اپریل 5, 2025 1:04 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

پاکستان میں ای کامرس اور فری لانسنگ کا بڑھتا رجحان کیا تبدیلی لائے گا؟

زین اختر
زین اختر

پاکستان میں ای کامرس اور فری لانسنگ کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ پچھلے چند برسوں میں ڈیجیٹل مارکیٹ میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، اور لاکھوں پاکستانی نوجوان اس شعبے سے وابستہ ہو چکے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے کاروبار کے روایتی طریقوں کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ آن لائن خرید و فروخت اب صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں بلکہ چھوٹے قصبوں اور دیہات میں بھی مقبول ہو چکی ہے۔ فری لانسنگ کے میدان میں پاکستان دنیا کے چند بڑے ممالک میں شامل ہو چکا ہے، جہاں نوجوان مختلف مہارتوں کے ذریعے زرمبادلہ کما رہے ہیں۔

ای کامرس کی ترقی کی ایک بڑی وجہ انٹرنیٹ اور اسمارٹ فونز کی دستیابی ہے۔ آن لائن مارکیٹ پلیسز جیسے دراز، علی بابا، اور ایمیزون نے پاکستانی صارفین کو عالمی مارکیٹ سے جوڑ دیا ہے۔ چھوٹے کاروباری افراد اور گھریلو سطح پر کام کرنے والے افراد کے لیے بھی آن لائن اسٹورز ایک نعمت ثابت ہو رہے ہیں۔ کئی خواتین اور طلبہ گھر بیٹھے اپنے کاروبار چلا رہے ہیں اور اس سے معقول آمدنی حاصل کر رہے ہیں۔

دوسری طرف، فری لانسنگ کے شعبے میں بھی بے پناہ ترقی دیکھی جا رہی ہے۔ پاکستانی نوجوان مختلف پلیٹ فارمز جیسے فائیور، اپ ورک، اور پیپل پر آور کے ذریعے دنیا بھر کے کلائنٹس کو اپنی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ سے زائد فری لانسرز کام کر رہے ہیں، جو سالانہ کروڑوں ڈالر کا زرمبادلہ ملک میں لا رہے ہیں۔

معروف فری لانسرز میں حشام سرور، عزیر علی، اور ضیا الرحمن جیسے نام شامل ہیں، جو نہ صرف خود کامیاب ہوئے بلکہ دیگر نوجوانوں کو بھی تربیت فراہم کر رہے ہیں۔ کئی نوجوان یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے فری لانسنگ کی تربیت حاصل کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے مزید لوگ اس شعبے کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔

تاہم، جہاں اس شعبے میں ترقی ہو رہی ہے، وہیں کئی مشکلات بھی درپیش ہیں۔ انٹرنیٹ کی سست رفتاری ایک بڑا مسئلہ ہے، جس کی وجہ سے کئی فری لانسرز کو بروقت کام مکمل کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ حالیہ مہینوں میں کئی بار انٹرنیٹ سروسز میں رکاوٹیں دیکھی گئیں، جس کی وجہ سے کئی فری لانسرز کے پروجیکٹس متاثر ہوئے اور ان کی آمدنی میں کمی آئی۔

ایک اور بڑا مسئلہ بینکنگ سسٹم اور حکومتی پالیسیز ہیں۔ پاکستان میں فری لانسرز کو بینک اکاؤنٹ کھلوانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور کئی بار بیرون ملک سے آنے والی ادائیگیوں پر غیر ضروری ٹیکس عائد کر دیا جاتا ہے۔ ایف بی آر کی پیچیدہ پالیسیوں کی وجہ سے کئی فری لانسرز ملک چھوڑ کر دوسرے ممالک میں کام کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ابوزر رفیق، جو فری لانسنگ اور ایک کامرس میں تقریباً 7 سال کا تجربہ رکھتے ہیں، نے کہا کہ “فری لانسنگ اور ای کامرس پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ فری لانسرز ہر سال کروڑوں ڈالر کا زرمبادلہ ملک میں لا رہے ہیں، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔ اسی طرح، ای کامرس نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو فروغ دیا ہے، جس سے روزگار کے مواقع بڑھ رہے ہیں اور کاروباری افراد کو عالمی مارکیٹ تک رسائی حاصل ہو رہی ہے۔ اگر حکومت ان شعبوں کو مزید سہولتیں فراہم کرے، جیسے بہتر انٹرنیٹ، بینکنگ سسٹم کی بہتری اور پے منٹ گیٹ ویز، تو ان شعبوں کا معیشت پر مزید مثبت اثر پڑ سکتا ہے”۔

ای کامرس کے میدان میں بھی کئی چیلنجز ہیں۔ آن لائن کاروبار کرنے والوں کو آئے دن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے مسائل، سائبر کرائم، اور غیر منظم قوانین شامل ہیں۔ کئی آن لائن اسٹورز کو غیر ضروری پالیسیوں کی وجہ سے بند کر دیا جاتا ہے، جس سے کاروباری افراد کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جدید طریقہِ روزگار کے آنے کے بعد روایتی تعلیم کی اہمیت کم یا ختم ہوگئی ہے۔ پاکستان میٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور میں شعبہِ کمپوٹر سائنس سے وابستہ پروفیسر جمیل چوہدری کا کہنا تھا کہ “روایتی تعلیم کی اہمیت اب بھی برقرار ہے، لیکن اس کا کردار بدل رہا ہے۔ اب تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں، بلکہ عملی مہارتیں سیکھنا بھی بن چکا ہے۔ فری لانسنگ اور ای کامرس کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے روایتی تعلیمی اداروں کو بھی جدید ڈیجیٹل مہارتوں کو نصاب میں شامل کرنا ہوگا۔ اگرچہ فری لانسنگ اور ای کامرس نے نوجوانوں کو بغیر ڈگری کے بھی کمانے کے مواقع فراہم کیے ہیں، لیکن طویل مدتی کامیابی کے لیے تعلیم اب بھی ضروری ہے۔ جدید دنیا میں وہی لوگ کامیاب ہوں گے جو روایتی تعلیم اور ڈیجیٹل مہارتوں کو یکجا کر کے کام کریں گے”۔

بہت سے چیلنجز کے باوجود، پاکستان میں ای کامرس اور فری لانسنگ کا مستقبل روشن ہے۔ اگر حکومت اور متعلقہ ادارے اس شعبے کو سہولت فراہم کریں، انٹرنیٹ کی بہتری، آسان بینکنگ سسٹم، اور فری لانسرز کے لیے معاونت جیسے اقدامات کریں، تو یہ شعبہ ملک کی معیشت میں ایک مضبوط ستون بن سکتا ہے۔ لاکھوں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں، اور پاکستان کو ڈیجیٹل معیشت میں عالمی سطح پر نمایاں مقام دلایا جا سکتا ہے۔

 

زین اختر

زین اختر

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس