اپریل 5, 2025 12:39 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

فرق کہاں سے پڑتا ہے؟

عامر خاکوانی
عامر خاکوانی

یہ وہ سوال ہے جس پر میں اکثر غور کرتارہتا ہوں کہ وہ کیا چیز ہے، کیا ایکس فیکٹر ہے جو ایک شخص،تنظیم یا ادارے کو ٹاپ پر لے جاتا ہے۔ اسے دوسروں سے مختلف اور منفرد بنا دیتا ہے۔ ہم بہت بار دیکھتے ہیں کہ ایک ساتھ سٹارٹ لیا جاتا ہے اور پھر چند برسوں کے اندر ایک جیسی صلاحیت اور ٹیلنٹ رکھنے والے بعض لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں، ان میں سے ہی کوئی ایک یا دو تین لوگ آگے نکل جاتے ہیں، بہت آگے۔ یہ معاملہ کاروبار کا بھی ہے۔ ایک ساتھ کمپنی بنانے والے، دکان شروع کرنے یا کوئی اور کاروبار کرنے والے لوگوں میں سے بھی بعض آگے دوڑے چلے جاتے ہیں جبکہ ان میں سے کچھ لوگ ٹھوکر کھا کر گر جاتے اور کبھی تو کاروبار تک سے باہر ہوجاتے ہیں، چند ایک البتہ درمیانی رفتار سے لگے رہتے ہیں اور اوسط درجے کی کامیابیاں لے لیتے ہیں۔

سوال پھر وہی ہے کہ کیا چیز ہے جو ان میں فرق ڈالتی ہے، کسی ایک کو آگے اور دوسروں کو پیچھے رہ جانے پر مجبور کر دیتی ہے۔

اس اہم سوال کے کئی جواب ہوسکتے ہیں۔ ہر ایک کا معاملہ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے، بعض شعبے بھی دوسروں سے الگ اور منفرد ہوتے ہیں۔ سیلف ہیلپ لٹریچر میں بہت سی کامیابیوں اور ناکامیوں کی کہانیاں ملتی ہیں۔ ماہرین نے بے شمار لوگوں کی زندگیوں کا جائزہ لے کر اپنے نوٹس بنائے اور پھر انہیں کتابی شکل میں شائع کئے۔ ان سب کی افادیت ہے، مگر میں اس وقت ان تفصیلات میں نہیں جاناچاہتا، مختصر سپیس میں نمایاں اور اہم ترین نکات پر رہوں گا۔

مجھے لگتا ہے کہ فطری ٹیلنٹ یعنی ذہانت ضروری ہے، یہ آدمی کو دوسروں سے مختلف اور ممتاز بناتی ہے۔ طبعی رجحان کی بھی اہمیت ہے۔ آدمی اگر اپنی مرضی اور پسند کے پروفیشن میں ہو تو وہاں محنت کرنے کا جی بھی چاہتا ہے ۔ مواقع ملنا بھی بہت زیادہ اہم ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں جہاں ظالمانہ، استحصالی سسٹم ہے ، جو ٹیلنٹ کے خلاف رکاوٹیں کھڑی کر دیتا ہے۔ وہاں پر مواقع ملنا، بریک تھرو مل جانا بھی بہت اہم ہے۔ یہ ایک طرح سے خوش قسمتی کا عنصر ہے۔ آپ کا ہاتھ کوئی پکڑ لیتا ہے، کہیں سے ایسی رہنمائی، مدد مل جاتی ہے کہ راستہ نکل آئے، سفر آسان ہوجائے۔ ٹائمنگ بھی بہت اہم ہے۔ بعض لوگ اپنے وقت سے دس بیس سال پہلے یا بعد میں پیدا ہوجاتے ہیں، وہ اگر کچھ پہلے آتے یا کچھ بعد میں تو شائد بہتر رہتا۔ یہ مگر قسمت کا عنصر ہے جس کا اپنا ایک خاص کردار ہے۔

ایک بڑا فیکٹر ویژن کا بھی ہے، آپ مستقبل پر کتنی نظر رکھتے ہیں، آنے والے حالات، واقعات کا کس قدر اندازہ لگا پائیں گے ؟ یہ بھی بہت اہم ہے۔ ہم نے وہ کہانیاں پڑھ رکھی ہیں، جب بڑی اور کامیاب کمپینوں نے مستقبل پر نظر نہ رکھی، بدلتے ٹرینڈز کا ادراک نہیں کیا اور پھر وہ مٹ گئیں، مارکیٹ ہی سے آوٹ ہوگئیں۔ کوڈک فلم کمپنی ہو یا نوکیا فون اور پھر بلیک بیری، یہ سب ایسی مثالیں ہیں جن سے عبرت سیکھنی چاہیے۔ خود مائیکرو سافٹ بھی کئی حوالے سے گوگل وغیرہ سے پیچھے رہ گیا۔ اس کا فون بیکار رہا، سرچ انجن بھی ۔

یہ سب اپنی جگہ مگر کامیابی اور ایکسٹرا آرڈنری کامیابی صرف ان سے نہیں ملتی۔ مجھے سینئر صحافی ،اینکر حسن نثار صاحب کی بات یاد آئی۔ چار پانچ سال قبل ان کے گھر بیٹھے تھے، باتوں میں حسن نثار کہنے لگے کہ میرا بیٹا ایک روز میرے پاس آ کر بیٹھا اور پوچھنے لگا، بابا ایکسٹرا آرڈنری بننے کے لئے کیا کرنا چاہیے؟ حسن نثار کہتےہیں، میں نے اسے مسکرا کر کہا تمہارے سوال ہی میں جواب ہے۔ ایکسٹرا آرڈنری بننے کے لئے ایکسٹرا کوشش کرنا پڑتی ہے۔ عام ، روٹین کی کوشش کریں گے تو آرڈنری ہوں گے، جبکہ اگر ایکسٹرا آرڈنری کوشش ہوگی تو آدمی ایکسٹرا آرڈنری (غیر معمولی )کامیابی حاصل کر لےگا۔

یہی ایکسٹرا آرڈنری کوشش ہی آخری تجزیے میں فرق ڈالنے والی چیز ہے۔ اپنی ذات، کام اور کاروبار وغیرہ میں ڈسپلن کے ساتھ درست سمت میں کی گئی بے پناہ محنت۔ آخر کار یہی رنگ لاتی ہے۔ خاص کر لمبا کھیلنے کے لئے، اپنی کامیابیوں کا سلسلہ دراز کرنے کے لئے تو یہ بہت ضروری ہے۔ آپ اپنے ٹیلنٹ، موقعہ محل کی مناسبت، حالات وغیرہ کی بنا پر کامیابی کا ایک فیز تو نکال سکتے ہیں، زیادہ نہیں۔

آج کل کھیلوں کا سیزن ہے، ہر طرف کرکٹ چل رہی ہے، اسے لے لیتے ہیں ۔مجھے لگتا ہے کہ کامیابی کے لئے صرف ٹیلنٹ کافی نہیں۔ ہم نے بہت سے ٹیلنٹیڈ کھلاڑی دیکھے، جن میں غیر معمولی صلاحیت تھی، وہ بطور بلے باز گیند کو جلد دیکھ سکتے تھے، ان کی ٹائمنگ اچھی تھی، سٹروکس کھیلنے کی صلاحیت کمال تھی ۔ بطور باولر بھی ان کے پاس ٹیلنٹ تھا،تیز رفتار ، لمبا قد، سوئنگ کرانے کی نیچرل صلاحیت، سمجھ بوجھ وغیرہ۔ سپنرز میں بھی کئی گاڈ گفٹڈ قسم کے سپنر ہوتے ہیں، ان میں فطری صلاحیت ہوتی ہے۔

اس سب کچھ کے باوجود ہم نے ان میں سے بہت سوں کو ناکام ہوتے، ٹیموں سے ڈراپ ہوتے دیکھا ہے۔ وہ بعد میں اپنی نالائقی، کمزوریوں کا تجزیہ کرنے کےبجائے سسٹم سے شاکی رہتے اور دوسروں پر الزام تھوپتے ہیں۔ پاکستانی کرکٹ کے پچھلے پندرہ برسوں کو دیکھا جائے تو عمر اکمل، احمد شہزاد ایسے کھلاڑی نظر آتے ہیں۔

عمر اکمل میں بہت ٹیلنٹ تھا، اچھا سٹروک پلیئر تھا، اس کی خوش قسمتی کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ شروع ہوگئی تھی جو اسے سوٹ کرتی تھی، مگر اپنی سستی، فٹنیس پر توجہ نہ دینے، فوکس کم کرنے اور اپنے ٹمپرامنٹ کے ایشوز کے باعث یہ ٹیم سے باہر ہوگیا۔ یہی حال احمد شہزاد کا ہے۔ اب وہ ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر سب پر تند وتیز گھٹیا ذاتی حملے کر کے بھڑاس نکال رہا ہے۔ حسن علی کی مثال بھی لے سکتے ہیں، حیدر علی بھی ایک نمایاں مثال ہے۔ جادوگر سپنر عبدالقادر کا بیٹا عثمان قادر اب پاکستانی سسٹم کا شاکی ہوگا، وہ آسٹریلیا شفٹ ہو رہا ہے۔ اپنی غلطیوں کو وہ مگر نہیں دیکھے گا۔ اسے مصباح الحق نے بریک دلا دیا۔ ٹی ٹوئنٹی، ون ڈے دونوں میں مواقع ملے، پی ایس ایل میں بھی اس نے کام کیا۔ عثمان قادر مگر اپنی کارکردگی میں تسلسل پیدا نہ کر سکا۔ اس نے باولنگ میں محنت نہیں کی، بنیادی چیزوں پر محنت نہیں کی، اپنی لائن لینتھ پر کنٹرول حاصل نہ کیا، اس کی گگلی اچھی تھی، مگر فلپر، ٹاپ سپن اور لیگ بریک پر زیادہ محنت نہیں کی۔ جس کے نتیجے میں آؤٹ ہوگیا۔ اب وہ آسٹریلیا شفٹ ہوگیا ہے، وہاں ڈومیسٹک کرکٹ کھیلتا رہے گا، ممکن ہے شہریت ملنے اور خاص وقت گزارنے کے بعد کبھی آسٹریلین ٹیم میں بھی آ جائے، لیکن اگر اس نے محنت کر کے اپنی خامیاں دور نہ کیں تو ٹیم میں ٹک نہیں سکے گا۔ عمران طاہر نے جنوبی افریقی کرکٹ میں نام کمایا تو محنت بھی بہت کی۔ وہ اچھا انٹرنیشنل لیگ سپنر تھا، مگر فنگرز سے گگلی سیکھنے کے لئے خاص طور سے عبدالقادر کے پاس آیا، اس سے درخواست کی یا فیس ادا کی، جو بھی ہے، قادر نے اس کے لئے ٹائم نکالا، اسے سکھایا۔ یہ ہنر بعد میں عمران طاہر کےانٹرنیشنل کیرئر کو طوالت بخش گیا۔ ستم ظریفی ہے کہ عبدالقادر کے فن سے اس کی اولاد سے زیادہ دوسروں نے فائدہ اٹھایا۔

ایسی بہت سی مثالیں دنیا بھر میں مل جائیں گی۔ جن کا ڈریم ڈیبیو ہوا۔ پہلے میچ میں حیران کن کارکردگی دکھائی۔ مجھے یاد ہے کہ ایک انڈین سپنر نریندرہروانی نے اپنے پہلے میچ میں سولہ وکٹیں لے کر ہر ایک کو حیران کر دیا تھا۔ اس کا نام بھی اب کوئی نہیں جانتا۔ یاسرحمید نے اپنے پہلے ٹیسٹ میچ کی دونوں اننگز میں سنچریاں بنائیں، جو ایک شاندار آغاز تھا۔ یاسر حمید بھی اپنی غلطیوں کے باعث قافلے سے پچھڑ گیا۔

آج ہم ویراٹ کوہلی کی بات کرتے ہیں۔ کوہلی کی بے مثال کامیابیوں کے پیچھے اس کی بے پناہ محنت، ڈسپلن اور مستقل مزاجی ہے۔ وہ اتنے برسوں سے جنونیوں کے سے انداز میں محنت کرتا ہے۔ ابھی سال بھر پہلے دو ڈھائی سال مشکل گزارے، آوٹ آٖف فارم تھا، کوہلی اپنے آپ سے لڑتا رہا اور آخرکار فارم حاصل کر کے دکھائی، اہم میچز میں پرفارم کیا اور پھر سے سپرسٹار بن گیا۔ پچھلے سال ورلڈ کپ فائنل میں جو اننگ کوہلی نے کھیلی ، وہ یادگار رہے گی۔ ابھی چیمپینز ٹرافی میں پاکستان اور سیمی فائنل میں آسٹریلیا کے خلاف کوہلی نے شاندار اننگز کھیلیں۔ یہ اس کے بہترین بلے باز ہونے کا ثبوت ہیں۔ کوہلی کا راستہ سب کے سامنے اوپن ہے، ہر ایک کو پتہ ہے کہ اس نے کیا کیا ؟ پیروی کرنے والے بھی کامیاب ہوسکتے ہیں۔ اس کے لئے البتہ انہیں اپنے ہزاروں گھنٹے محنت اور جان لڑانے میں کھپانے ہوں گے۔ ہر چیز کی ایک قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ یقین کریں کہ کامیابی اور دیرپا کامیابی کم نہیں، البتہ جب کامیابیاں ملیں تب جسم وروح سرشار ہوجاتے ہیں اورثمر مل جاتا ہے۔

عامر خاکوانی پاکستانی صحافی ہیں۔ وہ متعدد اشاعتی اداروں سے وابستہ رہے ہیں۔ اخبارات میں کالم نویسی کے بعد اب ڈیجیٹل بلیٹ فارمز پر بلاگ لکھتے ہیں۔ مشکل سے مشکل موضوع کو دلچسپ پیرائے اور عام فہم انداز میں قاری تک پہنچانے میں انہیں خصوصی ملکہ حاصل ہے۔

عامر خاکوانی

عامر خاکوانی

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس