صوابی میں ایک درزی نے بیوی کی جانب سے گھر واپسی سے انکار پر اپنے چار کمسن بچوں کو قتل کرنے کے بعد خود کشی کر لی۔
کچھ دن پہلے ٹانک میں بھی ایک جیولر نے معاشی پریشانیوں اور روزگار کی وجہ سے بیوی، 2 بیٹیوں اور ایک بیٹے کو قتل کر کے خود کشی کر لی تھی.
اس طرح کے واقعات کی ایک لمبی فہرست بنائی جاسکتی ہے جہاں ماں نے یا باپ نے بچوں کو مار کر یا اس کی کوشش کرکے خود کشی کر لی ہو۔
ایسی صورتحال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ‘فیملی’ جس کا مطلب ہی تحفظ، محبت اور تعلق ہے، وہاں اتنی شدت کیوں آتی جارہی ہے؟
اس کا جواب ہے تعلق کے فطری پہلوؤں کو ناں سمجھنا، دنیاوی آسائشوں کی غیر فطری خواہش اور تربیت کو زندگی سے بے دخل کر دینا۔ میڈیا نے تعلق کا ایک فینٹیسی ورژن لوگوں کے ذہنوں میں بھرپور طریقے سے ڈال دیا ہے جہاں غیر انسانی حد تک ہیرو یا ہیروئن اپنے آپ کی قربانی دیتے نظر آئیں گے۔
جبکہ یہ فطری طور پر ممکن ہی نہیں کیونکہ اچھے سے اچھا فرد 24 گھنٹے ‘فرشتہ موڈ’ میں نہیں رہ سکتا، کبھی وہ نارمل ہوگا تو کبھی غصے میں، کبھی خوشگواری سے بات کرے گا تو کبھی چڑچڑے انداز میں، کبھی نرمی غالب ہوگی توکبھی انتہائی سختی۔ الغرض انسانی فطرت کے مطابق وہ ڈراموں، فلموں اور میڈیا کے خود ساختہ ‘اچھے انسان’ کے برعکس اچھے اور برے، دونوں روئیے اپنائے گا۔
لیکن اگر میڈیا کا بنایا غیر فطری تعلق ہی ‘آئیڈیل’ ہوگا تو ہر دن دھچکہ ملے گا، توقعات ٹوٹیں گی، ہر روز تعلق تہس نہس ہوتے ختم ہوتا جائے گا یہاں تک کہ فرد اپنے شریک حیات اور بچوں سے لاتعلق ہوتا جائے گا۔
ہر فرد میں آگے بڑھنے کی فطری خواہش ہوتی ہیں، لیکن نیچرل ڈیزائن ایسا ہے کہ ہر فرد ہر چیز حاصل نہیں کر سکتا، اسی طریقے سے دنیا میں توازن برقرار رہتا ہے۔ جیسے کوئی دولت بہت کما لے گا تو تعلقات میں ناکام ہوگا۔ کوئی مال نہیں کما پاتا لیکن تعلق نبھانے میں بہترین ہے، کوئی لوگوں کو سمجھنے اور ان کی مدد میں بہت تیز ہوتا ہے تو کوئی تکنیکی صلاحیت سے مالا مال ہوتا ہے۔
لیکن اس فطری تقسیم کی خوبصورتی کو ‘مال و آسائشوں’ کو ہر صورت حاصل کرنے کی شدت بدصورتی کی حد تک بگاڑ دیتی ہے۔ خواہش کی آگ بتدریج تعلق کی نرمی و گرمی کو تباہ کر دیتی ہے یہاں تک کہ شریک حیات جب تک مالی و دنیاوی آسودگی فراہم کر رہا ہے جب تک تو اچھا لگتا ہے، ورنہ دوسری صورت ایسے فرد سے تعلق کی خرابی کا سفر طلاق یا خلع کی منزل تک پہنچا دیتا ہے۔
خودکشی اور قتل جیسے انتہائی اقدام ہوں یا تعلق و فیملی کا بدصورت ہونا۔ تمام کی جڑ تربیت نہ ہونے سے نکلتی ہے۔ گھر ہو، اسکول ہو، کالج ہو یا دیگر سماجی ادارے، لوگوں کو لوگوں کے ساتھ رہنے کی تربیت نہیں دی جارہی۔
شادی کے بعد کی اونچ نیچ نہیں سمجھائی جارہی، رشتوں کی نزاکتیں نہیں منتقل کی جارہیں، خواہشات کی آگ کو کیسے قابو میں رکھنا ہے یہ نہیں سیکھایا جارہا۔
مرد کو نہیں پتا کہ کیسے اپنی شخصیت کو تعمیری اور مصیبت کے وقت میں تحفظ کا مرکز بنانا ہے۔ خاتون نہیں جانتی معاشی یا تعلق کے بحران میں کیسے زندگی، تعلق اور بچوں کو NAVIGATE کرنا ہے۔ ان تمام اسباب کا نتیجہ صوابی یا ٹانک جیسے المناک واقعات کی صورت نکلتا ہے۔