حالیہ دنوں میں پاکستانی صحافیوں وحیدمراد اور فرحان ملک کا اغوا اور گرفتاری سامنے آئی ہے۔ حکومت سوشل میڈیا صارفین کے خلاف بھی ایکشن میں دیکھائی دیتی ہے۔کیا سب پہلی بار ہو رہا ہے؟ کیا پاکستان میں میڈیا کا سفر ختم اور صحافت ناممکن ہو گئی؟ صحافی سے خوداحتسابی کی ڈیمانڈ کیوں؟ پولرائزیشن میں صحافی متحد ہو کر چیلنج سے نمٹ سکیں گے؟
اس پوڈ کاسٹ میں صدر کراچی پریس کلب فاضل جمیلی، سینیئر صحافی وسیم عباسی، رکن گورننگ باڈی لاہور پریس کلب مدثر شیخ کے ساتھ ایڈیٹر پاکستان میٹرز شاہد عباسی کی گفتگو سنیں۔
پاکستان میں صحافت ایک مشکل اور خطرناک پیشہ بن چکا ہے، جہاں آزاد رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو آئے روز دھمکیوں، تشدد، اغوا اور حتیٰ کہ قتل جیسے سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ملک میں آزادیٔ اظہار کے حق کو دبانے کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے جاتے ہیں، جن میں سینسر شپ، دباؤ، جھوٹے مقدمات، اور زبردستی خاموش کرانے کی کوششیں شامل ہیں۔
گزشتہ چند سالوں میں کئی صحافیوں کے اغوا کے واقعات سامنے آئے ہیں، جن میں بعض کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کچھ آج تک لاپتہ ہیں۔ ان واقعات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں تحقیقاتی صحافت اور طاقتور حلقوں پر تنقید کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ میڈیا اداروں پر بھی دباؤ ڈالا جاتا ہے، جس کے باعث وہ کئی اہم موضوعات پر رپورٹنگ سے گریز کرتے ہیں۔
صحافت کو درپیش ان خطرات کے باوجود کئی بہادر صحافی اپنی جان جوکھم میں ڈال کر عوام کو سچ سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگرچہ پاکستان میں صحافت مکمل طور پر ناممکن نہیں ہوئی، لیکن آزاد صحافت کا دائرہ کار مسلسل محدود کیا جا رہا ہے، جو ملک میں جمہوریت اور آزادیٔ اظہار کے لیے ایک تشویشناک صورتحال ہے۔
ان تمام معاملات کے مختلف پہلو ‘پاکستان میٹرز’ کی حالیہ ایپیسوڈ میں دیکھیں اور اس موضوع پر اپنی رائے کمنٹ سیکشن میں ہم سے شیئر کریں۔