سڑکوں پر پڑی مسخ شدہ دو لاشیں، بکھرے ہوئے انسانی اعضاء اور شہری کے ہاتھ میں دم توڑتا نومولود، یہ مناظر کسی جنگ زدہ علاقے کے نہیں تھے، بلکہ عروس البلاد کراچی کی مصروف شاہراہ ملیر ہالٹ پر پیش آنے والے اندوہناک ٹریفک حادثے کے تھے ، جس میں عبدالقیوم اس کی اہلیہ اور نومولود کو آدم خور واٹر ٹینکر نے تیز رفتاری کے باعث کچل دیا تھا۔
موٹر سائیکل سوار شاہ فیصل کالونی کے علاقے ناتھا خان کا 26 سالہ رہائشی عبدالقیوم اپنی حاملہ اہلیہ کے ہمراہ ہسپتال سے واپس گھر جارہا تھا، جہاں ملیر ہالٹ بریج کے سامنے انہیں رانگ سائڈ سے آتے ہوئے تیز رفتار واٹر ٹینکر نے ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں وہ دونوں شدید زخمی ہوگئے۔
24 سالہ زینب نے زخمی حالت میں بچے کو جنم دیا، جس کے بعد شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت نومولود کو قریبی ہسپتال میں فوری طبی امداد کے لیے بھیجا۔ زخمی والدین کو فوری طور پر جناح ہسپتال روانہ کیا گیا، مگر بدقسمتی کے ساتھ وہ دونوں دم توڑ گئے۔
پولیس نے موقع پر ہی ڈرائیور اور اس کے ساتھی کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کو ڈرائیور کے پاس سے لائسنس نہیں مل سکا، یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ لوگوں کو ڈمپر اور ٹینکر کی تیز رفتاری کے باعث موت کے گھاٹ اتارنے والے ڈرائیوروں کے پاس گاڑی چلانے کا لائسنس بھی موجود نہیں ہے۔
حادثے میں جاں بحق ہونے والے لواحقین کا کہنا ہے کہ ’ڈرائیور اور ٹینکر مالکان کو سخت سزا دی جائے، یہ ہماری خوشیوں کے قاتل ہیں، عید سے قبل گھر میں صف ماتم بچھ گئی ہے‘۔
سوشل میڈیا پر گردش کرتی ہوئی ویڈیو نے دل دہلا دیے ہیں، سوشل میڈیا پر ہیوی ٹریفک اور ڈمپر مافیا کے خلاف منظم مہم بھی چلائی جارہی ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے پولیس اور صوبائی انتظامیہ کو ان حادثات کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
اس دلخراش حادثے کے حوالے سے امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر کا کہنا تھا کہ ’ڈمپر موت بانٹ رہے ہیں اور حکومت سو رہی ہے۔ جماعت اسلامی نے اس حوالے سے سارے دروازے کھٹکھٹائے ہیں، ہم نے اس پر سفارشات بھی پیش کی ہیں، مگر حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ناردرن بائی پاس پر ہیوی ٹریفک کیوں نہیں جاتی؟ حکومت بے حس ہے ان میں حس موجود نہیں ہے، حکومت زخمیوں کے علاج کے لیے کوئی میکینزم بنائے۔ سندھ حکومت اور ٹریفک پولیس ٹینکرز و ڈمپرز کے ڈرائیوروں کو لگام دینے اور شہریوں کے تحفظ میں بُری طرح ناکام ہو گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی شہریوں کو لاوارث نہیں چھوڑے گی، منگل کی شام ملیر ہالٹ پر ڈمپر مافیا کے خلاف احتجاج کریں گے اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان بھی کریں گے۔
پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے رکن صوبائی اسمبلی شارق جمال کا کہنا تھا کہ ہم نے ٹریفک قوانین کے حوالے سے ترمیم بھی جمع کروائی ہے، مگر صوبائی حکومت صرف دلاسے دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں ڈمپر اور ٹینکر کی وجہ سے انسانی جانوں کی ہلاکت لسانی نہیں انسانی مسئلہ ہے، جسے کچھ لوگ تعصب کی ہوا دے رہے ہیں جو کہ کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہے۔
