کراچی کی سٹی کورٹ میں ایک حیرت انگیز واقعہ پیش آیا، جہاں جعلی خاتون وکیل کو عدالت میں پیش ہونے کے دوران گرفتار کرلیا گیا۔
ملزمہ نورصبا کو اس وقت پکڑا گیا جب وہ سہیل بیگ نوری ایڈووکیٹ کی شکایت پر عدالت میں بطور وکیل پیش ہو رہی تھی۔
سہیل بیگ نوری ایڈووکیٹ نے الزام عائد کیا کہ نورصبا نے کئی مقدمات میں بطور وکیل پیش ہو کر قانونی عمل میں جعلسازی کی ہے۔
حیران کن طور پر ملزمہ نے 22 مقدمات میں وکیل کی حیثیت سے عدالت میں پیش ہو کر کئی لوگوں کو بے وقوف بنایا۔
یہ خاتون بلڈرز کو تجاوزات کے نام پر بلیک میل کر رہی تھی، اور اپنے جعلی وکیل ہونے کا راز چھپائے رکھتی تھی۔
کراچی بار نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر کارروائی کی اور ملزمہ کو سٹی کورٹ تھانے میں منتقل کر دیا گیا۔ عدالت نے اس کی گرفتاری کے بعد جیل بھیجنے کا حکم دیا۔
یاد رہے کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے قبل 2016 میں بھی سٹی کورٹ میں نجمہ پروین نامی جعلی خاتون وکیل کو پولیس نے حراست میں لیا تھا جس نے بعد میں اپنی وکیل ہونے کی ضمانت دینے پر رہائی حاصل کی تھی۔
اسی طرح کا واقعہ پنجاب کے سیشن کورٹ میں بھی پیش آیا تھا جہاں جعلی خاتون وکیل کی حقیقت سامنے آئی اور خاتون وکلا نے اس خاتون کو پولیس کے حوالے کیا تھا۔
اس واقع کے بعد لاہور بار کے صدر ملک سرود کا کہنا تھا کہ جعلی وکلا کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور ایسے افراد کو ہر حال میں قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔
یہ واقعات نہ صرف قانون کی عزت کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ اس سے وکالت کے مقدس پیشے کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں: سندھ، پنجاب حکومت آمنے سامنے، سخت جملوں کا تبادلہ