اپریل 5, 2025 12:00 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

مودی ٹرمپ ملاقات : پاکستان پر کیا اثرات پڑیں گے؟

عامر خاکوانی
عامر خاکوانی
مودی ٹرمپ ملاقات : پاکستان پر کیا اثرات پڑیں گے؟
مودی ٹرمپ ملاقات : پاکستان پر کیا اثرات پڑیں گے؟

جنوبی ایشیا کے ماہرین اور تجزیہ نگاروں کی نظریں امریکی صدر ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ملاقات پر جمی ہوئی تھیں۔ اس ملاقات سے بہت کچھ طے ہونا تھا اور اب خاصا کچھ سامنے آ چکا ہے۔ تجزیہ نگار اندازے لگا رہے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں اس کے کیا اثرات پڑیں گے۔

یہ بات تو واضح ہے کہ صدر ٹرمپ نے دنیا بھر کے حکمرانوں کو چکرا کر رکھ دیا ہے۔ دوسری بار جیتنے کے بعد ٹرمپ کو ٹرمپ 2 کے نام سے امریکی میڈیا میں یاد کیا جا رہا ہے/ اس بار وہ زیادہ جارحانہ، تباہ کن انداز سے آگے بڑھے ہیں۔ ٹرمپ امریکہ مخالفوں کے خلاف بھی بہت کچھ کریں گے ، سردست ان سے امریکہ کے اتحادی زیادہ پریشان ہیں۔

امریکی اتحادیوں پر وہ اس بار پوری شدت سے حملہ آور ہوئے ہیں۔ کون سوچ سکتا تھا کہ کینیڈا اور میکسیکو پر وہ ایسی بے رحمی سے پچیس فیصد تک ٹیرف لگا دیں گے؟ پانامہ اور گرین لینڈ کے معاملے میں یوں کھلی دھمکیوں پر اتر آئیں گے۔ نہایت بے دید ہو کر ٹرمپ  نے سعودی حکمرانوں کو پہلے کہا کہ پانچ سو ارب ڈالر کی انویسٹمنٹ کرو۔ سعودی حکومت نے  چھ سو بلین ڈالر کی پیش کش تو ٹرمپ نے اچانک حقارت اور بے نیازی سے اسے مسترد کرتے ہوئے حکم صادر کیا کہ نہیں یہ کم ہیں، ایک ہزار ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہو۔ ان بے چاروں کو تائید کرنا پڑی کہ ممکن ہے ہم اس سے بھی زیادہ سرمایہ کاری کر ڈالیں۔

انڈیا بھی اس بار ٹرمپ کے نشانے پر تھا۔ ٹرمپ دراصل فیصلہ کر چکا ہے کہ اس بار اسے معیشت کو ترجیح بنانا ہے اور کسی ملک کو امریکہ سے فائدہ نہیں اٹھانے دے گا۔ تجاری توازن بھی ٹھیک رکھے گا اور جو ملک امریکی مصنوعات پر ٹیرف لگائے گا، امریکہ بھی جواب میں ان پر ویسا ہی ٹیرف لگا دے گا۔ صدر ٹرمپ دو دن قبل یہ ایگزیکٹو آرڈر جاری کر چکے ہیں۔

نریندر مودی کو ٹرمپ نے اپنی تقریب حلف برداری میں نہیں بلایا تھا ۔ حالانکہ مخالف ہوتے ہوئے بھی چینی صدر کو دعوت دی تھی، وہ نہیں آئے ، ان کی جگہ نائب چینی صدر شریک ہوئے۔ مودی کو البتہ ٹرمپ نے اب دورہ امریکہ کے لئے مدعو کیا۔ وہ چوتھے ّّخوش نصیب ٗٗحکمران ہیں جنہیں ٹرمپ نے دعوت دی۔ ویسے دعوت کیا، ایک طرح سے سمجھیں کہ سمن دے کر بلایا ہے۔

جب ٹرمپ نے مودی سے فون پر بات کی تو کہا کہ انڈیا فیئر ٹیرف پالیسی بنائے۔ انڈین سوچتے رہے کہ کس طرح ٹرمپ کو راضی کریں۔ مودی جی اتنے گھبرائے ہوئے تھے کہ انہوں نے جانے سے پہلے کئی فیصلے کر ڈالے۔ امریکی مصنوعات پر ٹیرف ازخود نصف سے بھی کم کر دیا۔ جتنی ایک رعایت دے سکتے تھے، وہ پہلے ہی دے ڈالی۔

بھارت نے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی مخالفت بھی نہیں کی ہے، وہ خاموش رہے۔ انڈین پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں یہ سوال اٹھایا گیا تو بھارتی وزیرخارجہ جے شنکر نے جواب دینے ہی  سے انکار کر ڈالا۔ دوسری طرف بھارت میں  امریکی نیشنل سکھ شہری گرپتونت سنگھ پنوں  پر قاتلانہ حملے کا الزام ایک بھارتی انٹیلی جینس افسر وکاش یادو پرلگایا گیا تھا۔ امریکی ادارے اس حوالے سے تحقیقات کر رہے ہیں۔ صدر بائیڈن کے دور میں امریکی یہ بات کرتے رہے مگر مودی حکومت اسے ٹال جاتی تھی۔ اب ٹرمپ کے ڈر سے چند دن پہلے بھارت نے معاملے کی تحقیقات کے لئے ایک لیگل پینل کی تشکیل کا اعلان کیا ہے۔ دراصل مودی حکومت ٹرمپ انتظامیہ سے خوفزدہ ہے جو کہ امریکہ میں کسی بھی قسم کی نان سینس برداشت نہیں کریں گے۔

خیر ملاقات ہوگئی۔ ٹرمپ اور مودی جی نے آپس میں جپھا ڈالا، مسکرا مسکرا کر باتیں کیں، مشترکہ  پریس کانفرنس بھی کر ڈالی۔ مودی تین بار بھارت کے وزیراعظم بن چکے ہیں، مگر وہ میڈیا سے بات چیت سے گریز کرتے ہیں، سولو پریس کانفرنس تو بالکل نہیں کرتے ، دوسرے حکمران کے ساتھ بھی مشترکہ پریس کانفرنس کم ہی کرتے ہیں۔

مودی نے ٹرمپ کے ساتھ البتہ پریس کانفرنس کی، دو سوالات کے جواب بھی دئیے۔ ایک سوال مودی سے ان کے کاروباری دوست گوتم ایڈانی کے حوالے سے کیا گیا جس پر امریکہ میں فراڈ کے کیسز چل رہے ہیں۔ مودی سوال ٹال گئے کہ میں نے اس بارے میں صدر ٹرمپ سے نہیں پوچھا ۔ ویسے ٹرمپ بھی بنگلہ دیش کے حوالے سے سوال ٹال گئے اور کہا کہ مودی بنگلہ دیش پر کئی برسوں سے کام کر رہے ہیں، اس کا جواب وہ دیں۔

خیر مودی جی سے  دوسرا سوال امریکہ سے نکالے گئے بھارتی شہریوں کے بارے میں کیا گیا جو غیر قانونی طور پر امریکہ میں تھے۔ مودی نے کہا کہ ہم انہیں قبول کریں گے اور یہ امریکہ کا حق ہے وغیرہ وغیرہ۔

مودی جی نے ویسے خاصی چاپلوسی کا مظاہرہ کیا اور وقتافوقتاً ٹرمپ کو مکھن بھی لگاتے رہے۔ کہا کہ مجھے صدر ٹرمپ کی یہ بات پسند ہے کہ وہ امریکی عوام اور امریکہ کو پہلی ترجیح پر رکھتے ہیں۔ یہ بہت اچھی بات ہے۔ میں بھی بھارت اور بھارتی عوام کے لئے یہی چاہتا ہوں۔ مودی کا ایک خاص سٹائل ہے کہ وہ لفظوں کی ہیراپھیری سے اپنا پوائنٹ بنایا کرتے اور اس سے خود ہی لطف اٹھاتے ہیں۔ ان کے ٹیم والے ایسے تھکے ہارے جوکس شائد مجبور ہو کر بنایا کرتے ہیں ۔

اس پریس کانفرنس میں بھی مودی کہنے لگے کہ ٹرمپ کا نعرہ ہے، میک امریکا گریٹ اگین یعنی ماگا (MAGA)جبکہ میرا نعرہ ہے، میک انڈیا گریٹ اگین یعنی مِیگا(MIGA)تو جب انڈیا اور امریکہ مل کر کام کریں گے تو یہ ماگا اور مِیگا مل کر ہوجائے گا میگا (Mega)۔ اب یہ خاصا تھکا ہوا اور بے تکا جملہ ہے۔ ماگا اور می گا مل کر میگا کیسے بن جاتے ہیں ؟ پھر مودی کہنے لگے کہ ایک اور ایک دو نہیں بنتے بلکہ گیارہ بنتے ہیں۔ ان کا اشارہ مشہور ہندی، اردو محاورے کی طرف تھا۔

خیر ٹرمپ خوشامد سے خوش ہوتے ہیں، وہ مسکراتے رہے ، چہرہ تمتماتا رہا، مگر ٹرمپ نے لگی لپٹی کے بغیر کئی باتیں سنا بھی دیں ۔ یہ کہا کہ ہمارے پاس بہت سا تیل اور گیس ہے، انڈیا ہم سے لے گا، ہم اس کے نمبر ون فروخت کنندہ بن جائیں گے۔ (یعنی زبردستی ٹرمپ نے طے کر لیا کہ بھارت دنیا مین سب سے زیادہ تیل ، گیس امریکہ ہی سے لے گا۔)

اسی طرح ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ جو ٹیرف انڈیا ہم پر لگائے گا، ہم بھی اس پر وہی لگائیں گے۔ تجارتی توازن بہتر کرنے کی بات کی۔ انڈیا کو اربوں ڈالر کا فوجی اسلحہ بیچنے کی بات بھی کی۔ امریکہ کا ففتھ جنریشن طیارہ ایف پینتیس بھی انڈیا کو دینے کا اشارہ کیا۔ یاد رہے کہ یہ اس وقت دنیا کے بہترین لڑاکا طیاروں میں شامل ہے۔ انڈین اسے لینا چاہتے ہوں گے ۔ اس کے علاوہ بھی کئی قسم کے دیگر ہتھیاروں کی پیشکش کی گئی ہے۔

اس سے پہلے امریکی اس پر خفا رہتے تھے کہ بھارت فرانس اور روس سے اربوں ڈالر کا اسلحہ خریدتا ہے، ہماری طرف نہیں آتا۔ اب ٹرمپ نے باقاعدہ انڈیا کی گردن پر انگوٹھا رکھ کر یہ سب باتیں منوا لی ہیں۔

یہ بات اب طے ہوگئی ہے کہ بھارت روس اور ایران سے سستا تیل لینے کے بجائے امریکہ سے تیل اور گیس خریدے گا۔ اربوں ڈالر امریکہ کی جھولی میں جائیں گے۔ اندازہ ہے کہ کوئی سات لاکھ کے قریب بھارتی شہری غیر قانونی طور پر امریکہ میں موجود ہیں۔ ٹرمپ ان سب کو نکال باہر کرے گا اور مودی حکومت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ ٹیکنالوجی، اے آئی اور دیگر بہت سے معاملات میں بھارت اور امریکہ تعاون بڑھے گا۔ ایف پینتیس انڈیا کو دینے کا مقصد ہی اسے خاص سٹیٹس دینا ہے کیونکہ اتنا جدید ففتھ جنریشن فائٹر طیارہ امریکہ ایسے کسی ملک کو نہیں دیتا۔

پاکستان کے لئے پہلا منفی نکتہ یہی ہے کہ ایف پینتیس انڈیا کو مل رہا ہے۔ یعنی پاکستان کو بھی اب ہر حال میں ففتھ جنریشن فائٹر طیارے چاہئیں۔ یاد رہے کہ ایف سولہ طیارے پرانے ہوگئے ہیں جبکہ رافل وغیرہ بھی فور جنریشن طیارے ہیں۔ ففتھ جنریش طیارے سٹیلتھ ہوتے ہیں یعنی وہ ریڈار پر نہیں آ سکتے اور یوں اچانک ہی حملہ کر سکتے ہیں۔

ہمارے ہاں چین سے ففتھ جنریشن جے ٹوئنٹی اور جے پینتیس وغیرہ لینے پر غور چل رہا تھا بلکہ کچھ بات چیت بھی چل رہی تھی۔ اب اس کو آگے تیزی سے بڑھایا جائے گا۔ ترکی سے اس کا جدید فائٹر طیارہ کان لینے پر بھی غور کرنا پڑے گا۔ ہماری وزارت خارجہ نے اس حوالے سے بیان بھی داغ دیا ہے کہ بھارت کو جدید ٹیکنالوجی اور اسلحہ ملنا خطے میں توازن بگاڑ دے گا۔

دوسری خطرناک بات یہ ہے کہ مودی ٹرمپ پریس کانفرنس میں باقاعدہ طور پر پاکستان کے خلاف اعلامیہ پاس کیا گیا۔ پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ممبئی حملوں اور پٹھان کوٹ حملے کے ملزموں کے خلاف کارروائی کرے اور پاکستانی سرحد دہشت گردوں کو استعمال نہ کرنے دے۔

یہ وہ سنگین اور گھٹیا الزامات ہیں جو بھارت پاکستان پر عائد کرتا ہے، مگر امریکہ صدر ان کے ساتھ بیٹھ کر یہی باتیں دہرائے تو ان کی سنگینی بہت بڑھ جاتی ہے اور ٹرمپ جیسا صدر اگر یہ  کہتے تو یہ بہت الارمنگ بات ہے۔ آنے والے دنوں میں لگتا ہے کہ پاکستان پر اس حوالے سے امریکی دبائو آ سکتا ہے۔

تیسری اہم کامیاب بھارت کو یہ ملی کہ اس نے پاکستانی نژاد کینیڈین شہری رانا تہور علی خان کی بھارت کو سونپنے جانے کا مطالبہ منوا لیا ہے۔ یاد رہے کہ رانا تہور بہت پہلے پاکستان میں ڈاکٹر تھا، بعد میں وہ کینیڈا چلا گیا اور وہاں کا نیشنل ہوگیا۔ پھر وہاں سے امریکہ چلا گیا۔ اس پر امریکہ میں کیسز چلے اور کئی برسوں سے وہ جیل میں ہے۔

رانا تہور پر بھارتی حکومت ممبئی حملوں میں انوالو ہونے کا الزام لگاتی ہے۔ تاہم امریکہ میں اسے ڈنمارک میں گستاخانہ کارٹون چھاپنے والے اخبار پر حملے میں تعاون کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا اور سزا سنائی گئی۔ امریکی حکومت کئی سال پہلے رانا تہور کو بھارت کے حوالے کر دیتی، مگر اس نے عدالت سے رجوع کر رکھا تھا۔

اب چند دن پہلے امریکی سپریم کورٹ نے رانا تہور خان کی اپیل خارج کر دی ہے۔ اس لئے اب کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی ۔ مودی نے ملاقات میں مطالبہ کیا تو ٹرمپ نے فوری ہامی بھر لی۔ توقع ہے کہ چند ہفتوں میں رانا تہور کو بھارت منتقل کر دیا جائے گا۔ وہاں اسے سزائے موت سنائے جانے کی توقع ہے۔ البتہ بھارتی ڈرامہ بازی کر کے اس کے نام نہاد اعترافات کی ویڈیوز وغیرہ ضرور چلوائیں گے۔

یہ بات بہرحال اس دورے سے طے ہوگئی ہے کہ ٹرمپ اپنے اس دور حکومت میں بھارت کو امریکی سٹریٹجک پارٹنر کے طور پر لے کر چلنا چاہتا ہے۔ اسے جو تحفظآت تھے، وہ سب مودی حکومت دور کر رہی ہے۔ بھارت امریکہ سے اربوں ڈالر کے سودے کر سکتا ہے اور کئی حوالوں سے وہاں پر انویسٹمنٹ بھی کرسکتا ہے۔ یہ سب بھارت کرے گا تو جواب میں امریکہ  کے پاس بھی بھارت کو دینے کے لئے خاصا کچھ ہے۔

چین کا گھیرا تنگ کرنے کے لئے ٹرمپ لازمی بھارت کو استعمال کرے گا ۔ اندازہ ہو رہا ہے کہ بھارت اس کے لئے تیار ہے، تاہم وہ اس چکر میں اپنی فوجی اور ٹیکنالوجی کی قوت بڑھانا چاہ رہا ہے۔ امریکہ اس کے لئے تیار ہے۔ البتہ اس سب کے پاکستان پر  منفی اثرات پڑیں گے۔ پاکستان پر دبائو بھی مزید بڑھے گا اور خطے میں ہتھیار اور ٹیکنالوجی کی دوڑ بھی تیز ہوگی۔ پاکستان کی کمزور میعشت پر اس کا دبائو یقینی طور پر آئے گا مگر پاکستان کے لئے اس حوالے سے پیچھے رہ جانا بھی آپشن نہیں ہے۔

دیکھنا یہ ہوگا کہ کہیں ٹرمپ پاکستان پر تو کسی قسم کا ٹیرف لگانے کی دھمکی نہیں دیتا؟ یاد رہے کہ پاکستان کی کئی ارب ڈالر کی ٹیکسٹائل ایکسپورٹ امریکہ کو جاتی ہے اور ایسی کوئی بھی پابندی ہماری پہلے سے کمزور ایکسپورٹ کو متاثر کرے گی۔ اس کے لئے دیکھنا ہوگا کہ ٹرمپ حکومت کی اگلے چند ماہ میں کیا پالیسی رہے گی؟

عامر خاکوانی پاکستانی صحافی ہیں۔ وہ متعدد اشاعتی اداروں سے وابستہ رہے ہیں۔ اخبارات میں کالم نویسی کے بعد اب ڈیجیٹل بلیٹ فارمز پر بلاگ لکھتے ہیں۔ مشکل سے مشکل موضوع کو دلچسپ پیرائے اور عام فہم انداز میں قاری تک پہنچانے میں انہیں خصوصی ملکہ حاصل ہے۔

عامر خاکوانی

عامر خاکوانی

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس