اپریل 7, 2025 3:39 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

’انڈیا کا خود کو مظلوم ظاہر کرنا حقیقت کو چھپا نہیں سکتا‘ پاکستان کا مودی کو دوٹوک جواب 

اظہر تھراج
اظہر تھراج
پاکستانی صحافیوں کا دورہ اسرائیل، دفتر خارجہ نے ان خبروں کی تردید کر دی( فائل فوٹو)

پاکستان نے انڈین وزیر اعظم نریندرا مودی کے لگائے گئے الزامات کی نفی کی ہے جو انہوں نے ایک پوڈکاسٹ کے دوران لگائے تھے۔

 انڈین وزیراعظم نے پیر کے روز لیکس فریڈ مین کے ساتھ پوڈکاسٹ میں شرکت کی اور مختلف سوالات کے جواب دیے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے مودی کے الزامات کو گمراہ کن قرار دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بیان گمراہ کن اور یک طرفہ ہے۔ اس میں جموں و کشمیر کے تنازعے کو جان بوجھ کر نظرانداز کیا گیا جو گذشتہ سات دہائیوں سے حل طلب ہے، باوجود اس کے کہ انڈیا نے اقوام متحدہ، پاکستان اور کشمیری عوام کو اس کے حل کے لیے باضابطہ یقین دہانیاں کرا رکھی ہیں۔‘

ترجمان کا کہنا تھا کہ انڈیا کا خود کو مظلوم ظاہر کرنے کا من گھڑت بیانیہ اس حقیقت کو نہیں چھپا سکتا کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دینے اور جموں و کشمیر میں ریاستی جبر میں ملوث ہے جس پر اس نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔

ترجمان نے کہا ہے کہ ’دوسروں پر الزام لگانے کے بجائے انڈیا کو اپنے ریکارڈ پر غور کرنا چاہیے جس میں دوسرے ملکوں میں ٹارگٹ کلنگ، تخریب کاری اور دہشت گردی کرانا شامل ہے‘۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ تعمیری روابط اور نتیجہ خیز مذاکرات کا حامی رہا ہے تاکہ تمام دیرینہ مسائل، خصوصاً جموں و کشمیر کے بنیادی تنازعے کو حل کیا جا سکے۔ تاہم جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام انڈیا کے ضد پر مبنی رویے اور تسلط پسندانہ عزائم کی وجہ سے یرغمال بنا ہوا ہے۔

مودی نے دہشت گردی کا الزام پاکستان پر لگایا ہے۔ (تصویر: انڈین میڈیا)

’انڈیا کی طرف سے پھیلایا جانے والا پاکستان مخالف بیانیہ دوطرفہ ماحول کو خراب کرتا اور امن اور تعاون کے امکانات کو نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔‘

یاد رہے کہ پوڈ کاسٹ میں نریندر مودی سے سوال کیا گیا کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان تعلقات سرد سطح پر ہیں اور وہ ان کے مستقبل کے طور پر کیا دیکھتے ہیں؟۔

مودی نے اس پر جواب دیا تھا کہ’ تقسیم کے المناک واقعات کے بعد جس نے دونوں طرف خونریزی دیکھی، ’ہم نے ان (پاکستان) سے جینے اور جینے کی توقع کی، لیکن پھر بھی، انہوں نے ہم آہنگی کے ساتھ بقائے باہمی کو فروغ دینے کا انتخاب نہیں کیا۔ انہوں نے بار بار انڈیا کے ساتھ اختلافات کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے ہمارے خلاف پراکسی جنگ چھیڑ رکھی ہے۔‘

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ ’دہشت گردی کے عالمی واقعات میں پاکستان کا ملوث ہونا پایا جاتا ہے،دنیا میں جہاں بھی دہشت گردی ہوتی ہے، راستہ کسی نہ کسی طرح پاکستان کی طرف جاتا ہے‘۔

 آئیے مثال کے طور پر 11 ستمبر کے حملوں کو لے لیں۔ اس کے پیچھے اصل ماسٹر مائنڈ، اسامہ بن لادن، آخر وہ کہاں سے نکلا؟ اس نے پاکستان میں پناہ لی تھی۔‘

 

اظہر تھراج

اظہر تھراج

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس