Follw Us on:

حکومتی ناکامی یا  ٹیکسز، پاکستان میں ضروریاتِ زندگی کی اشیاء مہنگی کیوں ہو رہی ہیں؟

مادھو لعل
مادھو لعل
Whatsapp image 2025 07 20 at 12.03.59 am
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ (فوٹو: فائل)

حکومتِ پاکستان کے بار بار معاشی اعشاریے بہتر ہونے کے دعویٰ کے باوجود ضروریاتِ زندگی کی اشیاء میں مسلسل اضافہ ہوررہا ہے۔ دالوں سے لے کر گھی تک، آٹے سے معدے تک اور چینی سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں تک ہر چیز کو مہنگائی کے پر لگ گئے ہیں اور وہ عام عوام کی پہنچ سے کہیں دور پہنچ چکی ہیں۔

چینی جو کبھی 120 سے 130 تک کی ملا کرتی تھی، آج وہ 190 روپے سے 200 کی مل رہی ہے۔ اسی طرح پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوئے حالیہ اضافے نے عوام عوام کے ہوش اڑا دیے ہیں۔

گزشتہ کئی عشروں سے شوگر ملز مافیا کا راج چلتا آرہا ہے، پہلے اضافی مقدار کا کہہ کر چینی کو برآمد کیا جاتا ہے اور پھر چینی کم ہوجاتی ہے، جس کے بعد چینی کو درآمد کیا جاتا ہے اور یوں 120 میں ملنی والی چینی 180 سے 200 کی ہوجاتی ہے۔

حکومتِ پاکستان اور شوگر ملز مالکان کے درمیان گزشتہ ایک عرصے سے چینی کی قیمتوں کو لے کر تنازع چلتا آرہا تھا، جسے گزشتہ دنوں مذاکرات ہوئے اور چینی کی نئی قیمت طے کی گئی۔

وزارتِ غذائی تحفظ کی جانب سے کہا گیا کہ ایکس مل قیمت 165 روپے فی کلو گرام مقررکردی گئی ہے۔ صوبائی حکومتیں فیصلے کی روشنی میں عوام کو سستی چینی کی دستیابی یقینی بنائیں گی۔

مگر اس پر تاحال عمل نہیں ہوسکا، کراچی اور پشاور سمیت ملک بھر میں چینی کی قیمت میں اضافے کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور ملک میں فی کلو چینی 200 روپے تک پہنچ گئی۔

Petrol ii
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ (فوٹو: گوگل)

لاہور کے رہائشی محمد طحہٰ نے پاکستان میٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے ہر بار یہی وعدہ کیا جاتا ہے کہ اس بار چینی کی وافر مقدار مارکیٹ میں موجود ہے اور چینی کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوگا، مگر ہر بار کی طرح اس بار بھی وہی ہوا ہے اور ہمیں 190 سے 200 روپے کی چینی خریدنی پڑ رہی ہے، جوکہ ہم  پربوجھ ہے۔ ہمارے پاس دوسرا کوئی چارا نہیں ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ جلد از جلد اس بات پر عمل کروائے کہ چینی کی قیمتیں مستحکم رہیں۔

اسی طرح پیٹرول کی قیمت میں مسلسل اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے، جوکہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ 15 جون سے اب تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حیران کن اضافہ دیکھنے کو ملا اور ایک ماہ کے دوران پیٹرول کی قیمت میں 18.52 روپے، جب کہ ڈیزل کی قیمت میں 29 روپے فی لیٹر کا مجموعی اضافہ ہوا ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے ہمیشہ سے ہی حکومتِ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے، مگر اس بار ایسا نہیں ہوا۔

اس وقت عالمی منڈی میں خام تیل 68 سے 70 ڈالرز فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے۔ جون کے آغاز میں ملک میں پیٹرول 253 روپے فی لیٹر، جب کہ ڈیزل 254 روپے فی لیٹر کے حساب سے فروخت ہورہا تھا۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قیمتیں بڑھا کر عوام پر بوجھ بڑھا دیا گیا، قیمتوں میں اضافے کی شدید مخالفت کرتے ہیں، یہ کسی صورت قبول نہیں فوری کم کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام پر 15دنوں میں دو دفعہ پیٹرول بم گرایا گیا، پیٹرولیم لیوی 100 روپے تک پہنچ گئی ہے، پاکستان جنگ میں مبتلا رہا، یہاں معاشی بحران ہیں، بڑے جاگیرداروں پر ٹیکس نہیں لگاتے اور چھوٹے کاشتکاروں کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔

Hafiz naeem,,
قیمتیں بڑھا کر عوام پر بوجھ بڑھا دیا گیا۔ (فوٹو: فائل)

15 جون کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں 4.80 روپے، جب کہ ڈیزل کی قیمت میں 7.95 روپے فی لیٹر لا اضافہ کیا گیا۔ 30 جون کو ایک بار پھر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 8.36 روپے اور10.39 روپے فی لیٹر تک بڑھائی گئیں۔

15 جولائی کو وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن میں ایک بار پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا گیا، جس کے مطابق پیٹرول 5.36 روپے اور ڈیزل 11.37 روپے مہنگا ہوا ہے۔

ملتان کے ایک طالب علم محمد رضوان حمید نے کہا ہے کہ پیٹرول کے مہنگے ہونے سے طلباء کوبہت بڑا نقصان ہوا ہے۔ جہاں ہمیں کالج جانے کے لیے 200 سے 250 کا پیٹرول لگتا، اب وہیں ہمیں 300 سے 350 کا ڈلوانا پڑتا ہے، جوکہ ہمارے لیے بوجھ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ پیٹرول کی قیمتوں کو سستا کرے۔

واضح رہے کہ پاکستان اپنی ضروریات کا 80 فیصد تیل درآمد کرتا ہے،یہی وجہ ہے کہ جب بھی عالمی منڈی میں تیل کی قیمت بڑھتی ہے تو اس کا اثر مقامی مارکیٹ پر دیکھنے کو ملتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ اس وقت کیا گیا ہے، جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مستحکم ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ پیٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسز ہیں۔

اگر پیٹرول و ڈیزل کی موجودہ قیمتوں میں سے ٹیکسز اور دیگر ہیڈز نکالے جائیں تو ڈیزل کی اصل قیمت 177.89 روپے فی لیٹر اور پیٹرول کی اصل قیمت 167.51 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔

دھیان رہے کہ حکومتِ پاکستان اس وقت صارفین سے پیٹرول کی قیمت میں 75.52 روپے فی لیٹر کی پیٹرولیم لیوی اور ڈھائی روپے فی لیٹر کی ماحولیاتی اسپورٹ لیوی بھی وصول کر رہی ہے، جب کہ ڈیزل کی قیمت میں 74.51 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی اور ڈھائی روپے فی لیٹر کی ماحولیاتی اسپورٹ لیوی بھی وصول کررہی ہے۔

مزید یہ کہ پیٹرولیم مصنوعات پر ڈیلرز 8.64 روپے فی لیٹر کا منافع لیتے ہیں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا منافع 7.87 روپے فی لیٹر ہے۔ یہ دونوں صارفین کے لیے ریٹیل قیمت میں شامل ہوتے ہیں اور ان ہی سے وصول کیے جاتے ہیں۔

Sugar price
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا گیا۔ (فوٹو: فائل)

یاد رہے کہ حالیہ ہونے والی ایران-اسرائیل کشیدگی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں وقتی اضافہ دیکھنے کو ملا تھا، مگر اس کے بعد حالات معمول کے مطابق ہوگئے اور قیمتیں مستحکم ہوگئیں۔

کیا حکومت ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں میں کمی لانے میں کامیاب ہوپائے گی؟ کیا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جاری اضافہ کم ہوگا اور کیا مہنگائی کی شرح میں کمی آئے گی؟ ان سوالات کے جوابات تو وقت ہی بتائے گا، مگر ایک بات تو طے ہے کہ ضروریاتِ زندگی کی اشیاء میں اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت مافیا اور آئی ایم ایف کی پالیسیوں کی وجہ سے قیمتیں مستحکم رکھنے میں بےبس ہوچکی ہے۔

دوسری جانب پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ اس وقت کیا گیا ہے، جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مستحکم ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ پیٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسز ہیں۔

اگر پیٹرول و ڈیزل کی موجودہ قیمتوں میں سے ٹیکسز اور دیگر ہیڈز نکالے جائیں تو ڈیزل کی اصل قیمت 177.89 روپے فی لیٹر اور پیٹرول کی اصل قیمت 167.51 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔

مزید پڑھیں: 14 برس میں پہلی مرتبہ پاکستان کا سالانہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس، ترسیلات زر 38 ارب ڈالر

دھیان رہے کہ حکومتِ پاکستان اس وقت صارفین سے پیٹرول کی قیمت میں 75.52 روپے فی لیٹر کی پیٹرولیم لیوی اور ڈھائی روپے فی لیٹر کی ماحولیاتی اسپورٹ لیوی بھی وصول کر رہی ہے، جب کہ ڈیزل کی قیمت میں 74.51 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی اور ڈھائی روپے فی لیٹر کی ماحولیاتی اسپورٹ لیوی بھی وصول کررہی ہے۔

مزید یہ کہ پیٹرولیم مصنوعات پر ڈیلرز 8.64 روپے فی لیٹر کا منافع لیتے ہیں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا منافع 7.87 روپے فی لیٹر ہے۔ یہ دونوں صارفین کے لیے ریٹیل قیمت میں شامل ہوتے ہیں اور ان ہی سے وصول کیے جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ حالیہ ہونے والی ایران-اسرائیل کشیدگی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں وقتی اضافہ دیکھنے کو ملا تھا، مگر اس کے بعد حالات معمول کے مطابق ہوگئے اور قیمتیں مستحکم ہوگئیں۔

مادھو لعل

مادھو لعل

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس