اپریل 7, 2025 12:34 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

مرغی کے گوشت اور پانی سے پھیلتا وائرس جو انسانی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
مرغی کے گوشت اور پانی سے پھیلتا وائرس جو انسان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے (فائل فوٹو)

پچھلے ماہ انڈیا کے شہر پونے میں ایک سکول ٹیچر کی زندگی میں ایک ایسا لمحہ آیا جس نے ان کی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔

جب ان کے چھ سالہ بیٹے نے ہوم ورک کرنے کے دوران پینسل درست طریقے سے پکڑنے سے انکار کر دیا تو انہوں نے سوچا کہ شاید بچہ مجھ سے ناراض ہو گیا ہے، لیکن یہ حقیقت کچھ اور تھی۔

ان کے بیٹے کا پینسل نہ پکڑ پانا دراصل ایک نایاب اور جان لیوا بیماری ‘گلین برے سنڈروم’ (GBS) کی علامات میں سے تھا جو انسان کے جسم کے ٹشوز اور پٹھوں پر حملہ آور ہو کر انسان کو مفلوج کر دیتی ہے۔

چند دنوں میں یہ چھ سالہ بچہ انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں داخل تھا جہاں اس کی حالت بگڑ چکی تھی۔

وہ اپنے ہاتھوں اور پیروں کو ہلا نہیں پا رہا تھا اور اس کے سانس لینے میں مشکلات پیش آ رہی تھیں۔ بعد ازاں اسے وینٹیلیٹر پر منتقل کر دیا گیا لیکن خوش قسمتی سے اس کی حالت اب بہتر ہو رہی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق پونے شہر میں جنوری سے لے کر اب تک ایسے 160 کیسز سامنے آ چکے ہیں اور اب تک پانچ افراد کی جان جا چکی ہے۔

اس وقت 48 افراد انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں زیر علاج ہیں جبکہ 21 مریضوں کو وینٹیلیٹر پر رکھا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 38 افراد صحتیاب ہو کر اپنے گھروں کو واپس جا چکے ہیں۔

گلین برے سنڈروم (GBS) ایک نایاب بیماری ہے جو جسم کے پٹھوں اور اعصابی نظام پر حملہ کرتی ہے اور انسان کو کمزور یا مفلوج کر دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سمندر کی گہرائی میں انسانیت کا نیا سفر: سائنسدانوں نے منصوبہ تیار کر لیا

اس کی ابتدائی علامات میں ہاتھوں اور پیروں کا سن ہونا یا ان میں سنسناہٹ کا احساس شامل ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ بیماری شدت اختیار کرتی ہے اور مریض کو اپنے جسم کے حصے حرکت دینے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

اگر یہ بیماری مزید بڑھ جائے تو مریض کو سانس لینے میں بھی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں وینٹیلیٹر کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

پونے میں جی بی ایس کے پھیلاؤ کی وجہ “کیمپیلوبیکٹر جیجونی” نامی جرثومہ ہے جو دنیا بھر میں کھانے پینے کی اشیاء کے ذریعے پھیلتا ہے۔

یہ جرثومہ مرغی کے گوشت اور پانی سے انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں اس جرثومے سے متعلق کیسز دنیا کے مختلف حصوں میں سامنے آ چکے ہیں اور اب انڈیا کے شہر پونے میں یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔

جی بی ایس کے پھیلاؤ کی وجہ “کیمپیلوبیکٹر جیجونی” نامی جرثومہ ہے جو دنیا بھر میں کھانے پینے کی اشیاء کے ذریعے پھیلتا ہے
(فائل فوٹؤ/ گوگل)

کیمپیلوبیکٹر جیجونی ایک خطرناک جرثومہ ہے جو مرغی کے گوشت اور پانی کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔

 1990 کی دہائی میں چین کے دیہی علاقوں میں اس جرثومے کا پھیلاؤ دیکھا گیا تھا جہاں بارش کے موسم میں بطخیں، مرغیاں اور بچے ایک ہی پانی میں کھیلتے تھے اور یہ جرثومہ اس پانی کے ذریعے منتقل ہوتا تھا۔

لازمی پڑھیں: پاکستانی خاندان کی منفرد صلاحیت سے واقف محقیقین کی دوا ایف ڈی اے نے منظور کر لی

اس جرثومے سے جی بی ایس کا تعلق 1990 کی دہائی میں پہلی بار سامنے آیا تھا اور اب یہ جرثومہ انڈیا میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔

 پونے شہر میں حالیہ دنوں میں کیمپیلوبیکٹر جیجونی کے سبب جی بی ایس کے کیسز بڑھ رہے ہیں اور ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس جرثومے کی قسم اس وقت پونے میں گردش کر رہی ہے جس کے سبب اتنی بڑی تعداد میں جی بی ایس کے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔

خطرناک بات یہ ہے کہ جی بی ایس کا کوئی مستقل علاج موجود نہیں ہے، مریضوں کے جسم میں کیمپیلوبیکٹر جیجونی کے خلاف اینٹی باڈیز بنتی ہیں اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ‘پلازما ایکسچینج’ جیسے طریقوں سے بیماری کی شدت کو کم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، یہ طریقہ بھی ہر مریض پر موثر نہیں ہوتا۔

سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ جی بی ایس کی تشخیص کسی ایک ٹیسٹ سے نہیں کی جا سکتی۔ اس بیماری کی تشخیص مختلف مراحل میں ہوتی ہے اور اکثر اس کی غلط تشخیص یا تاخیر سے بیماری مزید بڑھ سکتی ہے۔

انڈیا کے دیہی علاقوں میں اس بیماری کی درست تشخیص کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں جس کے سبب بیماری کے پھیلاؤ کو روکنا مشکل ہو رہا ہے۔

پونے میں جی بی ایس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکومتی اقدامات جاری ہیں۔

حکام نے 60 ہزار گھروں کا معائنہ کیا اور پانی کے نمونے جمع کیے۔ لوگوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت دی گئی ہے جیسے کہ پانی کو اُبال کر پینا، تازہ کھانا کھانا اور باسی یا ادھ پکے گوشت سے پرہیز کرنا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کیمپیلوبیکٹر جیجونی کے جرثومے کا پھیلاؤ پوری دنیا میں جاری ہے اور انڈیا میں اس کا تیزی سے پھیلنا ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

ان کی یہ بھی رائے ہے کہ اگر مناسب احتیاطی تدابیر نہ اپنائی گئیں تو یہ بیماری اور زیادہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔

پونے میں جی بی ایس کے بڑھتے ہوئے کیسز اور کیمپیلوبیکٹر جیجونی کے خطرے نے انڈیا سمیت پوری دنیا میں ایک سنگین صورتحال پیدا کر دی ہے۔

اس وائرس کے پھیلاؤ کے باعث نہ صرف لوگوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے بلکہ اس سے نمٹنے کے لیے حکومت اور ماہرین صحت کے لیے ایک بڑا چیلنج بھی پیدا ہو چکا ہے۔

ان اقدامات کے باوجود اس بیماری کی روک تھام اور علاج میں مشکلات سامنے آ رہی ہیں جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے۔

مزید پڑھیں: انسانی آنکھ کی حیرت انگیز ریزولوشن: کیا ہماری نظر جدید کیمروں سے زیادہ طاقتور ہے؟

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس