یوم کشمیر کی مناسبت سے جماعت اسلامی کراچی کی جانب سے کشمیر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں سیاسی و مذہبی جماعتوں ، وکلا اور تاجر رہنماؤں نے شرکت کی،کانفرنس میں موقف اختیار کیا گیا کہ مسئلہ کشمیر پر بھارتی تسلط کے خلاف اور اہل کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کی حمایت میں پوری قوم ایک ہےاور حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کریں اور کسی بھی قسم کی سودے بازی اور کمزوری کا مظاہرہ کرنے سے باز رہیں۔
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایٹمی قوت ہے، ہماری حکومت و ریاست کی ذمہ داری ہے کہ برصغیر کی تقسیم کے نامکمل ایجنڈے کو مکمل کرنے اور مقبوضہ کشمیر کو بھارت کے تسلط سے آزاد کرانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں، آزادی کشمیر کی جدو جہد کی نہ صرف سیاسی، اخلاقی اور سفارتی سطح پر بلکہ عملی محاذ پر بھی اپنا کردار ادا کریں۔ اقوام متحدہ کا اپنی قراردادوں کے مطابق اہل کشمیر کو حق ِ خود ارادیت اور رائے شماری کا حق نہ دلوانا اس عالمی فورم کی ناکامی اور مسلمانوں کے حوالے سے دہرے معیار کا منہ بولتا ثبوت ہے-
منعم ظفر نے کہا کہ قائد اعظمؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا اور یہ شہ رگ آج بھارتی تسلط میں ہے، پاکستان کے عوام کے دل اہل ِ کشمیر کے ساتھ دھڑکتے ہیں، شہ رگ کی آزادی کے لیے پوری قوم یکجان اور یک زبان ہے۔
انہوں نے کہا کہ حماس اور اہل ِ غزہ کی کامیابیوں اور قربانیوں نے اہل کشمیر کو بھی نیا عزم اور حوصلہ دیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ جذبہ جہاد اور شوقِ شہادت کو کوئی طاقت اور ٹیکنالوجی شکست نہیں دے سکتی،کشمیریوں کی جدو جہد، قربانیاں اور شہداء کا لہو رنگ لائے گا۔ کشمیر آزاد ہوگا اور سید علی گیلانی کے قول کے مطابق ”ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے“ کشمیر پاکستان کا حصہ ضروربنے گا۔
امیر جماعت اسلامی کراچی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت خود 1948ء میں کشمیر کے حوالے سے اقوام ِ متحدہ میں گیا تھا اور اقوام ِ متحدہ کی فیصلے کو بھارت نے بھی تسلیم کیا تھا کہ اہل ِ کشمیر کو ان کی آزاد مرضی اور رائے شماری کا حق دیا جائے گا لیکن افسوس کہ بھارت نے فوجی طاقت اور قوت کے بل پر مقبوضہ کشمیر پر اپنا تسلط قائم کیا ہے۔
منعم ظفر نے کہا کہ 78سال سے کشمیری اپنے حقِ خودارادیت سے محروم ہیں اور کشمیریوں نے ایک دن کے لیے بھی بھارت کا قبضہ اور غلامی قبول نہیں کی اور مسلسل بھارت کی غلامی سے آزادی کی جدو جہد میں مصروف ہیں، ہزاروں شہداء کے خون سے اس جدو جہدِ آزادی کو جاری رکھا ہے۔
بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے، خواتین کی عصمت دری کی جاتی ہے، نوجوانوں کو شہید اور اسیر کیا جاتا ہے لیکن کشمیر کے عوام کا آج بھی ایک ہی نعرہ ہے کہ ”کشمیر بنے گا پاکستان“، کشمیری عوام اپنے شہداء کے جنازے پاکستان کے پرچم میں لپیٹ کر دفن کرتے ہیں، 1990ء میں تحریک ِ آزاد کشمیر نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔
انہوں نے کہا کہ سید علی گیلانی نے اپنی زندگی کے آخری 12سال اسیری میں گزارے، برہان مظفر وانی کی شہادت سے بھی آزادی کی جدو جہد کو نیا عزم اور حوصلہ ملا، 5اگست 2019ء کو بھارت نے اپنے آئین کی دفعہ 370/35-A کے برعکس کشمیر کی مخصوص حیثیت کو ختم کر دیا، بد قسمتی سے ہمارے حکمرانوں نے آزادی کشمیر کی جدو جہد میں جو کردار ادا کرنا چاہیئے تھا وہ نہیں کیا یہ ہی وجہ ہے کہ بھارت کشمیر پر اپنا تسلط قائم رکھے ہوئے ہے۔
کانفرنس میں سیاسی و مذہبی جماعتوں ، وکلا اور تاجر رہنماؤں نے شرکت کی ۔ شرکاء نے مسئلہ کشمیر پر‘بھارتی تسلط کے خلاف اور اہل ِ کشمیر کی جدوجہد آزادی کی حمایت کی اور پوری قوم کے ایک مؤقف پر ہونے کا اعلان بھی کیا۔ پورے ملک کے عوام بلا تفریق اہل ِ کشمیر کے ساتھ ہیں اور حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کریں اور کسی بھی قسم کی سودے بازی اور کمزوری کا مظاہرہ کرنے سے باز رہیں۔