اپریل 5, 2025 12:38 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

موبائل میں گم بچپن، کیا بچے ٹیکنالوجی کے غلام بن رہے ہیں؟

دانیال صدیقی
دانیال صدیقی
بچوں میں موبائل فون کا استعمال عام ہوچکا ہے (فوٹو: پکسلز)

کیا واقعی اسکرین اور گیجٹس کا زیادہ استعمال بچوں کے لیے نقصان دہ ہے؟ اور اگر ہے تو عام والدین اپنے بچوں کو اس ڈیجیٹل دنیا سے کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں؟

یہ وہ سوال ہے جو اس وقت تمام ہی والدین کے سامنے ایک چیلنج کی صورت اختیار کرگیا ہے۔ سلیکون ویلی جہاں دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی تخلیق ہوتی ہے، وہاں کے بڑے ٹیک لیڈر اپنے بچوں کو اسکرین سے دور رکھنے کے لیے خصوصی اسکولوں میں داخل کراتے ہیں۔

گوگل، ایپل اور دیگر بڑی ٹیک کمپنیوں کے ایگزیکٹوز اپنے بچوں کو ایسے والڈورف اور دیگر روایتی تعلیمی اداروں میں بھیجتے ہیں جہاں اسمارٹ فونز، ٹیبلٹس اور کمپیوٹرز کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔

یہ حیرت انگیز حقیقت کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ اس ضمن میں گیجٹس کے بچوں کی نفسیاتی صحت پر اثرات کو جاننا بھی ضروری ہے۔

‘پاکستان میٹرز’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کراچی سے تعلق رکھنے والی ماہرِ نفسیات طوبیٰ اشرف نے کہا ہے کہ اکثر والدین کہتے ہیں کہ اگر بچوں کو موبائل فون نہ دیا جائے تو ان کا رویہ خراب ہوجاتا ہے، وہ اسکول کا کام نہیں کرتے،کھانا نہیں کھاتے یا پھر اپنی ناراضگی کا اظہار بات چیت بند کر دیتے ہیں۔

بچوں میں موبائل فون کا استعمال عام ہوچکا(فوٹو:پکسلز)

اس کے برعکس کچھ بچوں کا تو ہر کام ہی اسکرین کے ساتھ نتھی ہے، یعنی وہ کھانا کھاتے اور ہوم ورک کرتے ہوئے بھی اسکرین پر کارٹون یا پھر میوزک سننے کی عادی ہوتے ہیں۔

ایسی صورتحال میں والدین بالکل بے بس ہوجاتے ہیں اور وہ ماہر نفسیات سے اس مسئلے کا حل مانگتے ہیں۔

طوبی اشرف نے ہمیں مزید بتایا کہ گیجٹس کا زیادہ استعمال بچوں کی نفسیات پر بہت برے اثرات مرتب کر رہا ہے، کیونکہ انفارمیشن صرف ایک کلک پر موجود ہوتی ہے۔

بچوں میں اس کے سبب عدم برداشت کی صورتِ حال جنم لے رہی ہے، وہ ہر کام کو جلدی کرنا چاہتے ہیں، ان کا رویہ اور مزاج بہت جلدی تبدیل ہونے لگتا ہے،عجلت پسندی ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے اور وہ ایک غیر متوازن انسان کی صورت میں اپنی زندگی گزارتے ہیں۔

ابتدائی عمر میں بچوں کو گیجٹس سے دور رکھنا نہایت ضروری ہے ورنہ ان کی حرکت کرنے اور چیزوں کو تھامنے کی صلاحیت متاثر  ہوجاتی ہے، یعنی ان کو جن چیزوں کو چھو کر دیکھنا چاہے، وہ اسکرین پر صرف اسے محسوس کرتے ہیں۔ یہ ایک خلا ہے جو کہ ڈیجیٹل اسکرین کی وجہ سے پیدا ہوگیا ہے۔

طوبی اشرف ٹیکنالوجی کو انسانوں کا متبادل نہیں سمجھتی انہوں نے حالیہ دنوں میں مغرب میں ہونے والی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کچھ عرصے کے لیے بچوں کو کلاس ٹیچر کے بجائے گیجٹس سے تعلیم دینے کا تجربہ کیاگیا، نتیجہ یہ نکلا کہ بچے چیزیں تو سیکھ گئے، مگر ان میں تمیز سے رہنے، بول چال کے آداب اور مزاج کی خرابی کے مسائل سامنے آئے۔

آن لائن جنسی استحصال کی تین کروڑ 60 لاکھ شکایات موصول ہوئیں(فوٹو:پکسلز)

‘پاکستان میٹرز’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اتالیق فاؤنڈیشن کے سی ای او شہزاد قمر نے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی ایک طاقتور آلہ ہے، جس کے فوائد اور نقصانات دونوں ہیں۔

اس کا استعمال غیر متوازن یا زیادہ ہونے سے بچوں کی صحت، دماغی صلاحیت، تعلیم اور معاشرتی رویے پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اخلاقیات کے حوالے سے بھی خطرات ہوسکتے ہیں۔

زمینی حقیقت یہ ہے کہ آپ بچوں کو ٹیکنالوجی سے دور نہیں رکھ سکتے۔ بچے اس کا استعمال کر رہے ہیں اور اس میں مزید اضافہ ہوگا، لہذا اس کے محفوظ اور مفید استعمال پر بات ہونی چاہیے، تاکہ اس کا فائدہ حاصل کیا جا سکے اور کسی بھی منفی اثرات سے بچا جا سکے۔

