پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کامیاب، 2 ارب ڈالر قرض کا اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 2 ارب ڈالر کے قرض کے لیے اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے جس سے ملک کی معیشت کو استحکام میں مدد ملے گی۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان کو 37 ماہ میں مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ اس معاہدے کے تحت آئی ایم ایف پاکستان کو مختلف نوعیت کی مالی معاونت فراہم کرے گا۔ آئی ایم ایف کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ کی ٹیم کی قیادت ‘نیتھن پورٹر’ نے کی۔ معاہدے کی حتمی منظوری آئی ایم ایف کے بورڈ سے ملے گی جس کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ فیسیلیٹی (EFF) کے تحت 1 ارب ڈالر کی رقم فراہم کی جائے گی۔ مزید برآں، موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے 28 ماہ کی ارینجمنٹ کے تحت پاکستان کو 1.3 ارب ڈالر ملیں گے۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان کو کل 2 ارب ڈالر کی مالی معاونت حاصل ہوگی جو 37 ماہ کی مدت میں فراہم کی جائے گی۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کی اقتصادی صورتحال میں بہتری کا اعتراف کیا ہے جبکہ عالمی ادارے کے مطابق پاکستان میں افراط زر 2015 کے بعد کم ترین سطح پر آچکا ہے اور 18 ماہ کے دوران ملک نے چیلنجز کے باوجود میکرو اقتصادی استحکام کی بحالی میں اہم پیشرفت کی ہے۔ آئی ایم ایف نے مزید کہا ہے کہ اقتصادی سرگرمیاں بتدریج بڑھنے کا امکان ہے تاہم پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کے خطرات کا سامنا باقی ہے۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کی مدد کا عہد کرتے ہوئے کہا کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور قدرتی آفات کے خلاف اقدامات کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔ اس کے علاوہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے لیے پاکستان کی کوششوں کی بھی حمایت کی جائے گی۔ وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے اس کامیاب معاہدے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیداواری اور برآمدی ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے معاہدے سے ملکی معیشت مزید مستحکم ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ٹیکس، توانائی، اور سرکاری اداروں سے متعلق اصلاحات پر عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے اس معاہدے کو پاکستان کے اقتصادی استحکام کے لیے سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے جس سے نہ صرف ملکی معیشت کی بحالی کی راہیں ہموار ہوں گی بلکہ پاکستان عالمی سطح پر بھی اپنی مالی ساکھ کو مستحکم کرے گا۔ مزید پڑھیں: سندھ میں گیس وتیل کی نئی دریافت، کب کیا ہوا؟
آئی ایم ایف اور حکومتی پالیسیاں، عوام کو ریلیف کب ملے گا؟

حکومت نے عوام کو بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی کی امید دلائی تھی، لیکن بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سخت شرائط کے باعث یہ وعدہ تاحال ادھورا ہے۔ پاکستان اس وقت 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (EFF) کے تحت پہلے دو سالہ جائزے کے عمل میں ہے اور آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے (SLA) پر جاری مذاکرات حکومتی ریلیف پیکیج کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ توقع کی جارہی تھی کہ وزیراعظم 23 مارچ کو قوم سے خطاب میں بجلی کے نرخوں میں 8 روپے فی یونٹ کمی کا اعلان کریں گے۔ تاہم یومِ پاکستان کی تقریر میں اس حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا گیا، جس سے عوام میں بے چینی پیدا ہوئی۔ وزیراعظم نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں توانائی کے شعبے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی توقیر شاہ، وزیر توانائی اویس لغاری، احد چیمہ، اور دیگر اعلیٰ حکام شریک تھے۔ واضح رہے کہ حکومت نے 15 مارچ کو اعلان کیا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو موجودہ سطح پر برقرار رکھا جائے گا، حالانکہ پیٹرولیم ڈویژن اور آئل ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے فی لیٹر کمی کی تجویز دی تھی۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ اس ممکنہ مالیاتی مارجن کو بجلی صارفین کو ریلیف دینے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اسی تناظر میں بجلی کے نرخوں میں کمی کے لیے ایک جامع حکمت عملی تشکیل دی جا رہی تھی، جس میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کا ارادہ تھا۔ تاہم اس پیکیج کو حتمی منظوری کے لیے آئی ایم ایف کے سامنے پیش کیا گیا، جس نے اس پر اعتراضات اٹھائے۔ حکومت نے 4 سے 14 مارچ کے دوران ہونے والے مذاکرات میں آئی ایم ایف کے ساتھ ایک منصوبہ شیئر کیا، جس کے تحت انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (IPPs) کے معاہدوں پر نظرثانی کے ذریعے ٹیرف میں تقریباً 2 روپے فی یونٹ کمی کی تجویز دی گئی تھی۔ بعد ازاں حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی میں 10 روپے اضافے کا فیصلہ کیا، جس کے نتیجے میں فنانس ایکٹ 2025 کے تحت زیادہ سے زیادہ 70 روپے فی لیٹر لیوی مقرر کی گئی۔ اس اقدام سے توقع کی جا رہی تھی کہ بجلی کے نرخوں میں مزید 2 سے 2.5 روپے فی یونٹ کمی کی جا سکے گی۔ حکومتی حکام کے مطابق چونکہ یہ ایک ‘ریونیو نیوٹرل’ حکمت عملی تھی (یعنی اس میں اضافی سبسڈی شامل نہیں تھی) اس لیے آئی ایم ایف کو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے تھا۔ تاہم آئی ایم ایف نے پاکستان کی مجموعی مالی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اس پیکیج کی افادیت پر سوالات اٹھائے، جس کے باعث حکومت کو اس پر مزید غور کرنا پڑا۔ بجلی کے نرخوں میں کمی کے راستے میں ایک اور بڑی رکاوٹ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے قواعد و ضوابط ہیں۔ نیپرا کو ملک کی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (DISCOs) کی جانب سے سالانہ بیس ٹیرف پر نظرثانی کی درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ حکومت نے سول-ملٹری ٹاسک فورس کے ساتھ مشاورت کے بعد 6 سے 7 آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی کی کوشش کی، مگر نیپرا کی منظوری کے بغیر اس عمل کو مکمل کرنا ممکن نہیں تھا۔ مزید برآں سولر نیٹ میٹرنگ پالیسی میں متوقع تبدیلیاں بھی نیپرا کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہیں، جو مستقبل میں گھریلو اور صنعتی صارفین کے بجلی کے نرخوں میں کمی یا اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے بات کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ پاکستان میں خطے کی مہنگی ترین بجلی معیشت کے لیے بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اضافی وسائل بروئے کار لاتے ہوئے آئندہ چند ہفتوں میں بجلی کی قیمتوں میں واضح کمی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پیٹرولیم لیوی کے ذریعے اضافی رقم اکٹھی کر رہی ہے، تاکہ بجلی کے نرخوں میں کمی ممکن بنائی جا سکے۔ ‘یہ اسی سمت ایک چھوٹا سا قدم ہے، لیکن جو بھی اضافی وسائل حاصل کیے جائیں گے، وہ بجلی کے نرخوں میں کمی کے لیے استعمال ہوں گے۔ حکومت اپنے وسائل سے بھی اس میں تعاون کرے گی تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جا سکے۔’ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پاکستان میں بجلی کی قیمتوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش، بھارت، سری لنکا، انڈونیشیا، تھائی لینڈ، کمبوڈیا، جنوبی افریقہ اور کینیا جیسے ممالک میں بجلی پاکستان کے مقابلے میں سستی ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کاری ان ممالک میں جا رہی ہے اور پاکستان پیچھے رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب دنیا بھر میں بجلی کے نرخ کم ہیں، تو پاکستان میں بجلی اتنی مہنگی کیوں ہے؟ آپ کی گیس اور بجلی میں ایسی کیا خاصیت ہے کہ آپ انہیں عالمی معیار سے مہنگے داموں بیچ رہے ہیں؟ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ہماری پالیسیاں ناکام، یوٹرن سے بھرپور اور لالچ پر مبنی ہیں۔ مرکزی تنظیم تاجران پاکستان و پاکستان بزنس فورم کے صدر محمد کاشف چوہدری نے بجلی کی بنیادی قیمت میں کمی اور بلوں پر لگائے گئے 13 قسم کے ٹیکسوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکمرانوں نے فوری طور پر بجلی کی قیمتیں کم نہ کیں تو عید الفطر کے بعد دوبارہ ملک گیرسطح پر عوامی تحریک شروع کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں ظالمانہ اضافے میں کمی کرنے کے لیے ہم نے 28 اگست کو تاریخ ساز ہڑتال کی اور بعد میں تاجروں اور عوام کے مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں حکمرانوں کو آئی پی پیز سے بات چیت کرنے پر مجبور کیا، اس سے پہلے حکومت آئی پی پیز سے بات کرنے کو شجر ممنوعہ قرار دیتی تھی۔ کاشف چوہدری نے کہا کہ آئی پی پیز معاہدوں پر نظر ثانی سے اربوں روپے کی بچت شروع ھو چکی ہے، لیکن اربوں روپے کی بچت عوام تک ریلیف کی شکل
وفاقی حکومت کا اضافی چارجز واپس لینے کا فیصلہ، بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 30 پیسے کمی متوقع

وفاقی حکومت نے بجلی صارفین سے اضافی چارجز واپس کرنے کا فیصلہ کر لیا، جس کے نتیجے میں ایک ماہ کے لیے بجلی کی قیمت میں 30 پیسے فی یونٹ کمی متوقع ہے۔ سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (CPPA) نے فروری کے ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے لیے درخواست دے دی ہے، جس پر نیپرا کل سماعت کرے گا۔ فروری میں 6.495 ارب یونٹ بجلی پیدا کی گئی، جب کہ بجلی کمپنیوں کو 6.666 ارب یونٹ فراہم کیے گئے۔ بجلی کی فی یونٹ لاگت 8 روپے 22 پیسے رہی، جب کہ ریفرنس لاگت 8 روپے 52 پیسے فی یونٹ مقرر کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ فروری میں 27.12 فیصد بجلی پانی سے، 15.02 فیصد مقامی کوئلے سے اور 1.56 فیصد درآمدی کوئلے سے حاصل کی گئی۔ اس کے علاوہ 10.32 فیصد گیس، 14.11 فیصد درآمدی ایل این جی اور 26.59 فیصد جوہری ایندھن سے پیدا کی گئی۔ اس حکومتی فیصلے سے بجلی صارفین کو کچھ ریلیف ملنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے، تاہم حتمی منظوری نیپرا کی سماعت کے بعد دی جائے گی۔ صارفین کو کتنی ریلیف ملے گی؟ اس کا فیصلہ کل نیپرا کرے گا۔
پاکستانی برآمدات میں 7.2 فیصد اور درآمدات میں 11.4 فیصد اضافہ

وفاقی حکومت نے ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ آؤٹ لک رپورٹ جاری کر دی، جس کے مطابق جولائی تا فروری ترسیلات زر میں 32.5 فیصد کا اضافہ ہوا اور ترسیلات زر 23.96 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ وفاقی حکومت نے مارچ کی ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ آؤٹ لک رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں معیشت کے مختلف شعبوں میں بہتری کے اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جولائی تا فروری ترسیلات زر میں 32.5 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد ان کا حجم 23.96 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملکی برآمدات میں 7.2 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد برآمدات کا حجم 21.82 ارب ڈالر ہو گیا، جب کہ درآمدات میں 11.4 فیصد اضافے کے ساتھ ان کا حجم 38.32 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 691 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 41 فیصد اضافہ ہوا، تاہم پورٹ فولیو سرمایہ کاری منفی 211 ملین ڈالر رہی۔ زر مبادلہ کے ذخائر 11.14 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ٹیکس وصولیوں میں 25.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو جولائی تا فروری 7344 ارب روپے رہی، جب کہ نان ٹیکس ریونیو میں 75.8 فیصد اضافے کے بعد اس کا حجم 3763 ارب روپے ہو گیا ہے۔ مزید پڑھیں: کیا نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستان کو متاثر کرے گی؟ رپورٹ کے مطابق صنعتی شعبے میں کچھ مشکلات سامنے آئیں، جہاں لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی گروتھ منفی 1.22 فیصد رہی۔ تاہم مہنگائی کی شرح میں بہتری دیکھنے میں آئی، جہاں فروری میں مہنگائی سالانہ بنیادوں پر1.5 فیصد کم ہوئی، جب کہ ماہانہ بنیادوں پر 0.8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ مالیاتی خسارہ 1.7 فیصد کم ہوا، جب کہ پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا 2.8 فیصد رہا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالیاتی نظم و نسق کے مستحکم ہونے کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی: معیشت میں بے یقینی پیدا ہوگئی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروباری ہفتے کے پہلے دن شدید مندی دیکھنے میں آئی، جس کی وجہ سے 100 انڈیکس میں 1400 سے زیادہ پوائنٹس کی کمی ہوئی۔ دن کے آغاز سے ہی حصص بازار میں گراوٹ دیکھی گئی اور ایک موقع پر 100 انڈیکس 1412 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ ایک لاکھ 17 ہزار 29 پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ یاد رہے کہ 20 مارچ کو 100 انڈیکس پہلی بار ایک لاکھ 19 ہزار 421 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچا تھا، اس دن 66 کروڑ شیئرز کا لین دین ہوا تھا، جس کی کل مالیت 38 ارب روپے تھی۔ اسٹاک ایکسچینج ایک ایسی مارکیٹ ہے جہاں کمپنیوں کے شیئرز خریدے اور بیچے جاتے ہیں۔ جب کوئی کمپنی اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لیے سرمایہ اکٹھا کرنا چاہتی ہے تو وہ اپنے حصص عوام کو فروخت کرتی ہے، اور لوگ ان حصص کو خرید کر اس کمپنی میں شراکت دار بن جاتے ہیں۔ اگر اسٹاک مارکیٹ میں اضافہ ہوتا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ کاروباری ادارے ترقی کر رہے ہیں، معیشت مستحکم ہے اور سرمایہ کار منافع کما رہے ہیں۔ اس سے ملک میں روزگار کے مواقع بھی بڑھتے ہیں اور کاروباری سرگرمیاں فروغ پاتی ہیں۔ جب اسٹاک مارکیٹ میں کمی آتی ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ سرمایہ کاروں کو نقصان ہو رہا ہے، معیشت میں بے یقینی پیدا ہو رہی ہے اور بعض اوقات کاروباری ادارے مالی مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف سرمایہ کاروں بلکہ عام لوگوں پر بھی اثر پڑتا ہے، کیونکہ معیشت کی سست روی سے روزگار کے مواقع کم ہو سکتے ہیں اور مہنگائی بڑھ سکتی ہے۔
“انڈین روپیہ ایشیا کی بہترین کرنسی بن گیا”

پاکستان کے ہمسایہ ملک انڈیا کی کرنسی ‘روپیہ’ اس وقت ایشیا کی بہترین پرفارم کرنے والی کرنسی بن گیا ہے۔ مارچ کے مہینے میں روپیہ اپنی بہترین کارکردگی کی طرف گامزن ہے اور یہ تقریباً چار سالوں میں اس کی سب سے بڑی ماہانہ کارکردگی ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کرنسی کی کامیابی کا باعث غیرملکی سرمایہ کاری اور پوزیشنز کے ان وائنڈنگ کا مجموعہ ہے جبکہ 25 مارچ کو روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں 85.90 تک پہنچ گیا۔ اس کامیابی کے باوجود انڈین مارکیٹ کے کچھ ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روپے کی حالیہ ترقی میں ایک بڑا خطرہ چھپا ہوا ہے جس کا حساب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آئندہ ہفتے متوقع جوابی ٹیرفز کے اثرات میں شامل نہیں کیا گیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی جوابی ٹیرف کا خطرہ روپے کی قیمتوں پر بڑے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ دوسری جانب ایم یو ایف جی بینک کے مطابق روپے کی حالیہ مضبوطی میں امریکی صدر کی جانب سے ہندوستان پر عائد ہونے والے ٹیرف کا مناسب تخمینہ نہیں لگایا گیا۔ اگر امریکا انڈیا کے تمام درآمدات پر یکساں طور پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرتا ہے تو اس کے انڈیا کی معیشت پر منفی اثرات پڑنے کا امکان ہے اور اس سے 50 سے 60 بیسس پوائنٹس تک نقصان ہو سکتا ہے جو کہ ایک سنگین صورتحال ہو گی۔ امریکی حکومت کی طرف سے 2 اپریل کو مختلف ممالک پر جوابی ٹیرف کے اعلان کا امکان ہے اور ٹرمپ نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انڈیا کو بھی اسی سطح پر ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا جو وہ امریکا سے درآمدات پر عائد کرتا ہے۔ امریکی برآمدات جو انڈیا کو 2024 میں تقریباً 42 ارب ڈالر کی مالیت میں ہوں گی ان پر انڈین ٹیرف کی شرحوں کے باعث مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس میں چوبی مصنوعات اور مشینری پر 7 فیصد، جوتوں اور نقل و حمل کے سامان پر 15 سے 20 فیصد اور خوراک کی مصنوعات پر 68 فیصد تک ٹیرف عائد ہیں۔ اگرچہ روپیہ اس وقت اپنی تاریخ کی بہترین کارکردگی دکھا رہا ہے مگر امریکی جوابی ٹیرف کی صورت میں آنے والی غیر متوقع ہلچل اس کرنسی کی ترقی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ مزید پڑھیں: بینکوں سے ونڈ فال ٹیکس وصولی، قومی خزانے میں 31 ارب روپے جمع
بینکوں سے ونڈ فال ٹیکس وصولی، قومی خزانے میں 31 ارب روپے جمع

ونڈ فال ٹیکس کی مد میں بینکوں سے وصولیوں کا عمل تیزی سے جاری ہے، چار ہفتوں میں 31 ارب روپے سے زائد قومی خزانے میں آ گئے۔ ذرائع کے مطابق سندھ ہائیکورٹ کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے بھی پنجاب میں تمام رجسٹرڈ بینکوں کی درخواستوں پر حکم امتناع ختم کر دیا، عدالتی فیصلے کے بعد پنجاب کے بینکوں نے آج مزید 8.4 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کرا دیے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ونڈ فال ٹیکس کیسز کی بھرپور پیروی کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی تھیں۔ اس سلسلے میں وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور اعوان، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال کو مقدمات میں فوری اقدامات کی ہدایت دی گئی تھی۔ مزید پڑھیں: کراچی میں ڈالا کلچر پر سختی کی ہے اور کریں گے، وزیرِ داخلہ سندھ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک مربوط حکمت عملی کے تحت اس طرح کا اقدام کیا گیا، جس کے نتیجے میں قومی خزانے میں اربوں روپے کی آمدنی ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ تین ہفتے قبل سندھ ہائیکورٹ کے سٹے آرڈر کے خاتمے کے بعد 24 گھنٹے کے اندر بینکوں نے 23 ارب روپے ایف بی آر میں جمع کرائے تھے۔ واضح رہے کہ 2023 میں بینکوں پر انکم ٹیکس ایکٹ کے سیکشن 99 ڈی کے تحت ونڈ فال ٹیکس عائد کیا گیا تھا، جو غیر معمولی اور اضافی منافع پر لاگو کیا گیا تھا۔
پاکستان بھرمیں 1700 ’سستی دکانیں‘ بند کرنے کا فیصلہ، ایسا کیوں کیا جارہا ہے؟

سستی اشیا پاکستانی شہریوں کے لیے خواب بننے لگیں، سستے سٹورز بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، پاکستان بھر میں نقصان میں چلنے والے 1700 یوٹیلیٹی اسٹورز کردیے جائیں گے۔ سینیٹرعون عباس کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کا اجلاس ہوا، جس میں یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کے مستقبل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز حکومت کی نجکاری فہرست میں شامل ہیں، تاہم دو سالہ آڈٹ نہ ہونے کے باعث نجکاری کا عمل رک گیا ہے، آڈٹ اگست 2025 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ سینیٹ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس وقت ملک بھر میں 3200 سے زائد یوٹیلیٹی اسٹورز موجود ہیں، جن میں سے 1700 نقصان میں چل رہے ہیں اور انہیں بند کیا جائے گا، نجکاری کے بعد صرف 1500 اسٹورز کے لیے عملہ درکار ہو گا، جبکہ باقی ملازمین کو سرپلس پول میں بھیج دیا جائے گا۔ حکام کے مطابق یوٹیلیٹی اسٹورز کے 5000 ملازمین ریگولر، جبکہ 6000 کے قریب کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز پر کام کر رہے ہیں، مستقل ملازمین کو سرپلس پول میں شامل کیا جائے گا جبکہ کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز ملازمین کو کوئی پیکج نہیں دیا جائے گا اور نجکاری کے بعد انہیں فارغ کر دیا جائے گا۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کا ماہانہ خرچ ایک ارب 2 کروڑ روپے تھا، تاہم نقصان میں چلنے والے اسٹورز بند کرنے سے یہ کم ہو کر 52 کروڑ روپے رہ گیا ہے، ایک ماہ میں نقصان 22 کروڑ روپے کم ہوا اور مجموعی نقصان 17 کروڑ روپے کم ہو کر 50 کروڑ روپے تک آ گیا ہے۔
چینی کی بڑھتی قیمتیں: کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان نے تجاویز دے دیں

پاکستان میں چینی کی قیمت رمضان کے دوران 175 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ 200 روپے تک بڑھ سکتی ہے۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ شوگر ملز کے مبینہ کارٹیل کو قرار دیا جا رہا ہے، جس پر کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان نے نظر رکھنی شروع کر دی ہے۔ حکومت نے پہلے شوگر ملوں کو چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی، لیکن اس فیصلے کے ممکنہ اثرات پر غور نہیں کیا گیا۔ برآمدات کے بعد جب مقامی مارکیٹ میں چینی کی قلت پیدا ہونے لگی، تو حکومت نے خام چینی درآمد کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس فیصلے سے مقامی ڈیلرز کو نقصان پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ عوام کو مہنگی چینی خریدنا پڑ سکتی ہے۔ کمپیٹیشن کمیشن نے چینی کی قیمتوں میں اضافے، ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ 2020 میں کی گئی ایک انکوائری میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن قیمتوں کے تعین اور چینی کی سپلائی پر اثر انداز ہو رہی تھی۔ اسی بنیاد پر 2021 میں کمیشن نے شوگر ملوں پر 44 ارب روپے کا جرمانہ عائد کیا، تاہم ملرز نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کر دیا اور قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے اب تک جرمانہ وصول نہیں کیا جا سکا۔ کمپیٹیشن کمیشن نے چینی کے کاروبار میں شفافیت لانے اور زیادہ مسابقت پیدا کرنے کے لیے مختلف تجاویز دی ہیں۔ ان میں چینی کی قیمتوں کو مارکیٹ کے مطابق طے کرنے دینا، گنے کی امدادی قیمت ختم کرنا اور شوگر ملوں کے قیام پر عائد پابندیاں ہٹانا شامل ہیں۔ اس وقت چینی کے مصنوعی بحران اور شوگر کارٹیل کے خلاف 127 مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔ ان میں سے 24 مقدمات سپریم کورٹ، 25 لاہور ہائی کورٹ، 6 سندھ ہائی کورٹ اور 72 مسابقتی اپیلٹ ٹریبونل میں ہیں۔ حکومت نے ان مقدمات کے جلد حل کے لیے اپیلٹ ٹریبونل میں نئے چیئرمین اور ممبران تعینات کر دیے ہیں۔ اگر چینی کی قیمتوں پر قابو نہ پایا گیا اور کارٹیل کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کی گئی، تو عوام کو مزید مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکومت اور مسابقتی کمیشن اس مسئلے پر توجہ دے رہے ہیں، لیکن اس کا حل سخت پالیسیوں پر عمل درآمد سے ممکن ہوگا۔
خیبر پختونخوا پاکستان کا پہلا ‘کیش لیس’ صوبہ بننے کو تیار

خیبر پختونخوا پاکستان کا پہلا کیش لیس صوبہ بننے کے لیے تیار ہے، جیسا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام صوبے میں ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے اور مالیاتی شفافیت کو یقینی بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ “کیش لیس خیبر پختونخوا انیشیٹو” کے تحت صوبے میں تمام مالی لین دین کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ذریعے ممکن بنانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر، اس نظام کو تمام کاروباری اداروں کے لیے لازمی قرار دیا جائے گا تاکہ نقد لین دین میں کمی آئے اور مالیاتی امور کو زیادہ مؤثر اور شفاف بنایا جا سکے۔ اس اقدام کے تحت، موبائل والیٹ فراہم کرنے والوں کے ساتھ شراکت داری قائم کی جائے گی، اور ضلعی سطح پر ایک مضبوط نظام نافذ کیا جائے گا تاکہ تمام کاروبار، بشمول دکانیں، پبلک ٹرانسپورٹ، کھوکھے، اور اسٹریٹ وینڈرز، ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کو اپنائیں۔ اس کے لیے کاروباروں کو کیو آر کوڈز فراہم کیے جائیں گے تاکہ صارفین آسانی سے ادائیگی کر سکیں۔ یہ اقدام مالی بدعنوانی اور دھوکہ دہی کو کم کرنے، ٹیکس کی وصولی کو بہتر بنانے، اور کاروباری ماحول کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد دے گا۔ اس سے عالمی سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھے گی اور ڈیجیٹل کاروبار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔ مزید برآں، ایک مرکزی ڈیٹا بیس قائم کیا جائے گا جو ہنگامی حالات میں مخصوص طبقات کو مالی امداد فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ محکمہ خزانہ اس منصوبے کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات کرے گا: موبائل والیٹ فراہم کرنے والوں کا انتخاب خیبرپختونخوا پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قواعد کے مطابق کیا جائے گا یا مفاہمت کی یادداشت کے تحت معاہدے کیے جائیں گے۔ موبائل والیٹ سروس فراہم کرنے والے کاروباری اداروں کی رجسٹریشن کے لیے ایک آن لائن پلیٹ فارم متعارف کروائیں گے، جس سے کاروباری افراد آسانی سے ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کا حصہ بن سکیں گے۔ ضلعی انتظامیہ کی نگرانی میں ایک تعمیل مہم چلائی جائے گی، جس کے تحت تمام کاروباروں کو کیو آر کوڈ آویزاں کرنے کا پابند بنایا جائے گا تاکہ لوگ نقد رقم کے بغیر ادائیگیاں کر سکیں۔ وزیراعلیٰ نے تمام محکموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مربوط کوششیں کریں، تاکہ خیبرپختونخوا پاکستان کا پہلا کیش لیس صوبہ بن کر ایک نئی مثال قائم کرے۔