اپریل 5, 2025 1:03 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

ترکیہ میں ایک دہائی کے دوران سب سے بڑا احتجاج کیوں ہو رہا ہے؟

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
ترکیہ: بی بی سی کے صحافی کی ملک بدری، اپوزیشن ٹی وی چینل پر پابندی لگا دی گئی

ہفتے کے روز استنبول میں لاکھوں ترک شہری سڑکوں پر نکل آئے اور ملک کے بڑے شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ یہ مظاہرے میئر اکرام امام اوغلو کی گرفتاری کے خلاف کیے گئے، جو صدر طیب اردگان کے سب سے بڑے سیاسی حریف تصور کیے جاتے ہیں۔ یہ ترکی میں ایک دہائی کے دوران ہونے والا سب سے بڑا عوامی احتجاج تھا۔

احتجاج کے دوران امام اوغلو کا ایک خط جلسے میں پڑھ کر سنایا گیا، جس پر مظاہرین نے پرجوش انداز میں نعرے لگائے۔ خط میں امام اوغلو نے کہا کہ انہیں کسی قسم کا خوف نہیں کیونکہ عوام ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم متحد ہے اور ظلم کے خلاف ایک ساتھ کھڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ انہیں جیل میں ڈال دیا گیا ہے اور ان پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے، لیکن عوام ہر قسم کی سازشوں کو ناکام بنا دیں گے۔

گزشتہ ہفتے امام اوغلو کی گرفتاری کے بعد سے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج جاری ہیں۔ مختلف شہروں میں ہزاروں افراد اپوزیشن کی کال پر سڑکوں پر نکلے اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ ان مظاہروں کے دوران اگرچہ زیادہ تر احتجاج پُرامن رہے، لیکن حکام نے اب تک تقریباً دو ہزار افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

اس معاملے پر ترکی کی مرکزی اپوزیشن جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی، دیگر اپوزیشن گروپس، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور کچھ مغربی ممالک شدید ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امام اوغلو کے خلاف مقدمہ سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا ہے تاکہ انہیں انتخابات میں صدر اردگان کا مضبوط حریف بننے سے روکا جا سکے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات حکومت کی جانب سے اپنے ممکنہ مخالفین کو دبانے کی ایک منظم کوشش کا حصہ ہیں۔

ترک حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدلیہ آزاد ہے اور اس پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا جا رہا۔ حکومتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ امام اوغلو کے خلاف مقدمہ قانونی کارروائی کا حصہ ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی سیاسی مداخلت نہیں کی گئی۔

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ پوسٹس