‘پاکستان میٹرز’ سے گفتگو کرتے ہوئے شعبہ تدریس سے منسلک عبدالولی نے کہا ہے کہ گیجیٹس کا استعمال بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو ابتدا ہی میں روک دیتا ہے۔ انسان عمومی طور پر سہل پسند واقع ہوا ہے، لہذا اگر ٹیکنالوجی سارے مسائل حل کرنے لگے گی توانسان خود کیا کرے گا،؟

بچے پہلے انٹرنیٹ سے ڈھونڈ کر اسائنمنٹ بناتے تھے، اب مصنوعی ذہانت سے پوچھتے ہیں اور کام ہو جاتا ہے۔ گیجیٹس استعمال کیے جائیں لیکن اس سے قبل آپ کو وہی کام خود کرنا آنا چاہیے۔

اگر ہم اپنی زندگی کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہم نے حساب کتاب زبانی شروع کیا اور اس کے بعد کیلکولیٹر سے چیک کر لیا، لیکن اب تو بچے دماغ میں چھوٹا سا حساب نہیں کر سکتے، یعنی ذہنی صلاحیتوں و تخلیقی مزاج کو پنپنے کا موقع ہی نہیں مل رہا۔

کلاس روم میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عبدالولی نے کہا ہے کہ ہمارے کلاس رومز سادہ ہوں اور وہ روایتی تعلیم سے بچوں کو آشنا کر دیں، تو یہ ہی غنیمت ہے۔ ٹیکنالوجی کے نام پر اسکولوں میں واٹس ایپ گروپ بن گئے ہیں اور بھی دیگر آن لائن کلاسز وغیرہ کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل سے سب ہی آگاہ ہیں۔

بچے بڑے سبھی موبائل فون کے ’غلام‘ بنتے جارہے ہیں (فائل فوٹو)

قدیم طریقہ تعلیم ہی رائج رہے تو بہتر ہے، ٹیکنالوجی نے ہم سے اچھے اور برے کی تمیز چھین لی ہے، ہم معاشرتی طور پر تنہا ہو گئے ہیں۔

عبدالولی نے کہا ہے کہ صرف امریکا یا سلیکون ویلی کی بات نہیں بلکہ ایپل کے بانی آسٹیو جابز، جس کا آئی فون دنیا بھر میں مقبول ہے، نے اپنے بچوں کے استعمال پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔

‘پاکستان میٹرز’ سے گفتگو کرتے ہوئے اے آئی کنسلٹنٹ عثمان صدیقی نے کہا ہے کہ کوئی بھی ٹیکنالوجی کا بزنس کرنے والا فرد عام افراد کی نسبت دور اندیش ہوتا ہے اور وہ اس کے مہلک اثرات سے باخبر ہوتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اے آئی انسانیت کے لیے جہاں مفید ہے، وہیں اس کے نقصانات بھی موجود ہیں، جن کے اثرات بہت دیر پا ہیں۔

چین نے امریکی اے آئی ٹول چیٹ جی پی ٹی کے مقابلے میں ایک تہائی کی قمیت میں ڈیپ سیک تیار کرکے سب کو جہاں حیران کردیا ہے، وہیں یہ بات لمحہ فکری ہے کہ اے آئی کے بدلتے ہوئے فیچرز کو بچوں کی پہنچ سے دور رکھا جائے، کیونکہ کسی بھی قسم کی بداحتیاطی کسی بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔

اے آئی کے بدلتے ہوئے فیچرز کو بچوں کی پہنچ سے دور رکھا جائے (فوٹو: پکسلز)

عثمان صدیقی کا کہنا ہے کہ حکومتی سطح پر ٹیکنالوجی کے حوالے سے پالیسی سازی کی بہت ضرورت ہے، تاکہ انٹرنیٹ پر نشر ہونے والے مواد پر نگاہ رکھی جاسکے۔

واضح رہے کہ ہمارے معاشرے کا بڑا المیہ یہ ہے کہ کسی بھی موضوع پر سنجیدگی کے ساتھ بات نہیں کی جاتی، جس کی وجہ ترجیحات کا مختلف ہونا ہے۔

بچے قوم کا مستقبل ہیں ان کو بنا کسی روک تھام کے گیجٹس اور ٹیکنالوجی کے حوالے کر دینے سے سماج میں انتشار، عدم برداشت اور نفسیاتی مسائل کے بڑھ جانے کا خدشہ ہے۔

اس امر کی ضرورت ہے کہ اساتذہ، اسکولوں میں اور والدین، گھروں میں بچوں کو ابتدا سے گیجٹس کےمثبت استعمال کی جانب راغب کریں۔

مزید یہ کہ سوشل میڈیا ایپس سےان کو دور رکھنے کی کوشش کی جائے، تاکہ معاشرے میں ٹیکنالوجی کا استعمال بہتر طور پر کیا جاسکے اور بچے اسکلز کو سیکھتے ہوئے ٹیکنالوجی کی دنیا میں اپنا نام پیدا کرسکیں۔ یہی وہ چیز ہے، جو مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں امید کی کرن بنے گی۔

دانیال صدیقی

دانیال صدیقی

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس