ہفتے کے روز اسلام آباد زلزلے سے لرز اٹھا ایسے ہی اتوار کو نئ دہلی میں زلزلے جھٹکے محسوس کئے گئے۔ جب میں یہ سطور لکھ رہی تھی تو لزبن پرتگال میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے۔ زلزلے سیلاب طوفان اور آگ کا پھیل جانا بس اچانک سے ہوتا ہے اور ترقی یافتہ ممالک بھی ان آفات میں بےبس محسوس کرتے ہیں۔
قدرتی آفات دنیا کی اٹل حقیقت ہیں کوئی بھی انکے ہونے سے انکار نہیں کرسکتا۔ انسان جتنی بھی ترقی کرلے وہ ان آفات کے سامنے بے بس ہے۔ یہ اتنے بڑے پیمانے پر وقوع پذیر ہوتی ہیں کہ انسان تمام تر ترقی وسائل ہونے کے باوجود انکے سامنے مکمل طور پر بےبس ہوجاتا ہے۔
آسٹریلیا جوکہ دنیا بھر کے نایاب جانوروں کا مسکن ہے یہاں پر جانوروں کی افزائش کے لئے پارکس اور سینچریاں موجود ہیں لیکن ۲۰۲۰ میں یہاں اچانک بھیانک آگ بھڑک اٹھی۔ یہ آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ ہزاروں مربع میل کارقبہ اس کی لپیٹ میں آگیا۔ حکومت آسٹریلیا کو جہاں انسانوں کی فکر تھی وہاں ہی انہیں ان جانوروں کی بھی فکر تھی جو اس آگ کی زد میں آگئے تھے۔
آسڑیلیا نے اپنے شہریوں کو ان علاقوں کو چھوڑنے کا حکم دیا جہاں آگ لگی ہوئی تھی اور خود جانوروں کی منتقلی کا کام بھی شروع کیا۔ ہزاروں فائر فائیٹرز نے اس آگ کو قابو کرنے میں حصہ لیا لیکن خشک موسم اور تیز ہوائیں ان کے کام میں روکاوٹ ڈال رہی تھیں۔ وہاں سے لوگوں نے جب ویڈیوز شئیر کی تو ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے انسان آتش فشاں کے دھانے میں آگئے ہو ہر طرف آگ اسکی چنگاریاں اور دھواں ایک خوفناک منظر پیش کررہا تھا۔
ایک آسٹریلوی خاتون جب اپنا علاقہ چھوڑ رہی تھی تو اس نے ایک کولا بئیر کو درخت کے ساتھ لگے روتے ہوئے دیکھا یہ سرمئ بھالو آسٹریلیا کی پہچان ہیں اور یہ معصوم سے بھالو بہت چھوٹے اور سست ہوتے ہیں اور پتے انکی مرغوب غذا ہے وہ درختوں پر رہتے ہیں۔ یہ ننھا بھالو آگ سے ڈر کررو رہا تھا اس خاتون نے اسکو اتارا تولیے میں لپیٹ لیا اور اسکو پانی پلایا۔ وہ رو بھی رہا تھا اور تھوڑا جلا بھی ہوا تھا یہ منظر پوری دنیا نے سوشل میڈیا کی توسط سے دیکھا اور سب کی آنکھیں بھر آئی۔
اس آگ نے جہاں انسانوں کا بھاری مالیاتی نقصان کیا وہاں اس کی زد میں معصوم جانور بھی آگئے۔ آسٹریلیا نے انکی بحالی کے لئے بہت کام کیا اور دوبارہ آگ کے نا پھیلنے کی طریقوں پر بھی غور کیا۔ پر پھر بھی انسان قدرتی آفات کو روک نہیں سکتا لیکن اس کے پھیلاو اور نقصانات کو کم کرسکتے ہیں۔
پھر اس سال کے آغاز میں دنیا کے امیر ترین علاقوں میں شمار ہونے لاس اینجلس میں آگ پھیل گئ۔ لاس اینجلس امریکا کا تجارتی معاشی اور ثقافتی حب بھی ہے۔ اس کی آبادی تین اعشاریہ نو ملین ہے اور دنیا بھر کے امیر لوگ اور ہالی وڈ کے اداکار یہاں رہائش اختیار کئے ہوئے ہیں۔
یہاں میدانی علاقہ بھی ہے،پہاڑی علاقہ بھی اور ساحلی پٹی بھی موجود ہے۔ امرا نے اپنے گھر پہاڑوں اور ساحلی پٹی پر بنائے ہوئے جن میں معروف اداکار لیوناڈو ڈی کپریو، ٹیلرسوئفٹ، ٹام کروز،جینفر آٹسن، جونی ڈپ، سیلنا گومز، جسٹن بیبر، جینفر لوپیز اور دیگر شامل ہیں۔ اداکاروں کی بڑی تعداد بیورلی ہلز نامی علاقے میں رہتی ہے۔
یہاں پر ہالی وڈ کی بہت سی اہم نشانیاں موجود ہیں جن میں والٹ ڈزنی،بالی وڈ باول، بالی وڈ واک آف فیم، ڈولبی تھیٹر دیگر شامل ہیں۔ ہر سال یہاں آسکر ایوارڈز کی میزبانی بھی کی جاتی ہے۔ہالی وڈ کا ایک قدیم سائین بھی لگا ہوا ہے جو اس جگہ کی پہچان ہے۔
اگر ہم لاس اینجلس کو ارضیاتی طور پر دیکھیں تو یہ بحرالکاہل کے رنگ آف فائر پر موجود ہے اور یہاں اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں۔ لاس اینجلس کی آب و ہوا کا جائزہ لیں تو یہاں گرمی کا موسم طویل ہوتا ہے اور سردی کا دورانیہ کم ہوتا ہے۔ سردیوں اور بہار کے موسم میں بارش ہوتی ہے لیکن گرمیاں خشک ہوتی ہیں۔ موسم سرما میں سانتا انا کیلی فورنیا سے آنے والی ہوائیں یہاں خشک اور گرم بخارات کو پیدا کرتی ہیں جس کی وجہ سے اکثر جنگلات میں آگ بھڑک اٹھتی ہے۔
جنوری میں بھی ایسا ہی ہوا اور اچانک آگ بھڑک اٹھی جس کی زد میں بہت بڑی آبادی آگئ۔ ابھی اس بات کا تعین کرنا باقی ہے کہ یہ آگ انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے لگی یا آب ہوا میں تبدیلی اس کی وجہ تھی۔
تاہم اس آگ نے دیکھتے دیکھتے بڑے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس آگ سے جہاں عام شہری متاثر ہوئے وہاں ہالی وڈ اداکاروں کے قیمتی محلات جیسے گھر بھی تباہ ہوگئے۔ پیرس ہلٹن، انتھونی ہوپکنز، جیف بریجز، یوجین لیوی، جیمز وڈز دیگر کے گھر اس آگ کی لپیٹ میں آگئے۔
پوش علاقے ایسا منظر پیش کررہے تھے جیسے یہاں کسی نے کوئی طاقت ور بم مار دیا ہو۔ جلے ہوئے مکانات پگھلی ہوئی اشیا، جلی ہوئی گاڑیاں ، تباہ ہوئے تجارتی مراکز کے مناظر بہت خوفناک تھے۔
مالیبو کے ساحل پر امرا کے مہنگے گھر اب کھنڈر کا منظر پیش کررہے ہیں۔ اس جگہ پر اداکار اور امیر لوگ گھر لینا باعث امارات سمجھتے تھے۔ ساحلی پٹی پر یہ رہائشی علاقہ اب مکمل تباہ ہوگیا ہے۔ لوگ اپنے اثاثوں کو جلتا دیکھ کر غمگین ہیں یہ آگ انکی حسین یادوں کو نگل گئ۔ کروڑوں کا نقصان ہوا اور لاکھوں لوگ نقل مکانی کرچکے ہیں۔
یہ آگ کیوں لگی امریکی حکومت نے اس کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ تاہم امریکا جیسی سپر پاور بھی قدرت کے سامنے بےبس نظر آئی۔ جنہوں نے اپنے پیاروں کو اس آگ میں کھودیا اور جنہوں نےاپنے گھر اپنے سامنے خاک کا ڈھیر بنتے دیکھے انکے زہنوں میں یہ ہی سوال ہیں کہ کیا یہ آگ انسانی غلطی سے لگی اور پھیلی یا یہ کسی انسانی سرگرمی کا نتیجہ تھی یا پھر موسمیاتی تبدیلیاں اس پیچھے کارفرما ہیں۔
ایسے بہت سے سوالات کا جواب نئ حکومت کو دینا ہوگا اور متاثرین کی بحالی کی ایک بڑا چلینج ہوگی کیا بیمہ کمپنیاں اتنے کلیمز سہہ پائیں گی یا پھر دیوالیہ ہوجائیں گی یہ تو آنے والا وقت بتائے گا۔ ہم کسی طور پر قدرتی آفات کو روک نہیں سکتے لیکن موثر حکمت عملی اور بہترین ریسکیو ریلیف کے نظام سے اس کے نقصانات کا تخمینہ کم کرسکتے ہیں۔