پی ایس ایل کے دسویں ایڈیشن کا ترانہ “ایکس دیکھو” ریلیز کر دیا گیا

پاکستان کرکٹ بورڈ نے بدھ کے روز پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے دسویں ایڈیشن کا آفیشل ترانہ ’ایکس دیکھو‘ جاری کر دیا۔ معروف پنجابی گلوکار ابرارالحق پہلی بار پی ایس ایل کے ترانے میں اپنی آواز کا جادو جگا رہے ہیں، ان کے ساتھ علی ظفر اور نتاشا بیگ نے بھی ترانے میں اپنی آواز کا رنگ بھرا ہے۔ اس کے علاوہ معروف ریپر طلحق انجُم بھی اس ترانے کا حصہ ہیں۔ پی ایس ایل کے چیف ایگزیکٹو سلمان نصیر نے ترانے کی ریلیز سے قبل کہا تھا کہ یہ گانا پی ایس ایل کی کامیابیوں کے دس سال مکمل ہونے کی خوشی میں تیار کیا گیا ہے۔ اسی لیے اس کا نام ’ایکس دیکھو‘ رکھا گیا، جو اس لیگ کے دوران عبور کی گئی مشکلات اور حاصل کی گئی کامیابیوں کی علامت ہے۔ View this post on Instagram A post shared by Pakistan Super League (@thepsl) انہوں نے کہا کہ ترانے میں چار مختلف پس منظر اور میوزیکل انداز رکھنے والے فنکاروں کو شامل کرنا پاکستان کے ٹیلنٹ کی وسعت اور تنوع کو ظاہر کرتا ہے۔ اس بار ایک ایسا گانا بنانے کی کوشش کی گئی جو نیا ہونے کے ساتھ ساتھ مانوس بھی محسوس ہو اور عالمی سطح پر شائقین کو اپنی طرف متوجہ کرے۔ پاکستان سپر لیگ کے دسویں ایڈیشن کا آغاز 11 اپریل کو ہونے جا رہا ہے، جس کا پہلا میچ دفاعی چیمپیئن اسلام آباد یونائیٹڈ اور دو مرتبہ کی فاتح ٹیم لاہور قلندرز کے درمیان راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ پی سی بی کے مطابق، راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم 11 میچوں کی میزبانی کرے گا، جس میں 13 مئی کو پہلا کوالیفائر بھی شامل ہوگا۔ کراچی کے نیشنل بینک اسٹیڈیم اور ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں پانچ، پانچ میچز کھیلے جائیں گے۔ کراچی کنگز اپنی مہم کا آغاز 12 اپریل کو اپنے ہوم گراؤنڈ میں ملتان سلطانز کے خلاف کرے گی۔ گزشتہ ماہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اعلان کیا تھا کہ پی ایس ایل 10 کے میچز کے لیے ٹکٹس 3 اپریل سے آن لائن فروخت کے لیے دستیاب ہوں گی۔ پی سی بی کے مطابق، 7 اپریل سے ٹکٹس مخصوص ٹی سی ایس ایکسپریس سینٹرز پر دستیاب ہوں گی، جبکہ آن لائن بک کیے گئے ٹکٹس بھی ٹی سی ایس کے مقررہ پوائنٹس سے حاصل کیے جا سکتے ہیں یا پھر صارفین انہیں ہوم ڈلیوری کے ذریعے منگوا سکتے ہیں۔ پی ایس ایل 10 کے میچز کے لیے جنرل ٹکٹ کی قیمت چاروں وینیوز پر 650 روپے مقرر کی گئی ہے۔
دوسرے ون ڈے میں پاکستان کو شکست، ٹی ٹوئنٹی کے بعد ون ڈے سیریز بھی نیوزی لینڈ کے نام

نیوزی لینڈ نے تین میچوں کی ون ڈے سیریز کے دوسرے میچ میں پاکستان کو 84 رنز سے شکست دے کر سیریز میں دو صفر کی برتری حاصل کرلی۔ ہیملٹن کے سیڈون پارک میں کھیلے گئے میچ میں نیوزی لینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 292 رنز بنائے۔ کیویز کے وکٹ کیپر مچل ہے نے 78 گیندوں پر 99 رنز کی شاندار اننگ کھیلی، جس میں 7 چھکے اور 7 چوکے شامل تھے۔ وہ ناٹ آؤٹ رہے۔ پاکستان کی ٹیم 292 رنز کے ہدف کے تعاقب میں 208 رنز بنا سکی اور پوری ٹیم آؤٹ ہوگئی۔ پاکستان کی جانب سے فہیم اشرف 73 اور نسیم شاہ 51 رنز بنا کر نمایاں رہے۔ پاکستان کے کپتان محمد رضوان نے ٹاس جیت کر پہلے نیوزی لینڈ کو بیٹنگ کی دعوت دی۔ نیوزی لینڈ کے اوپنرز نے 54 رنز کا اچھا آغاز فراہم کیا، لیکن پہلی وکٹ چھٹے اوور میں گری جب نک کیلی 31 رنز بنا کر حارث رؤف کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔ دوسرے اوپنر ریس مارِیو 18 رنز بنا کر 10ویں اوور میں وسیم جونیئر کا شکار بنے۔ اس وقت نیوزی لینڈ کا اسکور 71 رنز تھا۔ اس کے بعد ڈیرل مچل 18 اور ہنری نکولس 22 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، اور 17 اوورز میں نیوزی لینڈ کا اسکور 102 تک پہنچا۔ کیوی کپتان مائیکل بریسویل اور محمد عباس نے پانچویں وکٹ کے لیے 30 رنز جوڑے، لیکن بریسویل 17 رنز بنا کر محمد وسیم جونیئر کی گیند پر آؤٹ ہوگئے۔ مچل ہے اور محمد عباس نے چھٹی وکٹ پر 77 رنز کی شراکت داری کی۔ 40ویں اوور میں عباس کے آؤٹ ہونے پر نیوزی لینڈ کا اسکور 209 رنز تھا۔ مچل ہے نے آخر تک جارحانہ بلے بازی جاری رکھی اور آخری اوور میں 24 رنز بنائے۔ نیوزی لینڈ کی اننگ 8 وکٹوں کے نقصان پر 292 رنز پر ختم ہوئی۔ پاکستان کی جانب سے محمد وسیم جونیئر اور سفیان مقیم نے 2، 2 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ فہیم اشرف، عاکف جاوید اور حارث رؤف نے ایک، ایک وکٹ لی۔ پاکستانی ٹیم میں اس میچ کے لیے 4 تبدیلیاں کی گئی تھیں۔ امام الحق، عبداللہ شفیق، بابراعظم، محمد رضوان (کپتان)، سلمان علی آغا، طیب طاہر، فہیم اشرف، محمد وسیم جونیئر، حارث رؤف، سفیان مقیم اور عاکف جاوید پلیئنگ الیون کا حصہ تھے۔ پہلے میچ میں کھیلنے والے عثمان خان، محمد علی، عرفان خان نیازی اور نسیم شاہ اس میچ میں شامل نہیں تھے۔ نیوزی لینڈ کے اہم بیٹر مارک چیپمین ہیمسٹرنگ انجری کے باعث ٹیم میں شامل نہ ہوسکے۔ نیوزی لینڈ کو تین میچوں کی سیریز میں اب دو صفر کی فیصلہ کن برتری حاصل ہوچکی ہے۔
لاہوری بوائے یا کیوی میچ ونر، محمد عباس کون ہیں؟

پاکستان اور کیویز کے دوران میچ میں جہاں قومی ٹیم کی کارکردگی نے شائقین کو مایوس کیا، وہیں ایک کیوی کھلاڑی نے وہ یادگار لمحہ دیا جس نے سب کے دل جیت لیے۔ لاہور میں پیدا ہونے والے محمد عباس نے نیوزی لینڈ کی طرف سے اپنے کرکٹ کیریئر کا آغاز کیا، اور یہ لمحہ پاکستانیوں کے لیے بھی فخر کا باعث بن گیا۔ 2003 میں پیدا ہونے والے محمد عباس نے آج نیپیئر کے میک لین گراؤنڈ میں اپنے ڈیبیو میچ میں نہ صرف تیز ترین نصف سنچری اسکور کر کے سب کو حیران کر دیا بلکہ بولنگ میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ وہ بائیں ہاتھ کے میڈیم فاسٹ بولر ہیں اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں 12 وکٹیں لے چکے ہیں۔ انہوں نے پاکستانی کپتان محمد رضوان کی قیمتی وکٹ حاصل کر کے نیوزی لینڈ کرکٹ میں اپنی جگہ پکی کر لی۔ واضح رہے کہ محمد عباس کی فورڈ ٹرافی کے میچوں میں شاندار کارکردگی نے سلیکٹرز کو متاثر کیا، جب نیوزی لینڈ کے کئی کھلاڑی انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کھیلنے میں مصروف تھے، تو پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے کوچ گیری سٹیڈ نے انہیں ٹیم میں شامل کر لیا۔ محمد عباس نے نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ جب مجھے گیری سٹیڈ کا فون آیا اور ٹیم میں شمولیت کی اطلاع ملی تو میں حیران رہ گیا۔ یہ میرے لیے خواب کے پورا ہونے جیسا تھا۔ یہ لمحہ عباس کے والدین کے لیے بھی جذباتی تھا، جو اس تاریخی موقع پر اسٹیڈیم میں موجود تھے۔ ان کے والد اظہر عباس کا کہنا تھا کہ “اس سے بڑی خوشی اور کیا ہو سکتی ہے کہ میرے بیٹے کو آج محنت کا صلہ مل رہا ہے۔ یاد رہے کہ محمد عباس کے والد اظہر عباس ہراج کا تعلق پنجاب کے ضلع خانیوال سے ہے۔ وہ خود بھی ایک باصلاحیت کرکٹر تھے اور پشاور، ریلویز اور زرعی ترقیاتی بینک کی جانب سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل چکے ہیں۔ تاہم قومی ٹیم میں منتخب نہ ہونے کے باعث وہ انگلینڈ چلے گئے، جہاں سے انہیں نیوزی لینڈ منتقل ہونے کا موقع ملا۔
کراچی کنگز نے پی ایس ایل 10 کے لیے روی بوپارا کو ہیڈ کوچ مقرر کر دیا

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے دسویں ایڈیشن کی تیاریوں کے لیے کراچی کنگز نے ایک فیصلہ کیا ہے۔ کراچی نے جمعہ کے روز انگلینڈ کے سابق پلیئر ‘روی بوپارا’ کو پی ایس ایل 10 کے لیے اپنے ہیڈ کوچ کے طور پر مقرر کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ہی ‘محمد مسرور’ کو ہائی پرفارمنس کوچ کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ روی بوپارا، جو کراچی کنگز کے ساتھ طویل عرصے سے وابستہ ہیں انہوں نے اپنے کرکٹنگ کیریئر میں کئی اہم کردار ادا کیے ہیں۔ وہ 2016 سے 2019 تک کراچی کنگز کے کھلاڑی رہے ہیں اور 2016 میں کپتان بھی رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ 2023 میں بیٹنگ کوچ اور 2024 میں اسسٹنٹ کوچ کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ روی بوپارا کا ٹیم کی گہرائی میں سمجھ بوجھ اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں وسیع تجربہ انہیں پی ایس ایل 10 میں ٹیم کی قیادت کے لیے بہترین انتخاب بناتا ہے۔ اس کے علاوہ محمد مسرور، جو کراچی کنگز کے ساتھ طویل عرصے سے فیلڈنگ کوچ اور اسسٹنٹ کوچ کے طور پر وابستہ ہیں اور اب ہائی پرفارمنس کوچ کے طور پر اپنی ذمہ داریوں کا آغاز کریں گے۔ ان کی مہارت اور کھلاڑیوں کی ترقی میں تجربہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کراچی کنگز کے کھلاڑیوں کی کارکردگی میں مزید بہتری آئے گی۔ کراچی کنگز کے مالک سلمان اقبال نے ان تقرریوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ “ہم روی بوپارا کو پی ایس ایل 10 کے لیے اپنے ہیڈ کوچ کے طور پر خوش آمدید کہتے ہیں، ان کا کراچی کنگز کے ساتھ سفر بطور کھلاڑی اور پھر کوچنگ اسٹاف کا حصہ بننا ان کی اس فرنچائز کے لیے گہری وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ان کی قیادت میں ٹیم میں نئی توانائی آئے گی۔” انہوں نے مزید کہا ہے کہ “محمد مسرور کی ہائی پرفارمنس کوچ کے طور پر ترقی ان کی محنت اور لگن کا اعتراف ہے۔ ان دونوں کی قیادت میں کراچی کنگز ایک مضبوط اور کامیاب ٹیم کے طور پر سامنے آئے گی۔” کراچی کنگز کی ٹیم پی ایس ایل 10 کا آغاز 11 اپریل سے کرے گی اور ان کا پہلا میچ 12 اپریل کو اپنے ہوم گراؤنڈ نیشنل بینک اسٹیڈیم کراچی میں ملتان سلطانز کے خلاف ہوگا۔ مزید پڑھیں: پی ایس ایل 10: پی سی بی نے ٹکٹوں کی فروخت کا اعلان کردیا، کب اور کیسے ہوگی؟
ٹی ٹوئنٹی کے بعد ون ڈے میں بھی پاکستان کو شکست کا سامنا

نیپیئر میں کھیلے گئے تین میچوں کی ون ڈے سیریز کے پہلے میچ میں نیوزی لینڈ نے پاکستان کو 73 رنز سے ہرا دیا۔ نیوزی لینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 344 رنز بنائے۔ مارک چیپمین نے شاندار 132 رنز کی اننگز کھیلی، جس میں 13 چوکے اور 6 چھکے شامل تھے۔ ڈیرل مچل نے 76 رنز اسکور کیے اور محمد عباس نے 26 گیندوں پر 52 رنز بنائے، جس میں 3 چھکے اور 3 چوکے شامل تھے۔ پاکستان کی طرف سے عرفان خان نے 3، جبکہ حارث رؤف اور عاکف جاوید نے 2، 2 وکٹیں حاصل کیں۔ نسیم شاہ اور محمد علی نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ پاکستان کی جانب سے اننگز کا آغاز عبداللہ شفیق اور عثمان خان نے کیا۔ عثمان خان 39 اور عبداللہ شفیق 36 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔ اس کے بعد کپتان محمد رضوان 30 رنز بنا کر چلتے بنے۔ سلمان علی آغا نے 58 رنز بنائے۔ بابر اعظم نے ٹیم کو سہارا دینے کی کوشش کی اور 83 گیندوں پر 78 رنز بنائے، لیکن ان کی اننگز ٹیم کو فتح دلانے کے لیے کافی نہ رہی۔ پاکستان کی پوری ٹیم 45ویں اوور میں 271 رنز بنا کر آل آؤٹ ہوگئی، اور نیوزی لینڈ نے 73 رنز سے کامیابی حاصل کی۔ پاکستان کی ٹیم میں عبداللہ شفیق، عثمان خان، بابراعظم، محمد رضوان، سلمان علی آغا، طیب طاہر، محمد عرفان خان، نسیم شاہ، حارث رؤف، عاکف جاوید اور محمد علی شامل تھے۔ واضح رہے کہ نیوزی لینڈ نے اس سے قبل 5 میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں پاکستان کو 1-4 سے شکست دی تھی۔
پی ایس ایل 10: پی سی بی نے ٹکٹوں کی فروخت کا اعلان کردیا، کب اور کیسے ہوگی؟

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے پی ایس ایل کے دسویں ایڈیشن کے لیے ٹکٹوں کی فروخت کا اعلان کردیا، ٹکٹوں کی فروخت 3 اپریل سے شروع ہوگی۔ پی ایس ایل 2016 میں اپنے پہلے سیزن کے ساتھ شروع ہوا، پاکستان کی سب سے بڑی کرکٹ لیگ بن چکی ہے، جس میں دنیا بھر کے نامور کھلاڑی حصہ لیتے ہیں۔ اس لیگ نے نہ صرف ملکی کرکٹ کو فروغ دیا ہے بلکہ بین الاقوامی کھلاڑیوں کو بھی پاکستان میں کھیلنے کی ترغیب دی ہے۔ پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق آن لائن ٹکٹوں کی فروخت سہ پہر 3 بجے PCB.tcs.com.pk پر شروع ہوگی، جب کہ فزیکل ٹکٹیں 7 اپریل سے ملک بھر میں TCS ایکسپریس سینٹرز پر دستیاب ہوں گی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جو شائقین آن لائن ٹکٹ خریدیں گے، وہ انہیں مقررہ TCS پک اپ مراکز سے حاصل کر سکتے ہیں یا TCS کے ذریعے ہوم ڈیلیوری کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ چاروں وینیوز کے جنرل ٹکٹوں کی قیمت 650 روپے رکھی گئی ہے، جب کہ راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں دفاعی چیمپئن اسلام آباد یونائیٹڈ اور لاہور قلندرز کے درمیان افتتاحی میچ کے ٹکٹ 1000 روپے سے 8500 روپے تک دستیاب ہوں گے۔ پی سی بی کے مطابق شائقین کی دلچسپی بڑھانے کے لیے ہر میچ میں ٹکٹ ریفل کا انعقاد کیا جائے گا، جس میں جیتنے والوں کو دلچسپ انعامات دیے جائیں گے۔ واضح رہے کہ پی ایس ایل 10 کا آغاز جمعہ 11 اپریل کو راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں دفاعی چیمپئن اسلام آباد یونائیٹڈ اور دو بار کی چیمپئن لاہور قلندرز کے درمیان میچ سے ہوگا۔ چھ ٹیموں پر مشتمل یہ ٹورنامنٹ 11 اپریل سے 18 مئی تک جاری رہے گا، جس میں 34 میچز کھیلے جائیں گے۔ لاہور کا قذافی اسٹیڈیم 13 میچز کی میزبانی کرے گا، جن میں دو ایلیمینیٹرز اور فائنل شامل ہوگا۔ راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم 11 میچز کی میزبانی کرے گا، جس میں کوالیفائر ون بھی شامل ہے۔ کراچی کا نیشنل بینک اسٹیڈیم اور ملتان کرکٹ اسٹیڈیم پانچ، پانچ میچوں کے میزبان ہوں گے۔ پی ایس ایل کے 10ویں ایڈیشن میں ایک نمائشی میچ بھی رکھا گیا ہے، جو 8 اپریل کو پشاور میں کھیلا جائے گا۔ ٹورنامنٹ میں تین ڈبل ہیڈرز ہوں گے، جن میں سے دو ہفتے کے روز، جب کہ ایک یوم مزدور (یکم مئی) کو ہوگا۔ یاد رہے کہ پاکستان سپر لیگ نے گزشتہ نو سیزنز میں بے شمار یادگار لمحات فراہم کیے ہیں۔ اب اس کا 10واں ایڈیشن ایک اور تاریخی سیزن بننے کے لیے تیار ہے، جس میں شائقین کو سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔
آئی پی ایل 2025: پُورَن اور شاردول ٹھاکر اورنج اور پرپل کیپ لیڈر بورڈ پر سر فہرست

آئی پی ایل 2025 میں شاردول تھاکر نے شاندار پرفارمنس کے ساتھ ایک نیا سنگ میل عبور کرلیا ہے۔ سنرائزر حیدرآباد (ایس آر ایچ) کے خلاف کھیلے گئے میچ میں ان کی 4 وکٹوں کی شاندار کارکردگی نے انہیں پرپل کیپ کو لیڈربورڈ پر سرفہرست لا کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے 4 اوورز میں 34 رنز کے عوض 4 کھلاڑیوں کو پویلین واپس بھیجا جس کے ساتھ ہی وہ اس سیزن کی بہترین بولنگ پرفارمنس کا حصہ بن گئے ہیں۔ شاردول تھاکر جو موہسن خان کی جگہ ٹیم میں شامل ہوئے ہیں، انہوں نے اپنے آغاز سے ہی متاثر کن کارکردگی دکھائی۔ پہلے میچ میں دہلی کیپیٹلز (ڈی سی) کے خلاف انہوں نے ابتدائی بولنگ کرتے ہوئے دو اہم وکٹیں حاصل کیں اس کے بعد ایس آر ایچ کے خلاف ان کا جادو سر چڑھ کر بولا۔ انہوں نے لگاتار دو گیندوں پر ابھیناف منہوار اور ایشان کشور کو آؤٹ کیا ان کی اس شاندار پرفارمنس نے انہیں پرپل کیپ کے ٹاپ پر لا کھڑا کیا ہے۔ اسی دوران چنائی سپر کنگز (سی ایس کے) کے نوئر احمد بھی اپنے 4 وکٹوں کے ساتھ خاصے توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ممبئی انڈینز (ایم آئی) کے خلاف 4 وکٹوں کے ساتھ میچ جیتنے میں اہم کردار ادا کیا اور ان کی کارکردگی اس سیزن کی سب سے بہترین بولنگ پرفارمنس میں شمار ہو رہی ہے۔ یہ بھی پڑھیں: ایران نے فیفا ورلڈکپ 2026 کے لیےکوالیفائی کرلیا جہاں پرپل کیپ پر شاردول تھاکر کا راج ہے وہیں اورنج کیپ پر بھی دو کھلاڑیوں کا تسلط نظر آ رہا ہے اور ان دونوں کا تعلق بھی ایک ہی ٹیم ‘لکھنوؑ سپر جائنٹس’ سے ہے۔ نیکولس پورن اور مچل مارش دونوں نے اپنی پرفارمنس سے مخالف ٹیموں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ نیکولس پورن نے اس سیزن میں چھکوں کی بارش کرتے ہوئے اپنی پوزیشن کو مستحکم کیا۔ وہ اس وقت آئی پی ایل کے سب سے زیادہ چھکے مارنے والے کھلاڑی بن گئے ہیں اور ان کی اسٹرائیک ریٹ (258.91) اس سیزن میں سب سے زیادہ ہے۔ پورن نے دہلی کیپیٹلز (ڈی سی) کے خلاف 30 گیندوں پر 75 اور سنرائزر حیدرآباد (ایس آر ایچ) کے خلاف 26 گیندوں پر 70 رنز بنائے۔ دوسری جانب مچل مارش، جو اس سیزن میں صرف بیٹر کی حیثیت سے کھیل رہے ہیں انہوں نے بھی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ آرنج کیپ کی فہرست میں پورن کے بعد مچل مارش کا نمبر آتا ہے جبکہ تیسرے نمبر پر ایڈیلیڈ اور پچھلے سیزن کے کامیاب کھلاڑی ٹریوس ہیڈ ہیں جنہوں نے اپنے شاندار آغاز کے ساتھ اس سیزن میں بھی اپنے کھیل کا لوہا منوایا ہے۔ ہیڈ نے راجستھان رائلز (آر آر) کے خلاف 31 گیندوں پر 67 رنز بنائے، اور ایل ایس جی کے خلاف بھی 28 گیندوں پر 47 رنز کی اننگز کھیلی۔ جبکہ پرپل کیپ کی فہرست میں ٹھاکر کے بعد نوئر احمد اور کرنیل پانڈیا کا نمبر آتا ہے۔ پانڈیا نے رائل چیلنجرز بنگلور (آر سی بی) کے خلاف اپنے پہلے میچ میں 29 رنز کے عوض 3 وکٹیں حاصل کیں۔ مزید پڑھیں: ویمن کرکٹ ورلڈ کپ 2025: قومی ٹیم کے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کردیا گیا
ویمن کرکٹ ورلڈ کپ 2025: قومی ٹیم کے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کردیا گیا

خواتین کی قومی سلیکشن کمیٹی نے 9 سے 19 اپریل تک لاہور کے قذافی اسٹیڈیم اور ایل سی سی اے گراؤنڈ میں ہونے والے آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ کوالیفائر کے لیے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے مطابق اسکواڈ کا انتخاب سلیکشن کمیٹی نے دوسرے مرحلے کے تیاری کے کیمپ میں کھلاڑیوں کی فٹنس اور فارم کا جائزہ لے کر کیا ہے، جس میں کھلاڑیوں نے وارم اپ میچز اور پریکٹس سیشنز میں حصہ لیا تھا۔ اس ایونٹ میں پاکستان کی قیادت فاطمہ ثنا کریں گی جنہوں نے 6 ٹی 20 اور 2 ون ڈے میچوں میں قومی ٹیم کی قیادت کررکھی ہے۔ فاطمہ ثنا 50 اوورز کے اس ایونٹ میں بھی ٹیم کی کپتانی جاری رکھیں گی اور اس کے علاوہ شوال ذوالفقار جو کہ دسمبر 2023 میں نیوزی لینڈ کے دورے کے دوران کندھے کی انجری کا شکار ہو گئی تھیں وہ اب قومی ٹیم میں واپس آچکی ہیں۔ پاکستان خواتین کرکٹ ٹیم کے اسکواڈ میں فاطمہ ثنا (کپتان)، منیبہ علی (نائب کپتان)، عالیہ ریاض، ڈیانا بیگ، گل فیروزہ، نجیہہ علوی (وکٹ کیپر)، نشرہ سندھو، نتالیہ پرویز، عمیمہ سہیل، رامین شمیم، سعدیہ اقبال، شوال ذوالفقار، سدرہ امین، سدرہ نواز (وکٹ کیپر)، اور سیدہ عروب شاہ۔ ریزرو کھلاڑیوں میں غلام فاطمہ، وحیدہ اختر، اور ام ہانی شامل ہیں۔ آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ کوالیفائر میں 6 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جن میں میزبان پاکستان کے علاوہ بنگلہ دیش، آئرلینڈ، اسکاٹ لینڈ، تھائی لینڈ اور ویسٹ انڈیز شامل ہیں۔ یہ ایونٹ سنگل لیگ راؤنڈ ‘رابن فارمیٹ’پر مشتمل ہوگا جس میں قذافی اسٹیڈیم لاہور اور ایل سی سی اے گراؤنڈ اس کے میچز کی میزبانی کریں گے۔ اس ایونٹ کا افتتاحی میچ پاکستان اور آئرلینڈ کے درمیان 9 اپریل کو قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ مزید پڑھیں: نیوزی لینڈ نے پاکستان کے خلاف ون ڈے ٹیم کا اعلان کر دیا، مچل سینٹنر کی جگہ ٹام لیتھم کپتان مقرر
آئی پی ایل 2025: پنجاب کنگز نے گجرات ٹائٹنز کو شکست دے دی

پنجاب کنگز کے مالکان نے 3.17 ملین ڈالر کی رقم خرچ کر کے شریاس آئر کو ٹیم کا حصہ بنایا اور یہ فیصلہ اب تک درست ثابت ہو رہا ہے۔ شریاس آئر کی قیادت میں پنجاب کنگز نے آئی پی ایل کے حالیہ میچ میں 2022 کی چیمپئن گجرات ٹائٹنز کو شکست دے کر اپنی جیت کی راہ ہموار کی۔ آئر نے نہ صرف اپنی بیٹنگ سے ٹیم کو فتح کی دہلیز تک پہنچایا بلکہ اپنی قیادت سے ثابت کر دیا کہ وہ ایک اچھے کپتان ہیں۔ پنجاب کنگز ہمیشہ سے آئی پی ایل کی کمزور ٹیموں میں شمار ہوتی رہی ہے ان کی سب سے بہترین پرفارمنس 2014 میں تھی جب وہ فائنل تک پہنچے، لیکن اس کے بعد کبھی بھی ٹورنامنٹ کے آخری مراحل میں نہیں پہنچ سکے۔ گزشتہ سال یہ ٹیم 10 ٹیموں میں سے نویں نمبر پر رہی مگر اس سال شریاس آئر کی قیادت میں ان کی کارکردگی میں زبردست بہتری آئی ہے۔ شریاس آئر نے گزشتہ سال کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی قیادت کی اور ٹائیٹل اپنے نام کیا تھا لیکن پھر ان کو ٹیم سے آزاد کر دیا گیا، جس کے بعد پنجاب کنگز نے انہیں اپنے اسکواڈ کا حصہ بنایا۔ اور یہ فیصلہ اب تک صحیح ثابت ہو رہا ہے۔ آئر نے گجرات ٹائٹنز کے خلاف احمد آباد میں 42 گیندوں پر 97 رنز کی اننگز کھیلی جس میں 9 چھکے اور 5 چوکے شامل تھے۔ یہ بھی پڑھیں: نیوزی لینڈ نے پاکستان کے خلاف ون ڈے ٹیم کا اعلان کر دیا، مچل سینٹنر کی جگہ ٹام لیتھم کپتان مقرر اس میچ میں سب سے اہم لمحہ وہ تھا جب شریاس آئر نے اپنی سینچری کے قریب پہنچ کر اپنے بیٹنگ پارٹنر ششانک سنگھ کو آخری اوور میں کھل کر کھیلنے کی آزادی دی۔ ششانک نے اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور آخری اوور میں 5 چوکے مار کر پنجاب کا اسکور 243-5 تک پہنچا دیا۔ ششانک سنگھ نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ “میں آئر سے پوچھنا چاہ رہا تھا کہ مجھے ایک سنگل لے کر ان کو اسٹرائیک دینی چاہیے یا نہیں لیکن انہوں نے خود مجھے کہا کہ میری سینچری کے بارے میں فکر نہ کرو۔ یہ بہت دلیرانہ فیصلہ تھا کیونکہ آئی پی ایل میں سینچری بنانا بہت مشکل ہوتا ہے۔” گجرات ٹائٹنز نے بھی شاندار بیٹنگ کی، جس میں سائی سدھارشن اور جوز بٹلر کی ففٹیز نے انہیں جیت کی امید دی۔ تاہم، وہ 232-5 تک ہی محدود رہ سکے۔ شریاس آئر، جنہیں میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا انہوں نے کہا کہ “آخری اوور میں اضافی 40 رنز نے ہماری جیت میں بڑا کردار ادا کیا۔ ہم نے 200 کا ہندسہ عبور کیا تھا اور ہم جانتے تھے کہ بڑے ٹارگٹ کے ساتھ کھیلنا بہت ضروری ہے۔ مگر خوشی ہے کہ ہم نے اپنی منصوبہ بندی پر عمل کیا۔” مزید پڑھیں: ایران نے فیفا ورلڈکپ 2026 کے لیےکوالیفائی کرلیا
آخری ٹی ٹوئنٹی میں نیوزی لینڈ نے پاکستان کو شکست دے دی

نیوزی لینڈ نے پاکستان کے خلاف پانچویں اور آخری ٹی 20 میچ میں ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا۔ یہ میچ ویلنگٹن ریجنل اسٹیڈیم میں کھیلا گیا، جہاں میزبان ٹیم کو سیریز میں 1-3 کی فیصلہ کن برتری حاصل تھی۔ ٹاس کے موقع پر نیوزی لینڈ کے کپتان مائیکل بریسویل نے کہا کہ وہ سیریز کا اختتام جیت کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب، پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا نے کہا کہ ٹیم میں پانچ تبدیلیاں کی گئی ہیں، تاکہ نئے کھلاڑیوں کو موقع دیا جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ اس میچ میں کامیابی حاصل کریں گے اور پھر ون ڈے سیریز جیتنے کی کوشش کریں گے۔ پاکستانی ٹیم میں شاہین شاہ آفریدی، ابرار احمد، عرفان خان نیازی، خوشدل شاہ اور عباس آفریدی کو ڈراپ کیا گیا ہے، جبکہ عمیر بن یوسف، عثمان خان، جہانداد خان، سفیان مقیم اور محمد علی کو شامل کیا گیا ہے۔ پاکستانی اسکواڈ: سلمان علی آغا (کپتان)، محمد حارث، حسن نواز، عمیر بن یوسف، عثمان خان، شاداب خان، عبدالصمد، جہانداد خان، حارث رؤف، سفیان مقیم، محمد علی۔ نیوزی لینڈ کا اسکواڈ: مائیکل بریسویل (کپتان)، ٹم سیفرٹ، فن ایلن، مارک چیپمین، ڈیرل مچل، جمی نیشم، مچل ہے، ایش سوڈھی، جیکب ڈفی، بین سیئرز، ول اوورکے۔ سیریز میں پہلے ہی نیوزی لینڈ کو برتری حاصل ہے، تاہم پاکستان کے لیے یہ میچ اہمیت کا حامل ہوگا، جبکہ کیوی ٹیم جیت کے ساتھ سیریز کا اختتام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