
کیا واقعی اسکرین اور گیجٹس کا زیادہ استعمال بچوں کے لیے نقصان دہ ہے؟ اور اگر ہے تو عام والدین اپنے بچوں کو اس ڈیجیٹل دنیا سے کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو اس وقت تمام ہی والدین کے سامنے ایک چیلنج کی صورت اختیار کرگیا
شامی ڈکٹیٹر بشار الاسد اپنے خاندان کے 50 سالہ اقتدار کا سورج غروب ہونے کے بعد روس میں پناہ گزین ہے، مگر شام کے شہر حماۃ کے مکین 43 برس قبل کے وہ مناظر نہیں بھولے جب ان کا شہر لہو میں ڈبو دیا گیا تھا۔ انسانی حقوق سے متعلق
ایک ہاتھ میں ببل اور ایک ہاتھ میں پیسے دبائے بوسیدہ سے کپڑے پہنے سات سال کا یہ بچہ کراچی میں ایک بس ٹرمینل پر ‘ببل’ بیچ رہا تھا۔ میں نے انتظار کے لمحوں میں شاید وقت دیکھا ہوگا، گھڑی کا ڈائل جگمگایا ہوگا۔ بچے کے لیے شاید یہ نیا
انیس سو پچھتر میں سعودی عرب کے بادشاہ شاہ فیصل نے خواتین کی تعلیم کے لئے اداروں کے قیام کی اجازت دی اور ٹیلی ویژن پر عائد پابندی ختم کرتے ہوئے کئی معاشی اصلاحات متعارف کروائیں۔ نتیجتاً ایک دعوت میں اپنے بھتیجے سے بغل گیر ہو رہے تھے کہ بھتیجے
کالم لکھنے کا مقصد اپنے چینی بھائیوں، دوستوں کا شکریہ ادا کرنا، انہیں سلام محبت پیش کرنا ہے، مگر اس سے پہلے چند معروضات تو پیش کرنا بنتا ہے تاکہ بات اچھے طریقے سے سمجھ آ سکے۔ صاحبو ، ہمیں اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی سے کوئی
ای لرننگ نے تعلیم کے طریقوں میں انقلابی تبدیلیاں لائی ہیں لیکن اس کے باوجود روایتی اسکولوں میں سماجی تعلقات اور ذاتی تجربات کی اہمیت برقرار ہے۔ ٹیکنالوجی کا یہ انقلاب تعلیم کے تسلسل کو بہتر بناتا ہے مگر بچوں کی شخصیت کی تکمیل میں روایتی تعلیم کا کردار بھی
چین کے اسٹارٹ اپ ڈیپ فرنٹ کی متعارف کردہ “ڈیپ سیک” انٹرنیٹ پر امریکی اجارہ داری کے لیے سنجیدہ چیلنج ہے یا نہیں؟، چند مہینوں نہیں، ہفتوں یا دنوں میں واضح ہو جائے گا۔ چینی اے آئی ایپ کے مؤثرہونے، ایزی ٹو ہینڈل، کم قیمت ہونے نے امریکی کمپنیوں کو
پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری، جو کبھی ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی تھی، آج زوال کی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ یہ صنعت نہ صرف ملک کی سب سے بڑی برآمدی قوت تھی بلکہ لاکھوں خاندانوں کے روزگار کا ذریعہ بھی۔ مگر حالیہ اعدادوشمار کے مطابق، ملک کی
“بھائی میں تو سموکنگ نہیں کرتا میں تو ویپنگ کرتا ہوں۔ میرا بھائی، میرا بیٹا ویپنگ کرتا ہے۔ سموکنگ چھوڑنی ہے تو ویپنگ شروع کر دو۔ نہیں نہیں ویپنگ صحت کے لیے خطرناک نہیں ہے۔” یہ وہ تمام جملے ہیں جو ہمیں عام سننے کو ملتے ہیں۔ کیا آپ کو
قطر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان 15 ماہ طویل جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ طے پا گیا، اسرائیل کا ایک طویل عرصے تک یہ کہنا تھا کہ وہ اس وقت تک کسی بھی جنگ بندی کے معاہدے کے ساتھ اتفاق نہیں کرے گا جب تک کہ اس کی