اپریل 5, 2025 12:38 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

اس بار رمضان واقعی مختلف ہو!

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک

ہر سال رمضان آتا ہے، ہم روزے رکھتے ہیں، عبادات میں اضافہ کرتے ہیں، قرآن پڑھتے ہیں، صدقہ دیتے ہیں۔ مگر کیا کبھی سوچا کہ کیا ہم واقعی بدلے؟ کیا ہماری نیکیاں، ہماری عبادتیں، ہمارے آنسو، یہ سب کسی حقیقی تبدیلی کا پیش خیمہ بنے؟ یا سب کچھ ایک رسمی عمل تھا، جو رمضان کے بعد ویسا ہی ختم ہوگیا جیسے چاند رات کو دعاؤں کے بعد موبائل میں مصروفیت شروع ہو جاتی ہے؟

اگر رمضان بس اتنا ہی ہے تو ہم نے اس کے اصل مقصد کو نہیں پایا۔ اللہ نے رمضان کو “لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ”(البقرہ: 183) یعنی تقویٰ حاصل کرنے* کا ذریعہ بنایا ہے، نہ کہ صرف بھوک اور پیاس سہنے کا۔

اللہ کا قرب، مگر کیسے؟

ہم سب چاہتے ہیں کہ اللہ ہمیں اپنے قریب کر لے، مگر ہم اس کے لیے محنت کم کرتے ہیں۔ اللہ نے ہمیں خود طریقہ بتایا ہے:

“يَا أَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا ٱتَّقُوا ٱللَّهَ وَٱبْتَغُوا إِلَيْهِ ٱلْوَسِيلَةَ وَجَـٰهِدُوا فِى سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ”

(اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اس کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جدوجہد کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔) (المائدہ: 35)

یعنی اللہ کا قرب محض زبانی دعوؤں سے نہیں ملتا، اس کے لیے ہمیں محنت کرنی ہوگی، اپنی نیتوں کو خالص کرنا ہوگا، اپنی زندگی کو قرآن اور سنت کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔

یہ رمضان واقعی مختلف کیوں نہ ہو؟

قرآن کو سمجھیں، عمل کریں، ہم رمضان میں قرآن ختم کرنے کی کوشش تو کرتے ہیں، مگر کیا کبھی رک کر سوچا کہ اللہ ہم سے کیا چاہتا ہے؟ کیوں نہ اس بار قرآن کو ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ پڑھیں؟ روز ایک آیت پر غور کریں، اس پر عمل کرنے کی نیت کریں۔

نماز میں اللہ سے بات کریں۔ ہم نماز پڑھتے ہیں مگر اکثر دل کہیں اور ہوتا ہے۔ کیوں نہ اس بار نماز کو فرض سمجھ کر نہیں، بلکہ اللہ سے ملاقات سمجھ کر ادا کریں؟ دعا کرتے وقت موبائل نہ دیکھیں، آنسو نہ روکیں، دعا کو رسمی عمل نہ بنائیں بلکہ حقیقت میں اللہ سے مانگیں۔

اپنی زبان اور نیتوں کی حفاظت کریں۔ روزہ صرف کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں بلکہ آنکھوں، زبان، اور دل کو بھی گناہوں سے بچانے کا نام ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ، فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ”  (جو شخص جھوٹ اور برے عمل کو نہ چھوڑے، تو اللہ کو اس کے بھوکا اور پیاسا رہنے کی کوئی حاجت نہیں۔) (بخاری: 1903)

لوگوں کو معاف کریں، رشتے جوڑیں۔ ہم عبادتیں تو کرتے ہیں، مگر کیا ہمارے دل صاف ہیں؟ اس بار صرف نمازوں کی تعداد نہ بڑھائیں، بلکہ دل کی میل بھی صاف کریں۔ جس سے ناراض ہیں، اسے معاف کریں۔ جس نے زیادتی کی، اس کے لیے دعا کریں۔

حقیقی نیکی کریں۔ صدقہ دینا آسان ہے، مگر حقیقی نیکی وہ ہے جو کسی کی زندگی بدل دے۔ کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھیں، کسی پریشان شخص کی مدد کریں، کسی دکھی دل کو دلاسہ دیں۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“أَحَبُّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ” (اللہ کے نزدیک سب سے محبوب شخص وہ ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ نفع پہنچائے۔) (صحیح الجامع: 176)

یہ رمضان ضائع نہ ہو!

اللہ ہمیں ایک اور موقع دے رہا ہے، ہمیں بلارہا ہے، ہمیں اپنی طرف آنے کا وقت دے رہا ہے۔

“إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا۟ مَا بِأَنفُسِهِمْ” (بے شک، اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں۔) (الرعد: 11)

اگر اس رمضان میں بھی ہم نہ بدلے، تو پھر کب بدلیں گے؟ اگر اس بار بھی ہمارا دل ویسا ہی سخت رہا، اگر ہمارے گناہ ویسے ہی برقرار رہے، اگر ہمارے اعمال میں وہی لاپرواہی رہی، تو کیا یہ رمضان واقعی قبول ہوگا؟

آئیے اس بار سچے دل سے اللہ کی طرف پلٹ آئیں۔ ایسا رمضان گزاریں کہ جب شوال کا چاند طلوع ہو، تو ہم صرف نئے کپڑوں میں نہیں، بلکہ نئی روح کے ساتھ، نئے ارادوں کے ساتھ، اور ایک بدلے ہوئے دل کے ساتھ کھڑے ہوں۔

اللّٰہ ہمیں ایسا رمضان عطا کرے جو ہمارے دلوں کو بدل دے، ہمیں اس کے قریب کر دے، اور ہمارے اعمال کو ہمارے لیے جنت کا ذریعہ بنا دے۔ آمین!

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس