں آپ کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد اور نیک تمنائیں پیش کرتا ہوں۔ یہ مبارک باد‘ وادیِ نیل کے سپوتوں اور بالخصوص اخوان المسلمون کے دلی جذبات کی حقیقی عکاس اور نمایندہ مبارک باد ہے۔

پاکستان کے پہلے یوم آزادی 14 اگست 1948 کو جاری کردہ اپنے پیغام میں حسن البنا شہید نے لکھا ‘اس دور میں کہ جب پوری دنیا ایک دوراہے پر کھڑی ہے۔ اسے ایک طرف سے سوشلزم اپنی طرف کھینچ رہا ہے اور دوسری طرف سے اینگلو امریکی سرمایہ دارانہ جمہوری نظام، حالانکہ مسلمانوں کے لیے ان دونوں نظاموں میں کوئی خیرا ور بھلائی نہیں ہے۔ ان کے پاس اللہ کی کتاب ہے، نظام اسلامی کا مکمل خاکہ ہے اور رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ ہے’۔

حسن البناء شہید نے ایک اور موقع پر کہا “اسلام عبادت و قیادت، مذہب و ریاست، روحانیت و عمل، نماز واطاعت و حکمرانی کا مشترکہ نام ہے، ان میں کسی کو دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔”

پاکستان میٹرز کے ایڈیٹر شاہد عباسی بطور صحافی 2008 سے ڈیجیٹل نیوز میڈیا سے منسلک ہیں۔ اس سے قبل متعدد پاکستانی اور غیرملکی میڈیا اداروں کے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔

شاہد عباسی

شاہد عباسی

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس