اپریل 5, 2025 12:34 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

کیا بھارت حقیقی چیمپئن قرار پائے گا؟

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک

بھارتی ٹیم ممکن ہے چیمپئن ٹرافی تو جیت جائے مگر جینٹلمین کے کھیل کرکٹ میں دن بدن بطور چیٹر رجسٹرڈ ہوتے جارہے ہیں۔
مرد میدان اور اکھاڑے میں حقیقی پہلوان وہی ہوتا ہے جو اپنے زور بازو سے فتح سمیٹے۔ اپنے لیے سازگار ماحول بنانا ، بیرونی و اندرونی سپورٹ کے ساتھ آپ اگر جیت بھی جائیں تو محض ایک ٹرافی ہی اٹھاتے ہیں اگر آپ کی جیت کو سب قبول نہ کریں آپ کو داد نہ دیں تو پھر آپ کی جیت کا مزا کرکرا ہوکر رہ جاتا ہے اور آپ کا ضمیر آپ کو ملامت کرتا رہتا ہے۔
پہلے پہل آسٹریلین اس سے ملتی جلتی حرکتیں کرتے تھے تو اب بھارت سر فہرست ہے۔
حالیہ چیمپئنز ٹرافی میں جس طرح پاکستان کے میزبان ہونے کے باوجود بھارت نے یہاں کھیلنے سے انکار کرتے ہوئے اپنے لیے ہائبرڈ ماڈل چنا اور پھر تمام ٹیموں کو اپنے پاس دبئی بلاکر میچز کھیلتے ہوئے فائنل تک اپنی رسائی حاصل کی اس پر اب ہر طرف سے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔
ساؤتھ آفریقن بلے باز ملر نے آئی سی سی اور بھارت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم پاکستان سے فلائٹ لے کر 4 بجے دبئی پہنچے پھر اگلے ہی روز صبح 7:30 بجے واپس پاکستان پہنچ کر 1 بجے میچ کھیل رہے تھے یہ کسی صورت بھی ہمارے لیے آئیڈیل نہیں تھا۔ انہوں مزید کہا ہے کہ ہم اگر ایمانداری سے بات کریں تو نیوزی لینڈ کو سپورٹ کریں گے۔ اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ بھارت نے اس معاملے میں چیٹنگ کا مظاہرہ کیا ہے۔
ایک اور افریقی کھلاڑی ڈوسن نے بھی بھارت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ جب آپ ایک ہی میدان میں تمام میچز کھلتے ہیں ایک ہی پچ پر بار بار کھیل کر کامیاب ہوتے ہیں اور اپنے حق میں ماحول بناتے ہیں تو اس لیے آپ کو یہ سمجھنے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے کہ آپ کامیاب کیوں ہورہے ہیں۔
برطانوی اخبار نے بھی بھارت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے جملہ کسا ہے کہ فائنل کے لیے ٹاس کرانے کی کیا ضرورت ہے بلکہ سیدھا سیدھا بھارت سے ہی پوچھ لیا جائے وہ کیا کرنا چاہتے ہیں۔
پاکستانی سٹار شاہد آفریدی بھی اس معاملے میں خاموش نہیں رہے انہوں نے تو بھارتی ٹیم کو گلی محلے کی اس ٹیم سے تشبیح دے دی ہے کہ جو اپنی ہی گلی میں شیر ہوتی ہے اور تمام میچز جیت جاتی ہے ۔ انہوں نے بھارتی ٹیم کو کہا ہے اگر وہ شیر کے بچے ہیں تو پاکستان میں آکر کھیلیں تب حقیقی کرکٹ سب کو دیکھنے کو ملے گی انہوں نے مزید کہا مگر یہ بھارتی تو گیدڑ ہیں۔
فوکس نیوز نے اس معاملے پر لکھا ہے نیوزی لینڈ نے 7048 کلومیٹر کا سفر طے کیا ہے اس چیمپیئنز ٹرافی میں جبکہ بھارت نے دبئی میں رہ کر سفر کلومیٹر کے فاصلے کے ساتھ اپنے تمام میچز کھلیے ہیں۔ یہ ایک مذاحیہ صورت حال ہے کہ جس میں پاکستان کے بطور میزبان ہاتھ مضبوطی سے باندھے گئے تھے۔صورت حال تمام کی تمام واضح ہے جو کھلواڑ کیا گیا ہے۔
اسی طرح سابق آسٹریلوی کپتان مائیکل وا نے بھی بھارت کو اس ساری کیفیت میں آڑے ہاتھوں لیاہے،
اس پر سونے پر سہاگہ یہ کہ بھارتی فاسٹ باؤلر محمد شامی نے بھی اس بات کا اقرار کیا ہے کہ یقیناََ ایک ہی پچ پر کھیلنے کا ہمیں بہت زیادہ ایڈوانٹیج مل رہا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے اگر بھارت اس چیمپئنز ٹرافی کی ٹرافی اٹھا بھی لیتا ہے تو کیا اس کی جیت کو دنیا تسیلم کرے گی؟ اور دوسری طرف یہ تمام گورے جو اب چیخ و پکار کر رہے ہیں یہ اس وقت کیوں چپ سادھے بیٹھے تھے جب جینٹیلمین کے کھیل کرکٹ کے ساتھ جے شاہ کھلواڑ کررہا تھا۔
ایسے میں یہ محاورہ بالکل سچ ثابت آتا ہے
کہ ” اب پچھتائے کیا ہوت، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت”

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس