اپریل 4, 2025 7:30 صبح

English / Urdu

برطانیہ کے رکن پارلیمنٹ ایمسبری کے مستعفی ہونے سے ضمنی انتخاب کا اعلان

برطانیہ کے رکن پارلیمنٹ ‘مائیک ایمس بیری’ نے اپنے حلقے کے ایک شہری کو مارنے کے الزام میں سزا کے بعد اپنی استعفیٰ دینے کا اعلان کیا ہے جس سے ایک اہم ضمنی انتخابات کا آغاز ہو گا۔ یہ واقعہ 2023 کے اکتوبر میں پیش آیا جب ایمس بیری نے سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک شخص کو مکے مارتے ہوئے دکھا، اور پھر اسے نیچے گرنے کے بعد مزید مارا۔ اس واقعے کے بعد 55 سالہ ایمس بیری نے ‘کامن اسالٹ’ کے جرم میں اپنی گناہ گاری قبول کی اور انہیں معطل قید کی سزا سنائی گئی۔ ایمس بیری نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ‘جتنا جلدی ہو سکے’ استعفیٰ دے دیں گے اور اس واقعے پر گہرے پچھتاوے کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہر لمحہ اور ہر دن اس عمل پر افسوس کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اب ان کی پارلیمانی نشست کے لیے ایک ضمنی انتخاب کا اعلان کیا جائے گا تاہم ابھی اس کی تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا۔ مائیک ایمس بیری جو 2017 سے پارلیمنٹ کے رکن تھے انہوں نے گزشتہ سال اپنی نشست 14,696 ووٹوں کی اکثریت سے جیتی تھی۔ تاہم، اب ان کی جگہ پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں دائیں بازو کی پاپولسٹ جماعت، ریفارم یوکے، جو نائجیل فریج کی قیادت میں ہے ان کی کامیابی کے لیے پرامید نظر آ رہی ہے۔ بکیز کے مطابق، ریفارم یوکے اس ضمنی انتخاب کے لیے فیورٹ جماعت بنی ہوئی ہے۔ یہ صورتحال سیاسی حلقوں میں دلچسپی کی لہر دوڑا رہی ہے، اور دونوں بڑی جماعتیں اس نشست کو حاصل کرنے کے لیے اپنی حکمت عملی تیار کر رہی ہیں۔ مزید پڑھیں: ٹرمپ کا سفری پابندی کے لیے حکم نامہ کل جاری ہونے کا امکان، شامل ممالک کے نام سامنے آگئے

لندن: ٹاور پر چڑھ کر فلسطینی حمایت میں احتجاج کرنے والا شخص عدالت میں پیش

لندن کے مشہور “بگ بین” یعنی ایلزبتھ ٹاور پر چڑھ کر فلسطینیوں کے حق میں احتجاج کرنے والا 29 سالہ شخص عدالت میں پیش ہو گیا ہے۔ ڈینیئل ڈے نے ہفتے کے روز صبح 7:20 بجے ٹاور کے 25 میٹر (82 فٹ) حصے تک چڑھ کر ایک طویل احتجاج کا آغاز کیا جو پورے 16 گھنٹے تک جاری رہا۔ اس دوران ڈینئل نے ہاتھ میں فلسطینی پرچم تھام رکھا تھا اور اس کی موجودگی نے نہ صرف لندن کے مرکزی علاقے میں سنگین خلل ڈالا، بلکہ اہم سڑکوں کی بندش اور بسوں کے روٹس کی تبدیلی کی وجہ سے بڑی پریشانی پیدا کی۔ اس کے علاوہ پارلیمنٹ کی ٹورز منسوخ ہونے سے 25,000 پاؤنڈز (تقریباً 32,300 امریکی ڈالر) کا مالی نقصان بھی ہوا۔ پولیس نے ڈینئیل کے خلاف دو سنگین الزامات عائد کیے ہیں پہلے، “ٹاور پر چڑھنے اور اس پر رہنے سے عوامی تحفظ کو خطرہ لاحق ہونے کا جرم” اور دوسرا “محدود اور محفوظ علاقے میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کا الزام”۔ عدالت میں پیشی کے دوران ڈینئیل کے وکیل نے پہلے الزام کی تردید کی اور کہا کہ اس کا مقصد صرف غزہ کی صورتحال اور برطانیہ کے ردعمل کے بارے میں آگاہی پھیلانا تھا۔ دوسری جانب ‘تجاوز’ کے الزامات پر فیصلہ کرنے کے لیے اٹارنی جنرل کی منظوری ضروری ہے جس کے باعث مقدمے کی سماعت 17 مارچ تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ اس دوران ڈے کے حامیوں نے عدالت کے باہر ان کا استقبال کرتے ہوئے ‘ہیرو’ اور ‘فری فلسطین’ کے نعرے لگائے۔ دوسری جانب ‘ہاؤس آف کامنز’ کے اسپیکر ‘لنڈسے ہوئل’ نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک جائزہ کمیٹی تشکیل دینے کی درخواست کی ہے۔ یہ واقعہ لندن میں پولیس اور عوامی انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے اور اس کی پیچیدگیوں کے باعث اسے گہری نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ مزید پڑھیں: برطانوی بادشاہ کیا سنتے ہیں؟

برطانوی بادشاہ کیا سنتے ہیں؟

ایپل میوزک نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں کنگ چارلس نے اپنی پسندیدہ موسیقی کے بارے میں اظہارِ خیال کیا ہے۔ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ وہ صبح بیدار ہوتے ہی مختلف دھنوں کے ساتھ دن کا آغاز کرتے ہیں۔ ایپل میوزک کے ایک نئے نشریاتی شو اور پلے لسٹ کے مطابق، جسے چارلس نے خود ترتیب دیا ہے، ان کے انتخاب میں مختلف دہائیوں اور انواع کے گانے شامل ہیں۔ ان کی پلے لسٹ میں ریگی کے لیجنڈ باب مارلے سے لے کر حالیہ گریمی نامزد گلوکارہ اور نغمہ نگار رے تک کے گانے شامل ہیں۔ یہ نشریاتی بکنگھم پلیس میں ریکارڈ کی گئی ہےاور دولت مشترکہ کے دن کی مناسبت سے 10 مارچ کو نشر کی جائے گی،اس پروگرام کے آغاز میں برطانوی بادشاہ چارلس کہتے ہیں:”میری پوری زندگی میں، موسیقی نے میرے لیے بہت اہمیت رکھی ہے، میں جانتا ہوں کہ بہت سے دیگر افراد کے لیے بھی یہی معاملہ ہے۔” “لیکن شاید سب سے بڑھ کر، موسیقی ہماری روح کو بلند کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہے، خاص طور پر جب یہ ہمیں جشن کے موقع پر اکٹھا کرتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں، یہ ہمیں خوشی فراہم کرتی ہے۔” بادشاہ کی ایپل پلے لسٹ میں دیگر معروف نام بھی شامل ہیں، جیسے کائلی منوگ، گریس جونز اور ڈیوڈو۔ میوزک کے علاوہ، بادشاہ اس پروگرام میں ان فنکاروں سے اپنی ملاقاتوں کے دلچسپ قصے بھی بیان کرتے ہیں اور یہ بھی بتاتے ہیں کہ یہ گانے ان کی زندگی کا ساؤنڈ ٹریک کیوں بنے۔ ایپل کی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک ویڈیو پیغام میں کنگ چارلس نے اپنی موسیقی سے محبت کا اظہار کیا۔ ویڈیو میں بکنگھم پیلس کے باہر ایک شاہی براس بینڈ کو باب مارلے اینڈ دی ویلرز کے مشہور گانے “کُڈ یو بی لووڈ” کی دھن بجاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

‘ترقی یافتہ’ ملک برطانیہ میں بڑھتی جبری غلامی ریکارڈ سطح پر

برطانیہ میں ممکنہ جدید غلامی کا شکار ہونے والوں کی تعداد میں گزشتہ سال ریکارڈ اضافہ ہوا، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں نیشنل ریفرل میکانزم میں 19,125 متاثرین کے حوالہ جات درج کیے گئے، جو 2023 کے 17,000 کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑتا ہے۔ جدید غلامی میں انسانی اسمگلنگ، جبری مشقت اور استحصالی جیسی صورتحال شامل ہیں، جو غربت، تنازعات اور ہجرت کے نتیجے میں بڑھ رہی ہیں۔ برطانیہ میں یہ جرم مختلف شکلوں میں سامنے آتا ہے، جہاں مرد، عورتیں اور بچے منشیات یا جنسی تجارت، کار واش، نیل سیلون، نجی گھروں یا سماجی نگہداشت کے شعبے میں استحصال کا شکار ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی پڑھیں: یونان میں لاکھوں مظاہرین سڑکوں پرآگئے، معاملہ کیا ہے؟ برطانیہ کی آزاد انسداد غلامی کمشنر ایلینور لیونز نے کہا کہ حکومت کو جدید غلامی کے شکار افراد کی آواز سننے اور ایک مؤثر حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس جرم سے بہتر طریقے سے نمٹ سکیں۔ انسانی حقوق کے گروپ اینٹی سلیوری انٹرنیشنل کے مطابق، برطانیہ میں جدید غلامی میں رہنے والے افراد کی حقیقی تعداد تقریباً 130,000 ہے۔ این آر ایم کے مطابق، 23% متاثرین برطانوی شہری تھے، جبکہ 13% البانیہ اور 11% ویتنام سے تعلق رکھتے تھے۔ مزید برآں، تقریباً 6,000 ریفرلز بچوں کے تھے، جو کل تعداد کا 31% بنتے ہیں۔ خیراتی اداروں اور قانون سازوں نے برطانیہ پر زور دیا ہے کہ وہ جدید غلامی سے نمٹنے کے لیے مزدور قوانین کے سخت نفاذ کو یقینی بنائے اور امیگریشن پالیسی میں اصلاحات کرے۔ سخت امیگریشن پالیسیاں بہت سے متاثرین کو ملک بدری کے خوف سے خاموش رہنے پر مجبور کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے وہ مدد حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ حکومت نے این آر ایم میں کیسز پر تیزی سے کارروائی کرنے کے لیے مزید کیس ورکرز کی خدمات حاصل کرنے کا وعدہ کیا ہے، تاہم، 17,000 سے زائد افراد اب بھی اپنے کیسز کے دوسرے مرحلے کے فیصلے کے منتظر ہیں، جو اس مسئلے کی شدت کو اجاگر کرتا ہے۔

بینکنگ بحران یا تکنیکی ناکامی؟ یورپ میں لاکھوں لوگوں کی ادائیگیاں رک گئیں

یورپی مرکزی بینک (ای سی بی) کے ادائیگی کے نظام میں گزشتہ ہفتے پیدا ہونے والی بڑی تکنیکی خرابی کے باعث ہزاروں افراد کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس سے سرکاری شعبے کے ملازمین، پنشنرز اور فلاحی ادائیگی وصول کرنے والے افراد کی تنخواہوں میں تاخیر ہوئی۔ عالمی خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کی صبح پیش آیا، جب یورپی مرکزی بینک کا ‘ٹارگٹ پیمنٹ سسٹم’ ناکام ہوگیا، جو روزانہ کھربوں یوروز کی ٹرانزیکشنز کو سنبھالتا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں اس مسئلے کی وجہ ڈیٹا بیس کی خرابی کو قرار دیا گیا، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ اصل مسئلہ ایک ہارڈویئر جزو کی ناکامی تھی۔ 10 گھنٹوں تک جاری رہنے والی اس خرابی نے 15,000 سے زائد معمر اور کم آمدنی والے یونانی شہریوں کی فلاحی ادائیگیاں، آسٹریا میں متعدد سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، پنشنرز کی رقم اور کئی مالیاتی سودے معطل کر دیے۔ نظام کی خرابی دور کرنے کے لیے یورپی مرکزی بینک اور دیگر مالیاتی اداروں کے اہلکاروں کو رات بھر کام کرنا پڑا۔ یورپی مرکزی بینک نے اپنے ہنگامی ادائیگیوں کے نظام کو فعال کیا، لیکن یہ لاکھوں ٹرانزیکشنز کے دباؤ کو برداشت کرنے کے قابل نہیں تھا۔ مزید یہ کہ جمعے کے روز بھی یونان اور آسٹریا میں کئی افراد کو اپنی تنخواہیں اور پنشن وقت پر نہ مل سکیں، جب کہ مالیاتی منڈیوں میں بھی شدید غصہ پایا گیا۔   یورپی پارلیمنٹ کے ایک رکن مارکس فیبر نے اس بحران پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے روئٹرز کو بتایا کہ ہارڈویئر کی خرابی قابلِ معافی ہے، لیکن ایک ایسا بیک اپ سسٹم نہ ہونا جو فوری طور پر فعال ہو سکے، ناقابل قبول ہے۔ ای سی بی کو اس کی مکمل وضاحت دینی ہوگی۔ لندن میں قائم قانونی فرم اوسبورن کلارک کے پارٹنر پال ہیرس نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب کسی نجی بینک میں ایسی خرابی آتی ہے، تو ذمہ داری کا تعین فوراً کیا جاتا ہے، لیکن یہاں احتساب کا کوئی واضح نظام نظر نہیں آ رہا۔ بروکرز اور مالیاتی ادارے جو اس خرابی سے متاثر ہوئے، ECB سے معاوضے کے حصول کی تیاری کر رہے ہیں۔ ECB کے قوانین کے مطابق اگر بینک کے نظام کی ناکامی کے باعث مالی نقصان ہو، تو متاثرہ ادارے اور افراد معاوضے کے دعوے کر سکتے ہیں۔ یورپی مرکزی بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 2021، 2022 اور 2023 میں اس کا ٹارگٹ پیمنٹ سسٹم 100 فیصد فعال رہا تھا، جب کہ 2020 میں یہ شرح 99.46 فیصد رہی، جو کہ ہدف 99.7 فیصد سے کم تھی۔ مزید پڑھیں: ترکیہ کی یوکرین میں فوجی دستے بھیجنے کی تیاری: کیا عالمی امن کے لئے ایک نیا مرحلہ آ رہا ہے؟ دوسری جانب امریکی تھنک ٹینک بروکنگ انسٹی ٹیوٹ کے مالیاتی ماہر آرون کلین نے اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے روئٹرز سے کہا کہ ایک ایسا بینکاری نظام جو کبھی ناکام نہ ہو، شاید ممکن ہی نہ ہو۔ لیکن اگر اسے بالکل محفوظ بنانے کی کوشش کی جائے تو یہ اتنا مہنگا ہو سکتا ہے کہ چند گھنٹوں کی تاخیر کے نقصان سے زیادہ بڑا مسئلہ بن جائے۔ یورپی مرکزی بینک نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کر رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسی کسی خرابی سے بچا جا سکے۔ واضح رہے کہ اس واقعے نے بینکاری نظام میں موجود کئی کمزوریوں کو بے نقاب کیا ہے، جس سے کئی سوالات نے بھی جنم لیا ہے؟

لندن وہیل کی پچیسویں سال گرہ: جہاں سے 40 کلومیٹر دور دیکھ سکتے ہیں

لندن آئی آبزرویشن وہیل بدستور شہر کی نمایاں ترین پرکشش مقامات میں شامل ہے۔ بگ بین، سینٹ پال کیتھیڈرل اور بکنگھم پیلس کا فضائی نظارہ کرنے کے خواہشمند لاکھوں سیاحوں کے لیے لندن آئی ایک لازمی منزل بن چکا ہے۔ یہ آبزرویشن وہیل، جو زائرین کو شیشے کے پوڈ میں 30 منٹ کی سواری فراہم کرتا ہے، ابتدا میں صرف پانچ سال کے لیے نصب کیا گیا تھا۔ تاہم، اس کی بے پناہ مقبولیت کی وجہ سے اسے مستقل طور پر دریائے ٹیمز پر نصب کر دیا گیا۔ ایک صاف دن میں، سیاح وہیل پر سوار ہو کر 40 کلومیٹر دور تک کا نظارہ کر سکتے ہیں، یہاں تک کہ وہ شاہی خاندان کے 900 سالہ قدیم گھر ونڈسر کیسل کو بھی دیکھ سکتے ہیں۔ برطانوی عوام کے لیے لندن آئی کا ایک خاص مقام ہے، خاص طور پر نئے سال کی آتش بازی کے حوالے سے یہ ایک مرکزی مقام بن چکا ہے۔ یہ وہیل دراصل شوہر اور بیوی آرکیٹیکٹس، ڈیوڈ مارکس اور جولیا بارفیلڈ کا ایک تخلیقی منصوبہ تھا، جسے ہزار سالہ جشن کے موقع پر بنایا گیا۔ اس کی گول شکل کو زندگی کے چکر کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ بارفیلڈ کے مطابق، “ایک دائرے کی نہ کوئی ابتدا ہوتی ہے اور نہ کوئی انتہا۔ یہ وقت کے گزرنے کی علامت ہے۔” جب یہ وہیل کھلا تھا، تو لندن میں اونچائی سے شہر کا نظارہ کرنے کے بہت کم مواقع دستیاب تھے۔ لندن آئی کے بعد سے شہر کی اسکائی لائن میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ اب وہیل سے نظر آنے والی نئی فلک بوس عمارتوں میں 2004 میں کھلنے والی دی گیرکن، 2013 میں مکمل ہونے والی لندن کی سب سے بلند عمارت دی شارڈ اور 2014 میں تعمیر ہونے والی چیز گریٹر شامل ہیں۔ سالانہ تقریباً 3.5 ملین افراد لندن آئی پر سوار ہونے کے لیے 29 پاؤنڈ (تقریباً 37 امریکی ڈالر) فی ٹکٹ ادا کرتے ہیں۔ اس کی بے پناہ مقبولیت نے دنیا کے کئی شہروں میں اسی طرز کے آبزرویشن وہیلز بنانے کی تحریک دی، تاہم 135 میٹر بلند لندن آئی آج بھی دنیا کا سب سے بڑا کینٹیلیورڈ آبزرویشن وہیل ہے۔ یہ وہیل نہ صرف سیاحوں کے لیے ایک تفریحی مقام ہے بلکہ لندن کے ساؤتھ بینک کے ایک حصے کو دوبارہ متحرک کرنے کے مقصد سے بھی بنایا گیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کی سالانہ آمدنی کا 1% ارد گرد کے عوامی مقامات کی دیکھ بھال اور ترقی کے لیے خرچ کیا جاتا ہے، جس سے یہ نہ صرف ایک شاندار نظارے کا ذریعہ بلکہ شہر کی ثقافتی اور معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

بینک آف انگلینڈ کے گورنر کا امریکا کو تجارتی جنگوں کے بجائے بات چیت کا مشورہ

بینک آف انگلینڈ کے گورنر ‘اینڈریو بیلی’ نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ وہ عالمی معیشت کے بارے میں اپنے تحفظات کو تجارتی جنگوں کے ذریعے حل کرنے کی بجائے باہمی بات چیت کے ذریعے حل کرے۔ بیلی نے بدھ کے روز برطانوی قانون سازوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اس ہفتے جو درآمدی ٹیکسز عائد کیے گئے ہیں ان سے عالمی اقتصادیات پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ بیلی نے گروپ آف ٹوئنٹی (G20) کے مرکزی بینکوں کے سربراہان اور وزیر خزانہ کے اجلاس میں جنوبی افریقہ میں گزشتہ ہفتے اپنے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “اگر آپ کو لگتا ہے کہ عالمی معیشت میں توازن نہیں ہے تو اسے دوطرفہ اقدامات سے نہیں بلکہ کثیرالجہتی فورمز میں حل کیا جانا چاہیے۔” امریکی صدر نے منگل کے روز میکسیکو اور کینیڈا سے درآمدات پر 25 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا حکم دیا تھا جس کے ساتھ چین سے آنے والی مصنوعات پر بھی نئے ٹیرف لگا دیے گئے ہیں۔ اس فیصلے نے عالمی اقتصادی نمو کے بارے میں خدشات بڑھا دی ہیں جبکہ امریکی معیشت میں مہنگائی کے اضافے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بیلی نے چین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چین کا کرنٹ اکاؤنٹ بہت زیادہ مثبت ہے اور جرمنی جیسے بڑے مالیاتی سرپلس والے ممالک نے بھی حالیہ دنوں میں اپنے دفاعی اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے جو ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہیں۔ آخر میں بیلی نے امریکا کی معیشت کے بارے میں سوال اٹھایا کہ کیسے اس کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ رہا ہے اور اس کا مالیاتی خسارہ بہت زیادہ ہے جس کو بیرونی سرمایہ کے ذریعے پورا کیا جا رہا ہے۔ اس تمام تر صورتحال نے عالمی سطح پر اقتصادی توازن کے حوالے سے گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔ مزید پڑھیں: ’شکریہ پاکستان‘ دہشت گرد پکڑنے پر ٹرمپ خوشی سے نہال

لندن کی عدالت نے چینی طالبعلم کو 10 خواتین کے ساتھ زیادتی کرنے پر مجرم قرار دے دیا

لندن میں اندرونی کراؤن کورٹ نے بدھ کے روز ایک لرزہ خیز مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے چینی طالبعلم ‘ژنہاؤ زو’ کو 10 خواتین کو نشہ دے کر جنسی زیادتی کرنے کا مجرم قرار دے دیا۔ اس کے علاوہ عدالت نے مزید 28 سنگین جرائم میں مجرم کو قصوروار ٹھہرایا، جن میں 11 بار ریپ، جنسی زیادتی اور ویڈیوز بنانے کے الزامات شامل تھے۔ 28 سالہ زو کا بھیانک چہرہ اس وقت بے نقاب ہوا جب ایک متاثرہ خاتون نے بہادری سے پولیس کو رپورٹ درج کرائی۔ تفتیش کے دوران پولیس نے مجرم کے گھر سے نشہ آور دوائیں، خفیہ کیمرے اور خواتین کے زیورات اور کپڑے برآمد کیے۔ مجرم کے لیپ ٹاپ اور موبائل فونز سے سینکڑوں ویڈیوز اور لاکھوں پیغامات بھی برآمد ہوئے جن سے یہ ہولناک انکشاف ہوا کہ زو نہ صرف برطانیہ بلکہ چین میں بھی خواتین کو نشہ دے کر جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا رہا تھا۔ ژنہاؤ زو نے 2017 میں برطانیہ کا رخ کیا اور یونیورسٹی کالج لندن میں پی ایچ ڈی کے لیے داخلہ لیا۔ بظاہر ایک ہونہار طالبعلم نظر آنے والا یہ شخص دراصل خواتین کے لیے خطرناک درندہ ثابت ہوا۔ زو ڈیٹنگ ایپس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے خواتین سے رابطہ کرتا اور انہیں اپنے گھر پر پڑھائی یا ڈرنکس کے بہانے بلا کر نشہ آور چیزیں دے کر بیہوش کر دیتا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ زو نے تمام زیادتیوں کی ویڈیوز خفیہ طور پر ریکارڈ کیں اور متاثرہ خواتین کو کبھی ان کے حملے کا علم ہی نہیں ہوا۔ برطانوی پولیس کے مطابق یہ معاملہ اب بھی کہیں زیادہ سنگین ہو سکتا ہے۔ تفتیشی افسران کا ماننا ہے کہ زو کی درندگی کا نشانہ بننے والی 50 سے زائد خواتین اب بھی سامنے نہیں آئیں۔ پولیس نے خصوصا چینی طالبعلم کمیونٹی سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کو زو کے ساتھ رابطے کا علم ہو تو فوری طور پر رپورٹ کریں۔ پولیس کا کہنا تھا کہ “یہ شخص نہ صرف ایک سیریل ریپسٹ ہے بلکہ خواتین کے لیے مسلسل خطرہ ہے۔ ہم نے نامعلوم متاثرین کے لیے بھی انصاف یقینی بنانے کا عزم کیا ہے۔” برطانوی پولیس نے چینی حکام کے ساتھ مل کر تحقیقات کیں تاکہ زو کے چین میں کیے گئے جرائم کا بھی سراغ لگایا جا سکے۔ ژنہاؤ زو کی گرفتاری اور سزا نے خواتین کے تحفظ کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ متاثرہ خواتین کو انصاف دلانے کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے۔ یہ مقدمہ خواتین کی حفاظت اور ڈیٹنگ ایپس کے ذریعے پیش آنے والے خفیہ خطرات کے بارے میں ایک خوفناک انتباہ بن چکا ہے۔ مزید پڑھیں: فرانس کے صدر میکرون کا یوکرین اور تجارتی جنگوں پر قوم سے خطاب، اہم فیصلوں کی توقع

ٹرمپ کے اقتدار میں آنے سے امریکی شہری مستقل طور پر برطانیہ جانے کے خواہاں

گزشتہ سال ریکارڈ تعداد میں امریکی شہریوں نے برطانوی شہریت کے لیے درخواست دی، خاص طور پر 2024 کی آخری سہ ماہی میں، جب سب سے زیادہ درخواستیں جمع کرائی گئیں۔ یہ وقت سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ انتخاب کے قریب تھا، جس سے یہ خیال پیدا ہوا کہ سیاسی حالات اس کی ایک بڑی وجہ ہو سکتے ہیں۔ برطانیہ کے ہوم آفس کے مطابق، 2023 میں تقریباً 5,000 درخواستوں کے مقابلے میں 2024 میں 6,100 سے زائد امریکیوں نے برطانوی شہریت کے لیے درخواست دی۔ یہ 2004 کے بعد سے سب سے زیادہ تعداد ہے، جب سال بھر میں 3,000 سے بھی کم درخواستیں موصول ہوئیں۔ 2024 کے آخری تین مہینوں میں امریکیوں کی درخواستوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جب 1,700 سے زائد افراد نے برطانیہ کی شہریت کے لیے اپلائی کیا۔ یہ کسی بھی سہ ماہی میں سب سے زیادہ تعداد تھی، جو 2020 میں دیکھے گئے اضافے کی یاد دلاتی ہے، جب ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت اور ٹیکس پالیسی میں تبدیلیوں کے بعد، 5,800 سے زائد امریکیوں نے اپنی شہریت ترک کر دی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں کچھ لوگ سیاسی حالات اور ٹیکس پالیسیوں سے ناخوش ہو کر برطانیہ منتقل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 2020 میں، بامبرج اکاؤنٹنٹس کے ماہر الیسٹر بامبرج نے وضاحت کی تھی کہ کئی امریکی، خاص طور پر وہ جو پہلے ہی برطانیہ میں رہ رہے تھے، سیاسی ماحول اور مالی وجوہات کی بنا پر شہریت چھوڑنے کا فیصلہ کر رہے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ خود بھی برطانوی شہریت کے لیے درخواست دینے کے اہل ہو سکتے ہیں، کیونکہ ان کی والدہ، میری این میکلوڈ، اسکاٹ لینڈ میں پیدا ہوئی تھیں اور 17 سال کی عمر میں امریکہ منتقل ہوئی تھیں۔ جس طرح زیادہ امریکی برطانوی پاسپورٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اسی طرح کچھ برطانوی بھی دوسرے ممالک کی شہریت کی طرف رجحان رکھتے ہیں۔ 2016 میں بریگزٹ کے بعد، یورپی یونین میں آزادی سے رہنے اور کام کرنے کے لیے آئرش پاسپورٹ کے لیے درخواست دینے والے برطانوی شہریوں کی تعداد تقریباً دوگنا ہو گئی۔ اسی دوران، ٹرمپ کے دوبارہ انتخاب کی خبروں کے ساتھ دنیا بھر میں کئی امریکیوں نے مستقبل کے بارے میں خدشات ظاہر کیے۔ کچھ مقامات نے اسے ایک موقع سمجھا، جیسے اٹلی کے ایک گاؤں نے امریکی تارکین وطن کو متوجہ کرنے کے لیے ایک ویب سائٹ لانچ کی، جہاں سستے مکانات کی پیشکش کی گئی۔ اس ویب سائٹ نے امریکیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، “کیا آپ عالمی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں؟ کیا آپ زیادہ متوازن زندگی گزارنا چاہتے ہیں؟ سردینیا کی شاندار جنت میں اپنے یورپی فرار کی تعمیر شروع کریں۔”

برطانیہ میں شرح اموات ریکارڈ نچلی سطح پر پہنچ گئیں:رپورٹ

برطانیہ میں شرح اموات ریکارڈ نچلی ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، ماہرین کے مطابق 2024 میں شرح اموات 2019 کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ نئے اعدادو شمار کے مطابق برطانیہ کو کورونا وائرس آنے کے بعد سے دوبارہ معاشرتی طور پر مستحکم قرار دیا  جا رہا ہے۔ شرح اموات پر تحقیق برطانوی ادارے سی ایم آئی کی جانب سے عمل میں لائی گئی ہے، سی ایم آئی کے عہدیدار سٹورٹ میکڈونلڈ نے بتایا کہ شرح اموات میں کمی کے حوالے سے گزشتہ پانچ سالوں میں بہتری آئی ہے لیکن نوجونواں میں شرح اموات پہلے کی نسبت بڑی ہے جوکہ غور طلب بات ہے۔ سی ایم آئی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 1974 کے دوران برطانیہ میں اموات کی شرح دوہزار چودہ فی ایک لاکھ افراد تھی جوکہ 2011 میں ایک ہزار 85 افراد فی ایک لاکھ افراد تک پہنچ چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2024 میں فی ایک لاکھ افراد میں اموات کی اوسط کم ہو کر 989 افراد کی سطح پر آ گئی ہے۔ تھنک ٹینک ” دی کنگز فنڈ” کی عہدیدار ڈاکٹر وینا نے بتایا کہ شرح اموات میں کمی بہت حوصلہ افزا بات ہے، مریضوں اور بزرگ افراد کے معمولات زندگی میں کافی بہتری آئی ہے۔ برٹش ہارٹ فاونڈیشن میں میڈیکل آفیسر اور چیف سائنٹسٹ پروفیسر برائن ولیمز نے کہا کہ برطانیہ میں دل کی بیماریاں اموات کی بڑی وجہ بن رہی ہیں اور دل کی بیماریوں سے اموات زیادہ تر 70 برس کی عمر میں ہوتی ہیں۔