اپریل 4, 2025 3:38 شام

English / Urdu

قرض کا مرض لادوا، کیا پاکستانی معیشت سنبھل پائے گی؟

پاکستانی معیشت گزشتہ  ایک عرصے سے مختلف مسائل سے گھری ہوئی ہے، جن میں مالیاتی خسارہ، کمزور زر مبادلہ کے ذخائراور بڑھتی ہوئی مہنگائی شامل ہیں۔ ان مسائل نے ملکی معیشیت کو اس قدر محتاج کیا ہے کہ ملک کے ہر چھوٹے بڑے فیصلے کا لائحہ عمل آئی ایم ایف بنا تا ہے۔ دوسرے ممالک آئی ایم ایف سے قرض لیتے ہیں، تاکہ ملکی معیشیت مستحکم ہو، مگر پاکستان میں متعدد بار بار پچھلے قرض کی ادائیگی کے لیے نیا قرض لیا گیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان تعلقات کی تاریخ طویل ہے۔ 1958 سے اب تک پاکستان نے 23 مرتبہ آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکیجز حاصل کیے ہیں۔ 2024 میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 7 ارب ڈالر کے 37 ماہ پر مشتمل قرض پروگرام پر اتفاق ہوا، جس کا مقصد معیشت کو استحکام دینا تھا۔ حکومت کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ آئی ایم ایف پروگرام معیشت کی بہتری کے لیے ناگزیر ہے اور اس سے مالیاتی استحکام حاصل ہوگا، جس سے اس سوال نے جنم لیا ہے کہ کیا آئی ایم ایف سے نئی قسط نہ لے کر پاکستان اپنی معیشیت کو سنبھال سکتا ہے؟ ‘پاکستان میٹرز’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ماہرِ معاشیات ڈاکٹر جہانزیب نے کہا کہ اگر حکومت سخت مالیاتی اصلاحات، برآمدات کے فروغ اور محصولات میں اضافے پر کام کرتی ہے تو آئی ایم ایف کی قسط کے بغیر بھی معیشت سنبھل سکتی تھی۔ تاہم کمزور مالیاتی نظم و ضبط اور درآمدی انحصار کے باعث حکومت کے پاس کوئی اور راستہ نہیں بچا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اس معاہدے کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ یہ معیشت کو مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہوگا،  مگر عوامی سطح پر ان شرائط پر مہنگائی اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سےتشویش پائی جاتی ہے۔ ستمبر 2024 میں آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کی منظوری دی تھی ، جس میں سے 1 ارب ڈالر کی پہلی قسط فوری جاری کی گئی۔ یہ قرض 37 ماہ کی مدت پر محیط ہے اور اقساط میں جاری کی جائے گی۔ ڈاکٹر جہانزیب کا کہنا ہے کہ نئی شرائط سے عوام پر مہنگائی کا مزید دباؤ بڑھے گا۔ سبسڈی میں کمی سے بجلی، گیس اور پٹرول مہنگا ہوگا۔ کاروباری طبقے کو بلند شرحِ سود اور زیادہ ٹیکسوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس سے سرمایہ کاری کے مواقع محدود ہو سکتے ہیں۔ 3 مارچ کو پاکستان کو 7 ارب ڈالر بیل آؤٹ پیکج میں سے ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط کی ادائیگی کے حوالے سے اقتصادی جائزے کے لیے آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچا، جہاں سیکرٹری خزانہ کی سربراہی میں وفد نے آئی ایم ایف حکام سے ملاقات کی اور امور پر بات چیت کی گئی۔ آئی ایم ایف کی شرائط میں ٹیکس نیٹ میں توسیع، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور مالیاتی خسارے میں کمی شامل ہیں۔ حکومت نے زراعت، پراپرٹی اور ریٹیل سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا وعدہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور سبسڈی میں کمی کی شرائط بھی شامل ہیں۔ ان شرائط کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ اور عوام کی قوت خرید میں کمی کا خدشہ ہے،  لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات معیشت کی بہتری کے لیے ضروری ہیں۔ ماہرِ معاشیات پروفیسر امبرین احمد کے مطابق اگر حکومت ٹیکس نیٹ بڑھائے، غیر ضروری درآمدات کم کرے، برآمدات کو فروغ دے اور زراعت و صنعتی شعبے کو ترقی دے تو آئی ایم ایف پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے سخت پالیسی فیصلے کرنے کی ضرورت ہوگی۔ آئی ایم ایف پروگرام کی منظوری کے بعد روپے کی قدر میں استحکام دیکھا گیا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے سے روپے پر دباؤ کم ہوا ہے۔ ماہرِ معاشیات نے کہا ہے کہ مسلسل قرض لینا خطرناک ہے کیونکہ اس سے خودمختاری محدود ہو جاتی ہے، مگر موجودہ حالات میں یہ ناگزیر تھا۔ مسئلہ قرض لینا نہیں بلکہ اس کا درست استعمال نہ ہونا ہے۔ اگر قرض ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہو تو معیشت کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور سبسڈی میں کمی کے باعث مہنگائی میں اضافہ متوقع ہے۔ آئی ایم ایف نے بھی خبردار کیا ہے کہ مہنگائی ہدف سے زیادہ رہ سکتی ہے۔ امبرین احمد کے مطابق آئی ایم ایف کے مطالبات میں زیادہ تر ٹیکس اصلاحات شامل ہوتی ہیں۔ لہٰذا بجٹ میں مزید ٹیکسز اور سبسڈی میں کمی کا قوی امکان ہے۔ بجلی اور گیس پر سبسڈی کم ہونے سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ مہنگائی میں اضافے سے عام شہریوں کی قوت خرید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے روزمرہ زندگی میں مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ ڈاکٹر جہانزیب نے بتایا ہے کہ آئی ایم ایف معاہدے کے بعد روپے کی قدر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے کیونکہ حکومت کو کرنسی کو مصنوعی سہارا دینے سے روک دیا جائے گا۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی اور خاص طور پر درآمدی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ٹیکس نیٹ میں توسیع اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے کاروباری طبقے کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ زراعت اور تعمیرات کے شعبوں پر ٹیکس عائد کرنے سے ان شعبوں میں سرمایہ کاری متاثر ہو سکتی ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام سے معیشت میں استحکام کی توقع ہے، جو غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کر سکتا ہے۔ تاہم سخت شرائط اور مہنگائی میں اضافے سے سرمایہ کاری کے فیصلوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ پروفیسر امبرین احمد کا کہنا ہے کہ حکومت کو اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے نئے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے جیسے آئی ٹی برآمدات، زرعی اصلاحات، اور نجکاری کے ذریعے سرکاری اداروں کے نقصانات کم کرنا۔ اس سے قرضوں کے بوجھ میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ نجی سیکٹر کو ٹیکس اصلاحات اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث اپنی حکمت عملیوں میں تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ سبسڈی میں کمی کے باعث بجلی

’امن سے کھیلنے والوں کو نہیں بخشا جائے گا‘ آرمی چیف کا جوانوں سے خطاب

آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان آرمی ریاست کی سلامتی کے لیے ہر چیلنج کا مقابلہ کرے گی اور دہشتگردی کے خلاف ڈھال بنی رہے گی، پاکستان کے امن سے کھیلنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔  آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے بنوں کا دورہ کیا جہاں انہیں حالیہ دہشتگرد حملے اور علاقے کی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے 4 مارچ کو بنوں کینٹ پر ہونے والے ناکام دہشتگرد حملے کے تناظر میں دورہ کیا۔ ان کی آمد پر کور کمانڈر پشاور نے استقبال کیا۔ آرمی چیف نے سی ایم ایچ بنوں میں زخمی جوانوں کی عیادت کی اور ان کی بہادری اور عزم کو سراہا۔ انہوں نے حملے میں شہید ہونے والے معصوم شہریوں کے اہلخانہ سے بھی دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر جنرل سید عاصم منیر نے پاک فوج کے غیر متزلزل عزم کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان آرمی ریاست کی سلامتی کے لیے ہر چیلنج کا مقابلہ کرے گی اور دہشتگردی کے خلاف ڈھال بنی رہے گی۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ حملے کے مرتکب دہشتگردوں کو بہادر جوانوں نے فوری انجام تک پہنچا دیا جبکہ اس حملے کے منصوبہ سازوں اور سہولتکاروں کو بھی جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا، چاہے وہ کہیں بھی ہوں۔ مزید پڑھیں: ’ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے‘ رمضان ٹرانسمیشن رحمت یا زحمت؟ آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ معصوم شہریوں، خواتین، بچوں اور بزرگوں کو نشانہ بنانا خوارج کے گھناؤنے عزائم کو بے نقاب کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مقامی کمیونٹی کا کردار انتہائی اہم ہے اور قومی یکجہتی وقت کی ضرورت ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، آرمی چیف نے فوجی جوانوں سے بھی خطاب کیا اور ان کی بہادری کو سراہتے ہوئے کہا کہ خوارج اور ان کے سہولتکاروں کے خلاف جنگ اپنے منطقی انجام تک جاری رہے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگرد گروہ بشمول فتنہ الخوارج، دشمن کے اشارے پر کام کر رہے ہیں اور افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔ آرمی چیف نے انکشاف کیا کہ حالیہ دہشتگرد حملوں میں غیرملکی ہتھیاروں اور سازوسامان کا استعمال کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا امن و استحکام خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ یاد رہے کہ 4 مارچ کو دہشتگردوں نے بنوں کنٹونمنٹ پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ان کے مذموم عزائم ناکام بنا دیے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، سیکیورٹی فورسز نے حملہ کرنے والے تمام 16 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا، جن میں 4 خودکش حملہ آور بھی شامل تھے۔ اس شدید جھڑپ میں 5 بہادر جوان شہید ہوئے جبکہ دہشتگردوں کے خودکش دھماکوں سے کنٹونمنٹ کی دیوار کا ایک حصہ گر گیا، جس کے نتیجے میں 13 معصوم شہری شہید اور 32 زخمی ہو گئے۔ آرمی چیف نے واضح کیا کہ دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کے خلاف جنگ منطقی انجام تک پہنچا کر ہی دم لیا جائے گا اور پاکستان کا امن کسی بھی صورت میں خراب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

ڈیفالٹ سے اڑان منصوبے تک کا سفر، کیا حقیقت میں پاکستان معاشی ترقی کررہا ہے؟

پاکستان میں 8 فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد 4 مارچ کو وجود میں آنے والی اتحادی حکومت کے ایک سال مکمل ہونے پروزیرِاعظم شہباز شریف نے اپنے ایک سالہ دور حکومت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک سال میں ملک معاشی استحکام آیا لیکن سفر ابھی طویل اور مشکل ہے، جسے طے کرنا ہے۔ شہباز حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پہلے سال میں معیشت مستحکم ہوئی ہے اور ملک کو ڈیفالٹ سے نکالا گیا۔  اتحادی حکومت کے ایک سال مکمل ہونے پر مختلف وزراء نے  اپنی وزارتوں کی کارکردگی رپورٹس پیش کیں۔ وزیرِ دفاع خواجہ آصف، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال اور وزیرِ مملکت برائے آئی ٹی شزا فاطمہ سمیت دیگر وزراء نے حکومتی کارکردگی پر روشنی ڈالی۔ پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ماہر سیاست ڈاکٹر شفاقت علی کا کہنا تھا کہ “پاکستان کے ڈیفالٹ نہ کرنے میں حکومت کے معاشی اقدامات کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف کی مالی معاونت اور دوست ممالک کی سپورٹ کا بھی بڑا کردار ہے۔ اگرچہ معیشت میں وقتی استحکام آیا ہے، مگر اس کو پائیدار بنانے کے لیے طویل مدتی اصلاحات درکار ہیں۔ صرف اعداد و شمار کی بنیاد پر معاشی بہتری کا دعویٰ کرنا کافی نہیں ہوگا۔” اس کے علاوہ وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف  نے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  حکومتی اقدامات سے تمام اداروں کا ترقی کا سفر جاری ہے، ہم نے مشکل حالات میں حکومت سنبھالی، پی ٹی آئی نے ملک میں انتشار بھیلایا۔ ہر قسم کی دہشتگردی کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ مثبت تنقید کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے اپنی وزارت کی ایک سالہ کارکردگی پر خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2018 میں اگر ترقی کا راستہ نہ روکا جاتا تو پاکستان آج بڑی معیشتوں میں شامل ہوتا۔ اڑان پاکستان منصوبے کے تحت ملکی ترقی کا پروگرام دوبارہ شروع کیا ہے۔ ڈاکٹر شفاقت علی کا کہنا تھا “کہ حکومتی اخراجات میں کمی یقینی طور پر ایک اچھا اقدام ہے۔ مگر بڑے پیمانے پر نوکریوں کا خاتمہ بیروزگاری کو مزید بڑھا سکتا ہے خاص طور پر جب نجی شعبہ اتنی نوکریاں پیدا کرنے سے قاصر ہو۔ اس فیصلے کے باعث عام شہریوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جس کے لیے متبادل روزگار کے مواقع پیدا کرنا ضروری ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ” افراطِ زر میں کمی ایک مثبت پیش رفت ضرور ہے لیکن اس کی بڑی وجہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی اور زرِ مبادلہ کے ذخائر میں وقتی اضافہ ہے۔ جی ڈی پی گروتھ ابھی بھی خطے کے دیگر ممالک سے کم ہے اور صنعتی و زرعی پیداوار میں مطلوبہ بہتری نہیں دیکھی گئی جو کہ طویل مدتی ترقی کے لیے ضروری ہے۔” دوسری جانب احسن اقبال نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم نے حکومت سنبھالی تو ملک ڈیفالٹ کے قریب تھا۔ 2018 کے بعد سی پیک کے منصوبوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے پر کام کا آغاز اب ہو گیا ہے۔ سی پیک منصوبے کی وجہ سے بیرونی سرمایہ کاری آئی ہے۔امن، استحکام اور پالیسیوں کے تسلسل کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے۔ وفاقی وزیر شزا فاطمہ نے کہا ہے آئی ٹی کے شعبے کی بہتری پر توجہ مرکوز ہے۔ گزشتہ ایک سال میں موبائل فون کی مقامی مینو فیکچرنگ میں اضافہ ہوا ہے۔ دوردراز کے علاقوں میں انٹرنیٹ کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔ شزا فاطمہ کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی سپیڈ کے لیے تین سب میرین کیبل بچھائی گئی ہیں۔ آئی ٹی کے شعبے کی برآمدات دو ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔ ای گورنمنٹ کے عالمی انڈیکس میں پاکستان کی 14 درجے بہتری ہوئی ہے۔ دوسرے ممالک کے ساتھ آئی ٹی کے شعبے میں مختلف معاہدے کیے گئے، حکومتی اقدامات سے ای گورننس میں بہتری آئی ہے۔ ڈاکٹر شفاقت علی کا کہنا ہے “کہ حکومتی اخراجات میں کمی یقینی طور پر ایک اچھا اقدام ہے۔ مگر بڑے پیمانے پر نوکریوں کا خاتمہ بیروزگاری کو مزید بڑھا سکتا ہے خاص طور پر جب نجی شعبہ اتنی نوکریاں پیدا کرنے سے قاصر ہو۔” انہوں نے مزید کہا کے “اس فیصلے کے باعث عام شہریوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جس کے لیے متبادل روزگار کے مواقع پیدا کرنا ضروری ہے۔” حکومت کے معاشی ترقی اور غربت کے خاتمے کے نت نئے بیانات نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا واقعی ملکی اشاریے بہتری کی سمت میں گامزن ہیں یا پھر یہ محض سیاسی بیانیے ہیں۔ اینکر پرسن اسامہ بن عبید (ماہر سیاست) نے پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “قانون سازی جمہوری نظام کا لازمی جزو ہے مگر پاکستان میں قوانین پر مؤثر عملدرآمد ہمیشہ ایک چیلنج رہا ہے۔ کئی بلز محض کاغذی کارروائی تک محدود رہتے ہیں جب تک ان کے نفاذ کے لیے ٹھوس عدالتی اور انتظامی اقدامات نہ کیے جائیں۔” انہوں نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ “پالیسی اصلاحات کا اصل امتحان ان کا عملی نفاذ اور تسلسل ہے۔ ماضی میں بھی حکومتیں بڑے بڑے دعوے کرتی رہی ہیں۔ لیکن پالیسیوں میں عدم تسلسل ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ اگر معاشی اور ادارہ جاتی اصلاحات جاری نہ رہیں تو یہ تمام بیانات محض سیاسی نعرے ہی ثابت ہوں گے۔” ورلڈ اکنامک فورم کے نیو اکانومی اینڈ سوسائٹیز پلیٹ فارم کے مطابق حکومت نے 11 ماہ میں 120 سے زائد اصلاحات متعارف کرائیں۔ افراطِ زر 38 فیصد سے کم ہو کر 4.1 فیصد پر آ گیا۔زرمبادلہ کے ذخائر 4.4 بلین ڈالر سے بڑھ کر 11.73 بلین ڈالر ہو گئے۔ گزشتہ ایک سال میں جی ڈی پی گروتھ 0.29 فیصد سے بڑھ کر 2.38 فیصد ہو گئی، 2025 میں 3.5 فیصد کا ہدف رکھا گیا ہے۔ تجارتی خسارہ 27.47 بلین ڈالر سے کم ہو کر 17.54 بلین ڈالر ہو ا ہے۔  حکومت نے 150,000 وفاقی ملازمتیں ختم کر کے حکومتی اخراجات میں کمی کی ہے۔ اتحادی حکومت نے ایک سال میں سعودی عرب کے ساتھ 2.8 بلین ڈالر کے 34 معاہدے کیے ہیں۔ چین کے وزیرِاعظم نے پاکستان کا دورہ کیا اورگوادر

بنوں کینٹ میں دھماکہ، چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق، دہشت گردوں کے حملے کو ناکام بنادیا، سیکیورٹی ذرائع

خیبر پختونخوا کے شہر بنوں میں کینٹ کے قریب دھماکوں کی دھماکے سے قریبی مکانات کی چھتیں زمین بوس ہوگئیں،  متعدد افراد چھتوں کے ملبے تلے دب گئے، اسپتال انتظامیہ نے 15 افراد کے مرنے کی تصدیق کردی ہے،  25 زخمی بھی ہوئے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق دو خود کش بمبار ایک فوجی کمپاؤنڈ میں دو بارودی مواد سے بھری گاڑیاں لے کر گھس گئے، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکے ہوئےبنوں پولیس کے مطابق  افطاری کے بعد دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد شدید فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا۔  بنوں ایم ٹی آئی کے ترجمان محمد نعمان نے بتایا ہے کہ شہر کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور ابتدائی طور پر چار زخمی ہسپتال لائے گئے ہیں اور ان چاروں زخمیوں کو دھماکے یا گولیوں کے زخم نہیں ہیں بلکہ خوف سے گرنے اور پتھر لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔ بنوں میں چھاؤنی کے علاقے کے قریب رہائشی صحافی محمد وسیم نے ’بی بی سی‘ کو بتایا کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب لوگ افظاری کے لیے بیٹھے تھے۔ انھوں نے کہا کہ وہ خود اپنے گھر میں موجود تھے۔ ان کے مطابق دھماکہ ایسا تھا جیسے اپنے ہی گھر میں ہوا ہو حالانکہ دھماکے کا مقام ان سے کافی دور ہے۔ ابتدائی طور پر معلوم ہوا ہے کہ دھماکہ چھاؤنی میں بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے کیا گیا ہے تاہم ایسی اطلاعات ہیں کہ شدت پسند حملہ آوروں میں کچھ کو چھاؤنی میں داخلے کی کوشش کے دوران سکیورٹی فورسز نے نشانہ بنایا۔سوشل میڈیا اور کچھ صحافیوں کو ایک غیر معروف شدت پسند تنظیم جیش فرسان محمد کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری کی پوسٹ بھیجی گئی ہے۔  سکیورٹی ذرائع کے مطابق آج افطار کے بعد دہشت گردوں نے بنوں کینٹ میں داخل ہونے کی ناکام کوشش کی، دہشت گردوں نے بارود سے لدی 2 گاڑیاں بنوں کینٹ کی دیوار سے ٹکرا دیں، خوارج  نے سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے باعث گاڑیاں گھبراہٹ میں دیوار سے ٹکرائیں۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف انٹری پوائنٹس پر موجود سکیورٹی عملے نے6 خوارج کو جہنم واصل کر دیا، باقی خارجی دہشت گردوں کو محصور کر لیا گیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کی بارود سے بھری گاڑیوں کے دھماکے سے قریبی  مسجد کو بھی نقصان پہنچا، دھماکے سے قریبی گھروں کی چھت گرنے سے شہریوں کے زخمی ہونے اور شہادتوں کی اطلاعات ہیں۔ ترجمان ڈی ایچ کیو اسپتال ڈاکٹر نعمان کے مطابق دہشت گرد حملے میں 15 شہری شہید جب کہ 25 زخمی ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر نعمان کے مطابق شہید ہونے والے شہریوں میں 4 بچے اور 2 خواتین بھی شامل ہیں۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق خوارج کا رمضان میں شہریوں اور مسجد کو نشانہ بنانا غماز ہے کہ ان کا اسلام سے تعلق نہیں، سکیورٹی فورسز کا تمام خارجیوں کا صفایا کرنے تک کلیئرنس آپریشن جاری رہےگا۔ صدر آصف زرداری نے بنوں میں دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے  دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے پر سکیورٹی فورسز کی تعریف کی ہے۔ صدر مملکت کا کہنا ہےکہ رمضان میں افطار کے دوران ایسا حملہ گھناؤنا عمل ہے،  پوری قوم ایسی مذموم کارروائیوں کو مسترد کرتی ہے، خوارج کی سرکوبی کے لیےکارروائیاں جاری رکھنےکے لیے پرعزم ہیں۔ یاد رہے کہ بنوں کینٹ میں جولائی 2024 میں بھی ایک خودکش حملہ ہوا تھا، جس میں پولیس کے مطابق آٹھ فوجی اہلکار جان سے گئے تھے اور 10 حملہ آوروں کو مارا گیا تھا۔ مزید پڑھیں: خیبر پختو نخوا، باجوڑ میں پولیو ٹیم پر حملہ ، پولیس اہلکار قتل ہو گیا ان کے علاوہ 2022 میں بنوں کینٹ کے اندر سی ٹی ڈی کمپاؤنڈ میں زیر حراست مبینہ شدت پسندوں نے سکیورٹی اہلکاروں سے اسلحہ چھین کر یرغمال بنا لیا تھا، جس کے بعد ایک سکیورٹی آپریشن کرتے ہوئے کمپاؤنڈ کے اندر 25شدت پسندوں کو مارا گیا تھا۔ خیال رہے کہ بنوں کینٹ بنوں شہر کے اندر واقع ہے جس کے آس پاس رہائشی مکانات بھی موجود ہے، جب کہ پولیس کے مرکزی دفاتر بھی اس کی حدود میں واقع ہیں۔

خطرات میں گھری جنگلی حیات: ہماری ذمہ داری کیا ہے؟

جنگلی حیات کرۂ ارض کے فطری نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، مگر ماحولیاتی تبدیلیوں، جنگلات کی تیزی سے کٹائی، غیر قانونی شکار اور بڑھتی انسانی سرگرمیوں کے باعث یہ شدید خطرات سے دوچار ہے۔ عالمی یومِ حیاتِ وحش کے موقع پر یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ ہم بطور انسان اپنی ذمہ داریاں کیسے نبھائیں اور اس قدرتی ورثے کو بچانے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں؟ دنیا بھر میں جنگلی حیات کا فطری ماحول کے توازن میں بنیادی کردار ہے۔ حیاتیاتی تنوع (بائیو ڈائیورسٹی) کسی بھی خطے کے ماحولیاتی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ پاکستان میں جنگلی حیات کی متعدد اقسام پائی جاتی ہیں، جن میں برفانی چیتے، مارخور، انڈس ڈولفن، ہوبارا بسٹرڈ، اور دیگر نایاب جانور شامل ہیں۔ تاہم، ان کی بقا مختلف خطرات سے مشروط ہو چکی ہے۔ ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) پاکستان کے مطابق ملک میں متعدد اقسام کے جانور اور پرندے معدومی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ غیر قانونی شکار، اسمگلنگ، اور قدرتی مساکن کی تباہی اس بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ ماہرِ ماحولیات ڈاکٹر جہانزیب نے ‘پاکستان میٹرز’ کو بتایا ہے کہ “پاکستان میں جنگلی حیات کو سب سے بڑا خطرہ رہائش گاہوں کی تباہی اور غیر قانونی شکار ہے۔ جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور بڑھتی ہوئی انسانی آبادی جنگلی حیات کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اگر ان مسائل پر فوری توجہ نہ دی گئی تو کئی نایاب جانور معدوم ہو سکتے ہیں۔” پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور بے ہنگم ترقی کے نتیجے میں جنگلات سکڑتے جا رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقوں میں غیر قانونی کٹائی کے باعث نایاب جنگلی جانوروں کی رہائش گاہیں ختم ہو رہی ہیں۔ ایسے حالات کی وجہ سے یہ جانور اپنی رہائش گاہیں چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور ہجرت کرتے ہیں اور بعض اوقات بدقسمتی سے وہ شہروں یا ایسے علاقوں میں پہنچ جاتے ہیں جہاں محض چند منٹوں میں ان کا شکار کر لیا جاتا ہے۔ دوسری جانب اگر خوش قسمتی سے کوئی بچ جاتا ہے تو رہی سہی کسر وائلڈ لائف انھیں اپنی تحویل میں لے کر پوری کر دیتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیاں بھی جنگلی حیات پر شدید اثر ڈال رہی ہیں۔ درجہ حرارت میں اضافے اور بارشوں کے غیر متوقع پیٹرن کے باعث کئی اقسام کی افزائشِ نسل متاثر ہو رہی ہے۔ خاص طور پر پاکستان میں پائے جانے والے برفانی چیتے کے مسکن تیزی سے ختم ہو رہے ہیں، جس سے اس کی بقا خطرے میں پڑ گئی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے جنگلی حیات کو خطرہ ہے کہ نہیں پر ڈاکٹر جہانزیب کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیاں پاکستان کی جنگلی حیات پر گہرا اثر ڈال رہی ہیں۔ درجہ حرارت میں اضافے اور غیر متوقع بارشوں کی وجہ سے کئی جانوروں اور پرندوں کی افزائش اور ہجرت کے طریقے متاثر ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر برفانی تیندوا اور دریائی حیات خطرے میں ہیں۔ پاکستان میں ہوبارا بسٹرڈ، مارخور اور دیگر جنگلی جانوروں کا غیر قانونی شکار اب بھی جاری ہے۔ اگرچہ حکومت نے ہوبارا بسٹرڈ کے شکار پر پابندی عائد کر رکھی ہے، لیکن غیر قانونی شکار اور عرب شکاریوں کی دلچسپی کے باعث یہ پرندہ شدید خطرے میں ہے۔ ‘پاکستان میٹرز’  کو ریسرچر جنگلی حیات ڈاکٹر کامران مرزا نے بتایا ہے کہ برفانی تیندوا، ہمالیائی بھورا ریچھ، انڈس ڈولفن اور سائبیرین کرین جیسے جانور شدید خطرے سے دوچار ہیں۔ ان کی رہائش گاہوں میں کمی اور غیر قانونی شکار ان کے وجود کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ دریاؤں اور سمندروں میں بڑھتی ہوئی آلودگی بھی جنگلی حیات کے لیے مہلک ثابت ہو رہی ہے۔ دریائے سندھ میں آلودگی کے باعث انڈس ڈولفن کی تعداد میں خطرناک حد تک کمی واقع ہو چکی ہے، جبکہ سمندری حیات بھی پلاسٹک اور کیمیکل ویسٹ کے سبب متاثر ہو رہی ہے۔ محکمہ جنگلات کے مطابق بنیادی طور پر نیشنل پارکس کو جو خطرات لاحق ہیں، ان میں سب سے بڑا خطرہ بڑھتی ہوئی آبادی ہے۔ انسانی آبادی بڑھنے سے جانوروں کے لیے جگہ کم ہوتی جا رہی ہے اور ان کی خوراک کا مسئلہ بھی پیدا ہو رہا ہے۔ پاکستان نے جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے متعدد بین الاقوامی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، جن میں کنونشن آن انٹرنیشنل ٹریڈ ان انڈینجرڈ اسپیشیز اور بون کنونشن شامل ہیں۔ ڈاکٹر جہانزیب کا کہنا ہے کہ حکومت نے جنگلی حیات کے غیر قانونی شکار کو روکنے کے لیے سخت قوانین بنائے ہیں۔ مختلف علاقوں میں اہلکار اور وائلڈ لائف افسران تعینات کیے ہیں۔ تاہم عمل درآمد کا فقدان اور کرپشن کی وجہ سے یہ اقدامات مکمل طور پر مؤثر ثابت نہیں ہو رہے۔ حکومتِ پاکستان نے مارخور اور برفانی چیتے جیسے نایاب جانوروں کے تحفظ کے لیے متعدد نیشنل پارکس اور وائلڈ لائف سینکچوریز قائم کیے ہیں۔ تاہم، ان اقدامات پر مؤثر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ ، انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر اور دیگر تنظیمیں پاکستان میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ہیں۔ مقامی کمیونٹیز کو بھی اس حوالے سے شامل کیا جا رہا ہے، تاکہ وہ اپنے علاقوں میں نایاب جانوروں کے شکار کو روکنے میں مددگار ثابت ہوں۔ ماہرِ ماحولیات کے مطابق موجودہ قوانین کسی حد تک جنگلی حیات کے تحفظ میں مددگار تو ہیں مگر ان پر سختی سے عمل درآمد نہیں ہوتا۔ غیر قانونی شکار اور اسمگلنگ کے مجرموں کو سخت سزائیں دی جائیں۔ اس کے ساتھ وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ میں مزید ترامیم کی جائیں۔ دوسری جانب ریسرچر جنگلی حیات نے کہا ہے کہ میڈیا اور تعلیمی ادارے عوام کو جنگلی حیات کے تحفظ کے بارے میں آگاہ کر سکتے ہیں۔ ٹی وی، سوشل میڈیا، اور ڈاکیومنٹری فلموں کے ذریعے شعور بیدار کیا جا سکتا ہے، جبکہ اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں ماحولیات اور حیاتیاتی تنوع پر مضامین شامل کیے جانے چاہییں۔ سب سے اہم پہلو عوام میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔ تعلیمی اداروں میں جنگلی حیات کے تحفظ پر سیمینارز اور ورکشاپس کا انعقاد ہونا چاہیے تاکہ نوجوان نسل اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھ سکے۔ ریسرچر جنگلی حیات کا پاکستان میٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے

کین ویلم سن کے شاندار 81 رنز کام نہ آئے، انڈیا نے کیویز کو 44 رنز سے شکست دے دی

آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے گروپ اسٹیج کے آخری میچ میں انڈین ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فتح حاصل کر لی ہے۔ یہ میچ دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا گیا، جہاں دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کے مدمقابل ہوئیں۔ انڈیا نے مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 249 رنز بنائے اور کیویز کو 250 کا ہدف دیا، جواب میں پوری کیوی ٹیم 205 رنز پر ڈھیر ہو گئی اور یوں انڈیا نے یہ میچ 44 رنز سے جیت لیا۔ کیویز نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کرتے ہوئے انڈیا کو بلے بازی کی دعوت دی۔ انڈیا کی جانب سے کپتان روہت شرما اور شبھمن گل بلے بازی کے لیے کریز پر آئے، مگر زیادہ دیر ٹہر نہ سکے۔ کیوی گیند بازوں نے ایک کے پیچھے ایک کو چلتا کیا اور انڈیا کی پہلی 3 وکٹیں محض 30 رنز پر گر گئیں۔ انڈین بلے باز شریاس ایئر نے ٹیم کی کمان سنبھالی اور ایک مناسب اسکور کھڑا کرنے میں مدد دی۔ انڈین ٹیم کی جانب سے شریاس ائیر نے 79 کی شاندار باری کھیلی، اس کے علاوہ ہاردک پانڈیا نے 45 جب کہ اکشر پٹیل نے 42 رنز بنائے۔ کیوی گیند بازوں کی جانب سے اچھی گیند بازی کا مظاہرہ کیا گیا، میٹ ہنری نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 5 انڈین بلے بازوں کی ڈریسنگ روم کی راہ دکھائی، جب کہ رویندرا، سینٹنر، جمی سین اور ول اوورک نے1،1،1، کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ 250رنز کے ہدف کے تعاقب میں پوری کیوی ٹیم لڑکھڑا گئی۔ انڈین گیند بازوں کے سامنے پوری کیوی ٹیم بے بس نظر آئی اور ایک بعد ایک ایسے کرتے کرتے پوری ٹیم 45.3 اوورز میں 205 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئی۔ انڈین گیند بازوں نے کیوی بیٹرز کو ہلنے نہ دیا اور لگام لگائے رکھی۔ کیویز کی جانب سے ول ینگ اور رچن رویندرا اوپننگ کے لیے آئے مگر زیادہ دیر ٹہر نہ سکے۔ کیویز کی جانب سے سابق کپتان کین ویلیم سن نے شاندار باری کھیلتے ہوئے 81 رنز بنائے، مگر ٹیم کو جتا نہ سکے۔ ان کے علاوہ کوئی بھی کیوی بلے باز 30 رنز سے زیادہ نہ بنا سکا۔ انڈین بولرز کی جانب سے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا گیا، انڈین گیند باز ورون چکرورتی نے 5 اور کلدیپ یادو نے 2 کھلاڑیوں کی پویلین کی راہ دکھائی، ہاردک پانڈیا، ایکشر پٹیل اور جدیجہ نے 1،1،1 کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ واضح رہے کہ آج چیمپیئنز ٹرافی کے گروپ سٹیج کا آخری میچ کھیلا گیا، جس میں فیصلہ ہونا تھا کہ آیا کونسی ٹیم انڈیا کے ساتھ دبئی میں سیمی فائنل کھیلے گی۔ آسٹریلیا اور انڈیا کے مابین 4 مارچ کو دبئی میں فائنل کے لیے ٹاکرا ہوگا۔ دوسری جانب کیویز اور پروٹیز کے درمیان فائنل میں دوسرے امیدوار کے لیے 5 مارچ کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں جنگ لڑی جائے گی، جب کہ آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کا فائنل میچ 9 مارچ کو کھیلا جائے گا۔

رمضان المبارک: برکتوں کا مہینہ مگر قیمتیں کیوں بڑھ جاتی ہیں؟

روزہ ارکانِ اسلام کا تیسرا اہم رکن ہے، پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج پہلا روزہ ہے۔ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ عبادت، رحمت اور برکت کے لیے جانا جاتا ہے، لیکن پاکستان میں یہ مہینہ اپنے ساتھ محض خوشیاں اور برکت ہی نہیں، بلکہ بے تحاشا مہنگائی بھی لاتا ہے۔ اس سال بھی پاکستان بھر میں یہ مہینہ مہنگائی کے ساتھ شروع ہوا ہے۔ ملک بھر میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ رمضان کے آتے ہی حکومت سبسڈی اور اشیائے خورونوش سستی کرنے کا اعلان کرتی ہے، مگر بازاروں میں ہر چیز کا دام دگنا ملتا ہے، جس کی وجہ سے عام عوام یہ سوال کرتی ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ یک لخت مہنگائی کا پہاڑ اس مقدس مہینے میں ان پر مسلط ہو جاتا ہے؟ اگر بات کی جائے اس کی وجوہات کی تو پتہ چلتا ہے کہ رمضان کے دوران مہنگائی کی بنیادی وجوہات میں طلب اور رسد میں عدم توازن، ذخیرہ اندوزی، حکومتی کنٹرول کی کمی اور عوامی بے بسی شامل ہیں۔ اس مقدس مہینے میں اشیاء کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض تاجر مصنوعی قلت پیدا کرتے ہیں تاکہ قیمتیں بڑھائی جا سکیں۔ ماہرِ معاشیات پروفیسر ڈاکٹر خرم فرید نے ‘پاکستان میٹرز’ کو بتایا ہے کہ رمضان میں مہنگائی کا زیادہ تعلق مصنوعی قلت سے ہوتا ہے۔ تاجر جان بوجھ کر اشیاء کی قیمتیں بڑھاتے ہیں تاکہ زیادہ منافع کما سکیں، حالانکہ رسد اور طلب میں اتنا بڑا فرق نہیں ہوتا کہ قیمتیں بے قابو ہو جائیں۔ ذخیرہ اندوزی کے ذریعے منافع خور تاجر اشیاء کو ذخیرہ کرکے قیمتوں میں اضافہ کرتے ہیں، جب کہ پرائس کنٹرول کمیٹیاں غیر مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔ عوام مہنگائی کے باوجود خریداری پر مجبور ہوتے ہیں، جس سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔ یوں تو رمضان میں تقریباً ہر چھوٹی بڑی چیز مہنگی ہو جاتی ہے، مگر چند اشیاء کی قیمتوں کو تو جیسے پَر لگ جاتے ہیں، جیساکہ کھجور، چینی اور پھلوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ دوسری جانب آڑھتی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بے جا ٹیکسز، بڑھتے ہوئے کسٹم ڈیوٹیز، دکانوں کے کرائے اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات کو قرار دیتے ہیں، مگر غریب عوام کا کوئی نہیں سوچتا۔ مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر  غریب اور سفید پوش طبقہ ہوتا ہے، جن کے لیے افطاری کا سامنا خریدنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ ‘پاکستان میٹرز’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ماہرِ تعلیم پروفیسر علی نے کہا ہے کہ رمضان میں مہنگائی سب سے زیادہ غریب اور متوسط طبقے کو متاثر کرتی ہے۔ وہ اشیائے خورونوش کے لیے جدوجہد کرتے ہیں اور اکثر غذائی قلت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس سے ان کی صحت پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔ حکومت نے رمضان المبارک کے دوران عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے 20 ارب روپے مالیت کے رمضان ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے، جس کی وجہ سے کہا جا رہا ہے کہ اس بار عوام کو ریلیف ملے گا، مگرماضی کے ریلیف پیکجز پر نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ رمضان بازار اور سستا بازار کی حقیقت عوام کے لیے زیادہ فائدہ مند ثابت نہیں ہوئی۔ ڈاکٹر خرم فرید کے مطابق حکومت رمضان میں پرائس کنٹرول کمیٹیاں اور سستے بازار قائم کرتی ہے،  لیکن یہ اقدامات عموماً کاغذی ثابت ہوتے ہیں، کیونکہ ان پر سختی سے عمل درآمد نہیں ہوتا اور بڑے تاجر ان قوانین سے بچنے کا راستہ نکال ہی لیتے ہیں۔ مزید یہ کہ رمضان بازار ایک اچھا اقدام ہے مگر اس کا دائرہ محدود ہے۔ زیادہ تر افراد عام بازاروں پر ہی انحصار کرتے ہیں جہاں قیمتیں زیادہ ہوتی ہیں۔ اگر یہ ماڈل پورے ملک میں مؤثر طریقے سے لاگو کیا جائے تو عوام کو زیادہ فائدہ ہو سکتا ہے۔ پرائس کنٹرول کمیٹیاں اور ان کی عدم فعالیت کی وجہ سے قیمتوں میں استحکام نہیں آ سکا، جب کہ سبسڈی کے اعلانات اور عملی صورتِ حال میں فرق کی وجہ سے عوام کو مطلوبہ ریلیف نہیں مل سکا۔ ماضی میں بھی حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان کیا، لیکن عملی طور پر کتنی شکایات درج ہوئیں، کتنے جرمانے اور گرفتاریاں ہوئیں اور عدالتی اور قانونی نظام کس حد تک مؤثر ثابت ہوا؟ یہ سوالات ابھی تک جواب طلب ہیں۔ ماہرِ معاشیات نے کہا ہے کہ پاکستان میں ذخیرہ اندوزی کے خلاف قوانین موجود ہیں، جن کے تحت بھاری جرمانے اور سزائیں دی جا سکتی ہیں، مگر سیاسی دباؤ اور انتظامی کمزوریوں کی وجہ سے ان قوانین پر سختی سے عمل نہیں ہوتا۔ اس سے منافع خوروں کو کھلی چھوٹ مل جاتی ہے۔ پروفیسر شفاقت علی کا کہنا ہےکہ حکومت جو سبسڈی دیتی ہے وہ عام طور پر ناکافی ہوتی ہے اور اکثر اوقات مستحق افراد تک تو پہنچ ہی نہیں پاتی۔ بدانتظامی اور کرپشن کی وجہ سے رمضان پیکجز کا زیادہ فائدہ مخصوص طبقے اٹھا لیتے ہیں اور غریب طبقہ بدستور مہنگائی کی چکی میں پستہ رہتا ہے۔ سوشل میڈیا پر عوام کی جانب سے مہنگائی کے خلاف ردِعمل دیکھنے کو ملتا ہے، مگر اس کا فائدہ ابھی تک دیکھا نہیں گیا۔ ماہرِ تعلیم پروفیسر شفاقت علی کا کہنا تھا کہ میڈیا اس مسئلے کو اجاگر تو کرتا ہے مگر بعض اوقات یہ خبریں وقتی سنسنی تک محدود رہتی ہیں۔ اگر میڈیا تسلسل کے ساتھ منافع خوروں کے خلاف مہم چلائے اور حکومت پر دباؤ ڈالے تو صورتحال میں بہتری آ سکتی ہے۔ اسلام میں ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کی ممانعت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق منافع خوری کے خلاف سخت احکامات موجود ہیں، اس لیے تاجر برادری کو اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے مناسب منافع رکھنا اور قیمتیں اعتدال پر رکھنی چاہئیں۔ پروفیسر شفاقت علی نے کہا ہے کہ اسلام میں ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری حرام ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ایسے تاجروں پر سخت وعید سنائی ہے جو لوگوں کی ضروریات کی اشیاء مہنگی کر کے ان کا استحصال کرتے ہیں۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں

چیمپئنز ٹرافی، پروٹیز کے ہاتھوں انگلینڈ کو عبرت ناک شکست

چیمپئنز ٹرافی کے 11ویں میچ میں پروٹیز نے انگلینڈ کو 7 وکٹوں سے شکست دے کر سیمی فائنل میں رسائی حاصل کر لی ہے، پروٹیز نے انگلش کھلاڑیوں کے 180 رنز کے ہدف کا تعاقب محض 29.1 اوورز میں حاصل کر لیا۔ جنوبی افریقہ اور انگلینڈ کے مابین انٹرنیشنل اسٹیڈیم کراچی میں میچ کھیلا گیا، جہاں انگلینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا۔ انگلش ٹیم انتہائی ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 179 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ پروٹیز بولرز کے سامنے پوری انگلش ٹیم ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور ایک کے بعد ایک کر کے گرتی گئی۔ انگلش ٹیم کی جانب سے فل سالٹ اور بن ڈکٹ اوپننگ کے لیے کریز پر آئے، مگر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکے۔ انگلش ٹیم کی پہلی وکٹ محض 9 رنز پر گر گئی اور ‘سالٹ’ 8 رنز بنا کر چلتے بنے، جس کے بعد جے اسمتھ کریز پر تشریف لائے، مگر وہ بھی کریز پر نہ ٹک سکے اور 0 رنز بنا کر چلتے بنے۔ پروٹیز بلے بازوں نے انگلش بلے بازوں کے بیٹنگ لائن اپ کو تہس نہس کر دیا۔ انگلش ٹیم کا ایک کے بعد ایک بلے باز کریز پر آتا اور چند منٹ ٹہرنے کے بعد واپس پویلین لوٹ جاتا۔ یوں پوری ٹیم 179 پر ڈھیر ہو گئی اور پروٹیز کو 180 کا ہدف دیا۔ انگلش بلے بازوں کی جانب سے جو روٹ نے 37، جوفرا آرچر نے 25، جب کہ بن ڈکٹ نے 24 رنز بنائے۔ دوسری جانب مارکو جانسن وایان مولڈر نے 3،3، کیشو مہاراج نے 2، جب کہ نگیڈی اور راباڈا نے 1،1 وکٹ حاصل کی۔ پروٹیز نے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے 3 وکٹوں کے نقصان پر 29.1 اوورز میں 183 رنز بنائے۔ پروٹیز کی جانب سے ریان ریکیلٹن اور ٹرستان اسٹبس اوپننگ کے لیے آئے، مگر بدقسمتی سے ٹرستان کوئی اسکور نہ بنا سکے۔ پروٹیز کی جانب سے راسی وان ڈیر ڈوسن نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 72 رنز بنائے اور ناٹ آؤٹ رہے۔ہینرچ کلاسن نے 56 بالوں پہ 64، جب کہ ریکیلٹن نے 27 رنز بنائے۔ واضح رہے کہ سیمی فا ئنل میں کون، کس سے کھیلے گا، اس کا فیصلہ کل بھارت اور نیوزی لینڈ میچ کے بعد ہوگا، نیوزی لینڈ،بھارت،آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ سیمی فائنل میں پہنچ چکے ہیں۔

انڈیا کا چیمپیئنز ٹرافی میں جیت سے آغاز، بنگلہ دیش کو 6 وکٹوں سے شکست دے دی

چیمپیئنز ٹرافی کے دوسرے میچ میں انڈیا نے بنگلہ دیش کو 6 وکٹوں سے شکست دے کر ایونٹ میں جیت حاصل کر لی ہے۔ بنگلہ دیشی ٹیم مقررہ 50 اوورز نہ کھیل پائی اور 49.4 میں 228 رنز بنا کر ڈھیر ہو گئی، جسے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے انڈین ٹیم نے 46.3 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر باآسانی حاصل کر لیا۔ آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کا دوسرا میچ انڈیا اور بنگلہ دیش کے مابین نیشنل اسٹیڈیم دوبئی میں کھیلا گیا، بنگلہ دیشی ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ تنزید حسین اور سومیا سرکار بنگلہ دیش کی جانب سے اوپننگ کے لیے آئے، لیکن بد قسمتی سے بنگلہ دیش کی پہلی وکٹ 1 رن پر گر گئی اور اوپنر سومیا سرکار بنا کھاتا کھولے ہی لوٹ گئے۔ سومیا سرکار کے پویلین لوٹنے کے بعد نجمل حسین شانتو کھیلنے کے لیے پچ پر تشریف لائے مگر وہ بھی رن بنانے میں ناکام رہے اور دوسری ہی گیند پر واپس لوٹ گئے۔ انڈین بولرز نے یکے بعد دیگرے ایک ایک کر کے سارے بلے بازوں کو واپسی کا راستہ دکھایا، بنگلہ دیشی بلے باز بڑا ٹوٹل کھڑا کرنے میں ناکام رہے اور پوری ٹیم 49.4 اوورز میں 228 رنز بنا کر لوٹ گئی۔ مزید پڑھیں: قومی ٹیم کو بڑا دچکا: فخر زمان زمانہ ٹرافی سے باہر بنگلہ دیش کی جانب سے توحید ہردوئی نے 118 گیندوں پر شاندار سینچری کی، جب کہ ذاکر علی 114 گیندوں پر 64 رنز بنا کر نمایاں رہے۔ انڈین بولروں کی جانب سے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا گیا، فاسٹ بولر محمد شامی نے 53 رنز کے عوض 5 وکٹیں حاصل کیں، جب کہ ہرشت رانا نے 3 اور ایکشر پٹیل نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔ دوسری جانب ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے انڈین ٹیم نے عمدہ بلے بازی کا مظاہرہ کیا۔ اوپننگ کے لیے کپتان روہت شرما اور شبھمن گل پچ پر تشریف لائے اور ٹیم کو ایک مستحکم شروعات دی، مگر انڈین کپتان زیادہ دیر تک کریز پر ٹک نہ سکے اور 36 گیندوں پر 41 رنز بنا کر چلتے بنے۔ روہت کے بعد سٹار بلے باز ویراٹ کوہلی بیٹنگ کے لیے کریز پر آئے، مگر وہ بھی نہ چل سکے اور 38 گیندوں پر 28 رنز بنا کر چلتے بنے۔ انڈین بلے بازوں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور 46.3 اوورز میں یہ ہدف باآسانی حاصل کر لیا اور ٹیم کو جیت سے ہمکنار کیا۔ انڈین بلے بازوں نے جارحانہ اننگ کا مظاہرہ کیا، شبھمن گل نے 119 گیندوں پر 101 رنز بنائے اور ناٹ آؤٹ رہے۔ کے ایل راہول نے بھی 47 گیندوں پر 41 رنز بنائے اور ناٹ آؤٹ رہے۔ بنگلہ دیش کی جانب سے رشاد حسین نے 2، جب کہ تسکین احمد اور مستفیض الرحمان نے 1،1 وکٹ حاصل کی۔ واضح رہے کہ چیمپئنز ٹرافی کے پہلے میچ میں دفاعی چیمپئن پاکستان کو کیویز کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کیویز نے ایونٹ کے پہلے ہی میچ میں میزبان ٹیم کو 60 سکور سے شکست دے کر جیت اپنے نام کر لی۔ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مابین میگا ایونٹ کا افتتاحی میچ نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلا گیا، جہاں میزبان ٹیم نے ٹاس جیت کر کیویز کو پہلے بیٹنگ کرنے کی دعوت دی، کیویز نے مقررہ 50 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 320 رنز بنائے۔

پارلیمنٹ کے اندر اور باہر انتشار پھیلانے والوں کے عزائم بے نقاب کرنا ہوں گے، نوازشریف

سابق وزیرِاعظم اور صدر ن لیگ میاں نواز شریف کا کہنا ہے کہ مصنوعی سیاسی بحران پیدا کرنے کی کسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا اور پارلیمنٹ کے اندر اور باہر انتشار پھیلانے والوں کے عزائم بے نقاب کرنا ہوں گے۔ نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز کے مطابق سابق وزیر اعظم نوازشریف سے رہنما مسلم لیگ ن سینیٹر عرفان صدیقی نے ملاقات کی اور سینیٹ میں پارلیمانی پارٹی کی کارکردگی پر بریفنگ دی۔ اس موقع پر سابق وزیرِاعظم  نے کہا کہ ایک گروہ سنجیدہ مذاکرات اور سیاسی افہام و تفہیم کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ اللہ کے فضل وکرم سے ایک بار پھر ملک اپنے پاوں پر کھڑا ہو رہا ہے۔ عوام اور بالخصوص ہماری نوجوان نسل کو پرامن اور ترقی کرتے ہوئے پاکستان کی ضرورت ہے، جہاں انہیں اپنی صلاحیتوں کے مطابق کردار ادا کرنے کے مواقع حاصل ہوں۔ مزید پڑھیں: گرین الیکٹرک بس قائد نواز شریف کا وژن ہے، مریم نواز سابق صدر نے کہا کہ 2013 سے شروع ہونے والا تعمیر وترقی کا سفر جاری رہتا، تو آج آئی ایم ایف کی ضرورت ہوتی نہ بیرونی مدد کی۔ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر انتشار پھیلانے والوں کے عزائم بے نقاب کرنا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام اب کسی کو تعمیر و ترقی کے سفر میں رخنہ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے اور مصنوعی سیاسی بحران پیدا کرنے کی کسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ یہ لوگ سنجیدہ مذاکرات کرنے اور سیاسی افہام وتفہیم کے ساتھ معاملات حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ نواز شریف نے کہاکہ ن لیگ سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ کو موثر طریقے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے اور عوام سے مضبوط رابطے رکھنے چاہئیں۔