شارق جمال نے کہا ہے کہ اصل ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے، وہ قانون پر عمل کروائے، شہر میں واٹر ٹینکر دن دیہاڑے دندناتے پھر رہے ہیں اور کوئی انہیں روکنے والا نہیں ہے۔ پولیس رشوت لے کر ہیوی ٹریفک کو سڑکوں پر چھوڑ دیتی ہے اور یہ بات کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔
شارق جمال نے مزید کہا کہ عوام میں ان حادثات کو لے کر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، جو کہ جائز بھی ہے۔ شہر میں ہونے والے ہر پر امن احتجاج کی حمایت کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس میں انتشار نہ ہو کیونکہ پولیس قانون توڑنے والوں کے خلاف توکارروائی نہیں کرتی مگر احتجاج کرنے والوں کو فوری گرفتار کرلیتی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان اس حوالے سے اپنا مؤثر کردار ادا کرے گی۔
پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر راجہ اظہر نے اس المناک حادثے کا ذمہ دار ڈی آئی جی ٹریفک اور صوبائی حکومت کو قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت نے ان قاتل ٹینکروں اور ڈمپروں کو بھاری بھتوں کے عوض کراچی جیسے ہیوی ٹریفک والے شہر میں دن دہاڑے آزاد گھومنے کی اجازت دے رکھی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹریفک پولیس کے پاس اس ہیوی ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی پلان نہیں، ٹریفک پولیس کا کام صرف رشوت لینا رہ گیا ہے۔ دن کے اوقات میں ڈمپرز، ٹینکرز اور بڑی گاڑیوں کا شہر میں داخلہ بند کیا جائے، ورنہ پھر عوام کو لے کر سڑکوں پر آئیں گے۔ سندھ حکومت نے عوام کو مرنے کے لیے چھوڑدیا ہے، ٹیکس کے پیسوں سے آپ عیاشیاں کرتے ہیں خدارا ہوش کے ناخن لیں۔
ٹریفک قوانین اور بغیر لائسنس کے گاڑی چلانے پر سزاؤں کے حوالے سے ‘پاکستان میٹرز’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عثمان فاروق ایڈوکیٹ نے کہا کہ ٹریفک قوانین تو موجود ہیں مگر ان پر عملدرآمد کروانا ضروری ہے۔
ایڈووکیٹ عثمان فاروق کا کہنا ہے کہ موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 کے مختلف سیکشن کے تحت گاڑیوں کو رجسٹرڈ کیا جاتا ہے۔ اگر ڈرائیور کے پاس لائسنس موجود ہے اور کسی بداحتیاطی کے سبب کوئی حادثہ پیش آجاتا ہے تو آرٹیکل 320 قتل خطا کے تحت دس سال قید اور دیت کی سزا دی جائے گی، جب کہ لائسنس نہ ہونے کی صورت میں 322 قتل بالسبب کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا، جس میں حکومت پاکستان کی جانب سے متعین کردہ دیت کی رقم دینا لازم ہوگی۔
رواں سال میں ہیوی ٹریفک کی وجہ ہلاک ہونے کا پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے قبل بھی ملینیم مال گلستان جوہر کے علاقے میں تیز رفتار ڈمپر کی ٹکر سے میاں اور بیوی سمیت دو افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے تھے، جب کہ ملیر ہالٹ کے مقام پر تیز رفتار ڈمپر نے موٹر سائیکل سوار باپ اور بیٹے کو کچل دیا تھا، جس کے نتیجے میں دونوں شہری ہلاک ہوگئے تھے۔ ورثا کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کا تعلق ہجرت کالونی سے تھا جو کہ اپنے گھر سے واپس آرہے تھے۔
واضح رہے کہ سال نو کے آغاز سے اب تک کراچی میں 214 افراد ٹریفک حادثات میں جاں بحق، جب کہ 2073 زخمی ہوچکے ہیں۔