اپریل 7, 2025 4:08 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

بلوچستان و کے پی کی صورتحال داخلی تحفظ و حکومتی رٹ پر سوالیہ نشان ہے، حافظ نعیم الرحمان 

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
بلدیاتی انتخابات میں بھی کراچی کے عوام نے جماعت اسلامی کو کراچی کی نمبر ون پارٹی بنایا۔ (فوٹو: پاکستان میٹرز)

امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 27 حملے ہوئے ہیں، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی صورتحال داخلی تحفظ اور حکومتی رٹ پر ایک سوالیہ نشان ہے۔

جماعت اسلامی ضلع ائیر پورٹ کے تحت آر سی ڈی گراؤنڈ ملیر سعودآباد میں عوامی دعوت افطار سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت بہت مشکل حالات سے گزر رہا ہے۔ گزشتہ ایک ماہ میں خیبر پختونخوا میں سینکٹروں حملے ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹے میں 27 حملے ہوئے، بلوچستان میں جعفر ایکسپریس کو یرغمال بنالیا گیا اور بڑی تعداد میں مسافروں کو یرغمال بنایا گیا۔ ملک میں بھارتی را اور امریکی سی آئی اے آزادانہ طریقے سے کام کررہی ہیں۔ اس پورے عمل نے حکومت پاکستان کے لیے داخلی تحفظ اور حکومتی رٹ پر سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ارباب اختیار کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ جب تک وہ اپنے فیصلے درست نہیں کریں گے، عوام اور فوج کے درمیان فاصلے بڑھتے رہیں گے اور حکمران طبقہ جب تک زبردستی مسلط ہوتا رہے گا مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اسٹیبلشمنٹ اور تمام ادارے اپنی اپنی آئینی ذمہ داری پوری کریں۔ عوام کے حقیقی نمائندوں کو آگے آنے دیں عوام ان کا ساتھ دیں گے۔

عوام کے حقیقی نمائندوں کو آگے آنے دیں عوام ان کا ساتھ دیں گے۔ (فوٹو: پاکستان میٹرز)

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کہتے ہیں کہ مہنگائی کی شرح کم ہوگئی ہے  وہ عوام کو بتائیں کہ مہنگائی پاکستان کے کس حصے میں کم ہوئی ہے، اس صورتحال میں پوری قوم کو متحد اور متفق ہوکر ان حکمرانوں سے جان چھڑانا ہوگی، جنہوں نے ملک پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ عید کے بعد ”حق دو عوام کو“ تحریک ایک بار پھر شروع کریں گے۔

امیر جماعتِ اسلامی کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت فارم 47 کی پیداوار ہے، جو اسٹیبلشمنٹ کے سہارے اقتدار میں ہے، کراچی کے عوام نے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو یکسر مسترد کردیا، لیکن ان مسترد شدہ پارٹیوں کو ہمارے سروں پر بٹھا دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں بھی کراچی کے عوام نے جماعت اسلامی کو کراچی کی نمبر ون پارٹی بنایا، کراچی میں مئیر یقینی طور پر جماعت اسلامی کا بننا تھا، لیکن پیپلز پارٹی نے اسٹیبلشمنٹ کے تعاون سے زبردستی مئیر شب پر قبضہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤن چیئرمین ہیں، لیکن ان کو  سندھ حکومت کی جانب سے فنڈ نہیں ملتے۔ صورتحال یہی رہی تو قابض مئیر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائیں گے اور سابق  ناظم کراچی نعمت اللہ خان کی طرح بلا تفریق تمام ٹاؤنز کو بجٹ فراہم کریں گے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ سندھ میں کچے اور پکے کے ڈاکوؤں کا راج ہے۔ کراچی میں شہری روزانہ لوٹ مار کا شکار ہوتے ہیں، خواتین سمیت عام شہریوں کے لیے باعزت ٹرانسپورٹ موجود نہیں ہے۔ ہیوی ٹریفک کے باعث بھی دن دہاڑے اموات ہو رہی ہیں۔ نوجوانوں کو روزگار اور تعلیم کے مواقع ناپید ہیں۔

مزید پڑھیں: بلوچستان کا بے روزگار نوجوان ریاست مخالف عناصر کے ہتھے چڑھ جاتا ہے، وزیرِاعلیٰ بلوچستان

انہوں نے کہا کہ حکومت و ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کو تحفظ، امن اور معیاری تعلیم دے، پیٹرول عالمی مارکیٹ میں کم ہو رہا ہے، لیکن پیٹرول کی لیوی میں 10 روپے اضافہ کر کے اسے 60 روپے سے 70 روپے کر دیا گیا ہے۔

امیر جماعتِ اسلامی کا کہنا تھا کہ حکمران عوام سے ٹیکسز تو وصول کرتے ہیں، لیکن عوام کو کچھ نہیں دیتے۔ پارلیمنٹ کے ممبران نے اپنے تنخواہوں میں 300 فیصد تک اضافہ کر لیا۔ حکمرانوں نے آئی پی پیز مافیا کو ہم پر مسلط کیا اور 2 ہزار ارب روپے اس بجلی کی مد میں دیے جاتے رہے، جو بجلی بنائی ہی نہیں گئی۔

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس