اپریل 5, 2025 12:31 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

پاکستان میں بڑھتی ہوئی غذائی قلت کا حل کیا ہے؟

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک

پاکستان میں غذائی قلت ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ جہاں ایک طرف ملک زرعی پیداوار میں خودکفیل دکھائی دیتا ہے، وہیں دوسری طرف لاکھوں بچے اور خواتین بنیادی غذائی اجزاء سے محروم ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ صرف خوراک کی کمی کا معاملہ ہے یا اس کے پیچھے کوئی اور عوامل کارفرما ہیں؟

ماہرین کے مطابق، اس وقت پاکستان میں ہر تین میں سے ایک بچہ غذائی قلت کا شکار ہے۔ یونیسف اور ورلڈ بینک کی رپورٹس کے مطابق پست قد بچے 34%، کم وزن بچے 22%، خون کی کمی میں مبتلا بچے 53%، آئرن کی کمی کا شکار حاملہ خواتین41%، 22 فیصد نومولود کم وزن کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔

یہ صرف صحت کا نہیں، بلکہ معیشت کا بھی مسئلہ ہے۔ عالمی بینک کے مطابق، غذائی قلت کے باعث پاکستان کی معیشت کو ہر سال 17 ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔

عوام کی مالی مشکلات ایسی ہیں کہ متوازن  غذا نہ لینے سے بچوں کی ہڈیاں نکل آتی ہیں اور ماں باپ بچوں کو  اچھی خوراک  دینے سے قاصر ہیں ۔لاکھوں والدین کو خوراک کی بڑھتی قیمتوں نے متوازن غذا سے دور کر دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ غذائی قلت کا مسئلہ صرف خوراک کی عدم دستیابی نہیں، بلکہ غیر متوازن خوراک بھی ایک بڑا سبب ہے۔ پاکستان میں زیادہ تر لوگ کاربوہائیڈریٹس (چاول، آٹا، چینی) پر گزارا کرتے ہیں، جبکہ پروٹین، وٹامنز اور منرلز کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔

ماہر خوراک کے مطابق لوگ مکمل طور پر بھوکے نہیں ہوتے بلکہ غذائی اجزاء کی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔ حاملہ خواتین کو آئرن، کیلشیم اور وٹامن ڈی کی شدید کمی کا سامنا رہتا ہے، جس کی وجہ سے کم وزن بچوں کی پیدائش عام ہو چکی ہے۔

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس