اپریل 5, 2025 12:58 صبح

English / Urdu

دھول اور آلودگی سے متاثر کراچی، ڈاکٹروں کے مطابق انفلوئینزا سے بچاؤکے لیے کیا احتیاطی تدابیر ضروری ہیں؟

کراچی میں سڑکوں کی کھدائی اور ترقیاتی کاموں کی وجہ سے شہر بھر میں اڑتی ہوئی دھول نے شہریوں کی صحت کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں نزلہ زکام اور انفلوئنزا وائرس کے کیسز میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ماہر امراض اطفال ڈاکٹر اظہر چغتائی کا کہنا ہے کہ شہر میں وائرس کی تعداد بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے، اور بچے بھی اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال سے بچاؤ کا واحد حل ماسک کا استعمال ہے، جس کی اہمیت پر ڈاکٹر اظہر نے اسکول انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ نزلہ زکام میں مبتلا بچوں کو کلاسوں میں ماسک پہننے کی اجازت دی جائے۔ ڈاکٹر سیف نے بھی موسمیاتی تبدیلیوں اور صفائی ستھرائی کی کمی کی وجہ سے ماسک کے استعمال کو لازمی قرار دیتے ہوئے والدین سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کا خاص خیال رکھیں ۔ کراچی میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکیں جہاں حادثات کا سبب بن رہی ہیں، وہیں یہ انفلوئنزا اور نزلہ زکام جیسے امراض کے پھیلاؤ کا بڑا ذریعہ بھی بن رہی ہیں، اور طبی ماہرین کے مطابق ان بیماریوں سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر جیسے ماسک کا استعمال ضروری ہے۔

موبائل فون کا لیب سے جیب تک کا سفر

 دنیا میں ٹیکنالوجی کے تیز رفتار سفر کا رخ مریخ، مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کی جانب ہے اور کئی ترقی یافتہ ممالک اس حوالے سے بڑی چھلانگیں لگا رہے ہیں۔  اسمارٹ فون کی ایجاد بھی ان ہی حیرت نگیز ایجادات میں سے ایک ہے جو کہ  دور حاضر میں ایک محو حیرت ٹیکنالوجی ہے۔ اب لوگ جس طرع اسمارٹ فون کو جیبوں میں ڈال کر اس کا استعمال کر رہے ہیں اس کی کہانی بہت مختلف ہے۔ اسمارٹ فون کی کہانی اس وقت شروع ہوئی جب گراہم بیل نے تاروں کے ذریعے اپنی آواز کو دوسری جانب پہنچایا ۔ موبائل کی اصطلاح 1876ء میں شروع  ہوئی اور اسی سال 10 مارچ کو پہلی کال کی گئی ۔ جس کے الفاظ تھے ’مسٹر واٹسن، میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں، یہاں آ جائیں۔‘ تاہم گراہم بیل کو اپنی آواز کے اسی طرح دوسری طرف پہنچ جانے کا زیادہ یقین نہیں تھا، مگر جب ان کے اسسٹنٹ تھامس واٹسن، جس تک آواز پہنچائی گئی  تھی ، آ کر وہی الفاظ دوہرائے تو گراہم بیل کے لیے بھی یہ بہت حیرت انگیز تھی، جس نے بعد میں اسمارٹ فون کی شکل اختیار کی۔ 1954ء میں امریکی انجینئر مارٹن کوپر نے مارٹرولا کمپنی کی شراکت سے بغیر تار سے موبائل فون بنانے کے لیے کام شروع کیا اور 1973ء میں  مارٹن کوپر نے پہلی دفعہ اپنی حریف کمپنی بیل کے ایک انجینئر کو کال کی اور کہا کہ میں مارٹن بول رہا ہوں اور ایک ایسے فون سے کال کر رہا ہوں جسے میں نے ہاتھ میں اٹھایا ہوا ہے اور دوسری جانب اس حیرت انگیز ایجاد کی وجہ سے خاموشی چھائی رہی۔  اپریل 1973 میں کُوپر اور ان کے ساتھیوں نے نیویارک کے ہِلٹن ہوٹل میں جس آلے کی نقاب کشائی کی تھی وہ شکل میں اس باریک سی ڈیوائس سے بہت مختلف تھا جو سٹار ٹریک کے کردار استعمال کرتے تھے اور نہ ہی یہ آلہ ڈِک ٹریسی کی گھڑی جیسا تھا اور نہ ہی اس موبائل جیسا تھا جس کی سکرین پر آپ اس وقت یہ مضمون پڑھ رہے ہیں۔ یہ ڈیوائس تقریباّ دو انچ چوڑی اور 4 انچ لمبی تھی اور اس کا وزن 500 گرام (آدھا کلو) کے قریب تھا، اور اس پر صرف 20 منٹ بات کر سکتے تھے جس کے بعد اس کی بیٹری ختم ہو جاتی تھی۔ لوگ اس آلے کو دیکھ کر ہنس رہے تھے، لیکن یہ اس وقت کے لیے بہترین ڈیوائس تھی۔ شروع میں اس فون کی قیمت 4 ہزار ڈالر تھی جو کہ عام آدمی کی پہنچ سے دور تھا اور اسے رہئسوں کی ملکیت سمجھا جاتا تھا آہستہ آہستہ موبائل فون بنانے والی کمپنیاں بنتی گئی اور ان کی قیمتوں میں کمی آتی گئی اور اب  ہر ایک کے ہاتھ میں سمارٹ فون نظر آئے گا ۔  1992ء سے پہلے بہت سی کمپنیوں نے موبائل فون متعارف کرا دیے تھے لیکن ان میں کال اور میسجز کے علاوہ کوئی فیچر نہیں تھا 1992ء میں  سائمن  پرسنل کمیونکیٹر  متعارف کرایا گیا جسے دنیا کا پہلا سمارٹ فون سمجھا جاتا ہے جس میں کال اور میسجز کے علاوہ فیکس، ای میل، کیلنڈر اور ایڈرس جیسی خصوصیات بھی تھی۔  اس کے ساتھ ساتھ اس میں ایک چھوٹی  سی ٹچ سکرین بھی تھی جو کہ اس وقت کا انقلابی تصور سمجھا گیا۔ 2000ء کے بعد موبائل فون کی ٹیکنالوجی میں کچھ بڑی تبدیلیاں آئی، پالم اور بلیک بیری جیسی کمپنیوں نے موبائل فون متعارف کرائے ، جس میں ای میل، کیلنڈر کے ساتھ دیگر بزنس کے فیچرز بھی شامل تھے۔  2007ء میں آئی فون نے دنیا کا پہلا حقیقی سمارٹ فون متعارف کرایا ، آئی فون نے نہ صرف برؤزنگ ، ای میل، اور ٹچ سکرین کا متعارف کرایا بلکہ اس نے ایپ سٹؤر کا آغاز کیا ، جس کی بدولت ایپلی کیشن کو ڈاؤنلڈ کرنا اور استعمال کرنا ممکن تھا۔آئی فون کا یہ ماڈل فون دنیا میں ایک مکمل انقلاب تھا کیونکہ اس میں ٹچ سکرین استعمال کی جاتی تھی اور کی بورڈ کی بجائے آسانی سے ہارڈوئیر ٹچ سے استعمال کیا جانے لگا۔ آئی فون کے بعد دیگر کمپنیوں نے بھی  سمارٹ فونز کی ترقی کی طرف قدم بڑھائے ۔ سمسنگ ، نوکیا، مائکرو سوفٹ، اور گوگل نے بھی سمارٹ فون کی مارکیٹ میں قدم رکھے ۔ 2008 میں گوگل نے اینڈرائڈ آپریٹنگ سسٹم متعارف کرایا جو ایپل کے آئی او ایس کے مقابلے میں ایک مفت اور اوپن آپریٹنگ سسٹم تھا۔  سمارٹ فون کا دور 2000ء کے بعد شروع ہوا ، خاص طور پر 2007ء آئی فون کی آمد کے بعد۔  ان موبائل فون میں بہت سارے جدید فیچرز نے ان ٹیکنالوجی کا لوگوں کو محتاج بنا دیا ہے۔ ان فیچرز کی بنیاد پر آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھ کر اپنے پیاروں کے ساتھ رابطے میں رہ سکتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ دکھ بانٹ سکتے ہیں ۔

تارکین وطن سےبھرے امریکی فوجی جہاز کو میکسیکو میں لینڈنگ کی اجازت کیوں نہ مل سکی؟

امریکہ کی طرف سےتارکین وطن کے خلاف مہم جارہی ہے، اس مہم کے تحت امریکہ تارکین وطن سے بھرا فوجی طیارے کو میکسیکو میں لینڈ کرانے کی کوشش نکام ہوگئی، میکسیکو کی طرف سے لینڈنگ کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے امریکہ اپنا فوجہ طیارہ لینڈ نہ کر سکا۔  عالمی خبر ارساں ادارہ رائٹرز کے مطابق  میکسیکو نے امریکی صدر ڈاؤنلڈٹرمپ کی انتظامیہ کی طرف سے تارکین وطن کو ملک بدر کرنے والے امریکی فوجی طیارے کو ملک میں اترنے کی اجازت دینے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ امریکی فوجی طیاروں نے جمعے کے روز گوئٹے مالا کے لیے دو ایسی ہی پروازیں کیں، جن میں سے ہر ایک میں تقریباً 80 تارکین وطن سوار تھے۔ حکومت میکسیکو میں C-17 ٹرانسپورٹ طیارے کی لینڈنگ کے منصوبے کے ساتھ آگے بڑھنے کے قابل نہیں تھی، تاہم میکسیکو کی طرف سے لینڈینگ کی اجازت نہ دی گئی۔ میکسیکو کے وزارت خارجہ جوآن رامون ڈی لا فوینٹے رامیریز نے جمعہ کو دیر گئے ایک بیان میں کہا کہ میکسیکو کے امریکہ کے ساتھ “بہت اچھے تعلقات” ہیں اور امیگریشن جیسے مسائل پر تعاون کرتے ہیں۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ  “جب وطن واپسی کی بات آتی ہے، تو ہم ہمیشہ کھلے ہتھیاروں کے ساتھ اپنے علاقے میں میکسیکو کے باشندوں کی آمد کو قبول کریں گے۔” ٹرمپ کی انتظامیہ نے اس ہفتے کے شروع میں اعلان کیا تھا کہ وہ “ریمین ان میکسیکو” کے نام سے جانے والے پروگرام کو دوبارہ شروع کر رہے ہیں، جس کے مطابق میکسیکو کے بارڈر سے آنے والے تارکین وطن اس وقت امریکہ میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک ان کے ڈاکومنٹ مکمل چیک نہیں ہو جاتے اور ان کے مقدمات حل نہیں ہو جاتے۔ میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام نے بدھ کے روز کہا کہ اس طرح کے اقدام کے لیے سیاسی پناہ کے متلاشی ملک کو رضامندی کی ضرورت ہوگی اور میکسیکو نے ایسا نہیں کیا۔ واضح رہے کہ امریکہ اور میکسیکو کے تعلقات اس وقت سے تیزی سے توجہ میں آگئے ہیں جب سے ٹرمپ نے پیر کو اپنی دوسری مدت ملازمت کا آغاز دونوں ممالک کی مشترکہ سرحد پر قومی ایمرجنسی کے اعلان کے ساتھ کیا۔ اس نے اب تک 1,500 اضافی امریکی فوجیوں کو میکسیکو بارڈر پر بھیجنے کا حکم دیا ہے، اور حکام نے کہا ہے کہ مزید ہزاروں فوجی جلد ہی تعینات کیے جا سکتے ہیں۔ امریکی  صدر ڈاؤنلڈ ٹرمپ   نے میکسیکو کے منشیات کے کارٹلز کو دہشت گرد تنظیموں کا اعلان کیا ہے،خلیج میکسیکو کا نام بدل کر خلیج امریکہ رکھ دیا ہے اور فروری سے میکسیکو کے سامان پر 25 فیصد ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی ہے۔ میکسکو کی صدر شین بام نے صورتحال کو مزید بگڑنے سے گریز کرنے کی کوشش کی ہے اور واپس آنے والے میکسیکن شہریوں کی رہائش کے لیے کھلے پن کا اظہار کیا ہے۔لیکن بائیں بازو کی رہنما نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر ملک بدری سے متفق نہیں ہیں اور میکسیکو کے تارکین وطن امریکی معیشت کے لیے اہم ہیں۔ ملک بدری کی پروازوں کے لیے امریکی فوجی طیاروں کا استعمال پیر کو ٹرمپ کے قومی ہنگامی اعلان پر پینٹاگون کے ردعمل کا حصہ ہے۔ عالمی خبر ارساں ادارہ رائٹرز کے مطابق امریکی فوجی طیارے افراد کو ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل کرنے کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں، جس مٰن ایک مثال افغانستان میں طالبان جنگ کی ہے ۔ ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ حالیہ یادوں میں یہ پہلا موقع تھا جب تارکین وطن کو ملک سے باہر لے جانے کے لیے امریکی فوجی طیارے استعمال کیے گئے۔ پینٹاگون نے کہا ہے کہ امریکی فوج ایل پاسو، ٹیکساس اور سان ڈیاگو، کیلیفورنیا میں امریکی حکام کے زیر حراست 5000 سے زائد تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کے لیے پروازیں فراہم کرے گی۔ خیال رہے کہ 20 جنوری کو حلف برداری تقریب کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سلسلہ وار ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کیے تھے ، جن میں ایک کا مقصد امریکی عوام کو غیر قانونی مداخلت سے تحفظ دیناتھا۔ اس آرڈر میں کہا گیا کہ پچھلے چار سالوں کے دوران امریکہ کو غیر قانونی تارکین وطن کے سیلاب کا سامنا کرنا پڑا جن میں سے لاکھوں افراد امریکی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سرحد پار کر کے یا تجارتی پروازوں کے ذریعے امریکہ میں داخل ہوئے۔

آئی سی سی نے مینز ٹی 20 ٹیم آف دی ایئر کا اعلان کردیا، ایک پاکستانی بھی شامل

ICC-Team-of-the-year

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے مینز ٹی 20 ٹیم آف دی ایئر کا اعلان کر دیا گیا جس میں شامل واحد پاکستانی کھلاڑی دنیائے کرکٹ میں الگ پہچان رکھتا ہے۔ آئی سی سی کی جانب سے میچ وننگ کارکردگی سے دنیا کو متاثر کرنے والے کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کیا گیا، ان کھلاڑیوں نے 2024 کو مختصر فارمیٹ کی کرکٹ کا ایک یادگار سال بنایا۔ آئی سی سی ٹیم آف دی ایئر میں شامل کھلاڑیوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں جنہوں نے گزشتہ سال ٹی 20 بین الاقوامی کرکٹ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ روہت شرما (بھارت) بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان روہت شرما نے گزشتہ سال11 میچز میں 378 رنز بنائے،ان کا سب سے بڑاسکور 121 تھا،  42کی اوسط کے ساتھ 160.16 کے اسٹرائیک ریٹ سے شرما نے ایک سینچری بھی سکور کی۔ روہت شرما کے لیے 2024 ایک تاریخی سال رہا کیونکہ انہوں نے انڈیا کو ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے بعد ٹی 20 ورلڈ کپ ٹائٹل دلایا۔ ٹریوس ہیڈ (آسٹریلیا) بائیں ہاتھ کے آسٹریلوی بلے باز ٹریوس ہیڈ نے 2024 میں کل15 میچز کھیلے، انہوں نے38.50  اوسط اور 178.47 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ چار نصف سنچریاں کرتے ہوئے کل 539 رنز سکور کیے۔ ان کا سب سے بڑا انفرادی سکور 80 تھا۔ ان کے کام نے آئی سی سی مینز ٹی 20 آئی رینکنگ میں پریمیئر رینکنگ بلے باز کے طور پر ان کا نام حاصل کیا اور وہ آئی سی سی ٹی 20 کرکٹر آف دی ایئر کے لئے نامزد بھی ہیں۔ فل سالٹ (انگلینڈ) دائیں ہاتھ کے جارح مزاج انگلش بلے باز فل سالٹ نے 17 میچز کھیل کر 467 رنز کیے، 103 ان کا سب سے زیادہ اسکور تھا، 38.91 اوسط اور 164.43 اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ ساتھ انہوں نے ایک سینچری بھی کی۔ سالٹ کی متحرک بیٹنگ 2024 میں انگلینڈ کے لئے ایک اہم اثاثہ تھی ، کیونکہ انہوں نے خود کو ٹی 20 آئی لائن اپ کے ایک اہم جزو کے طور پر قائم کیا۔  دائیں ہاتھ کے بلے باز نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹی 20 ورلڈ کپ میں ناقابل شکست 87 رنز بنائے تھے اور بعد میں انہوں نے نومبر میں ان کے خلاف دو طرفہ سیریز میں 103* رنز بنائے تھے۔ بابر اعظم (پاکستان) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سپر اسٹار بلے باز اور سابق کپتان بابر اعظم بھی اس ٹیم میں شامل ہیں انہوں نے گزشتہ سال کے دوران 24 میچز کھیل کر 738 رنز سکور کیے، 75 ان کا سب سے بڑا انفرادی اسکور رہا، انہوں نے 33.54 کی اوسط کے ساتھ رنز بنائے اور 6 نصف سنچریاں بھی اسکور کی۔ اپنے شاندار اسٹروک پلے اور بے مثال مستقل مزاجی کی وجہ سے مشہور بابر اعظم نے ایک بار پھر پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ میں استحکام کو یقینی بنایا۔ دائیں ہاتھ کے بلے باز نے اپنے سال کا آغاز شاندار انداز میں کیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف مسلسل تین نصف سنچریاں اسکور کیں۔ بابر نے دباؤ میں بھی کارکردگی دکھانے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا، تمام فارمیٹس میں ان کی مستقل مزاجی نے بین الاقوامی کرکٹ کے بہترین کھلاڑیوں میں سے ایک کے طور پر ان کی حیثیت کی توثیق کی جس سے وہ بلے بازوں کی آئی سی سی مینز ٹی 20 رینکنگ میں چھٹے نمبر پر آگئے۔ نکولس پورن (ویسٹ انڈیز) ویسٹ انڈیز کے وکٹ کیپر بلے باز نکولس پورن نے گزشتہ سال کل 21 میچز کھیلے۔ انہوں نے 25.77 اوسط اور 142.33 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ کل 464 رنز اسکور کیے، 98 ان کا سب سے بڑا اسکور رہا، انہوں نے 2 نصف سنچریاں بھی کیں۔ نکولس پورن نے 2024 میں ویسٹ انڈیز کے لئے اپنی جارحانہ بیٹنگ اور مستقل وکٹ کیپنگ کی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 21 میچوں میں 464 رنز بنائے۔ پورن اکثر فنیشر کا کردار ادا کرتے تھے۔ ان سب کے علاوہ آئی سی سی مینز ٹیم آف دی ایئر میں زمبابوے کے آل راؤنڈر سکندر رضا بٹ، انڈین آل راؤنڈر ہارڈک پانڈیا، افغان آل راؤنڈر راشد خان، سری لنکن سپنر ونندو ہسارنگا، انڈین فاسٹ باؤلرز جسپریت بمرا اور ارشدیپ سنگھ بھی شامل ہیں۔

“عدلیہ کی آزادی کے خلاف کوئی ترمیم نہیں کی جا سکتی” 26ویں آئینی ترمیم سپریم کورٹ میں چیلنج

پاکستان تحریک انصاف نے 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی آئین کا بنیادی جزو ہے۔ عدلیہ کی آزادی کے خلاف کوئی ترمیم نہیں کی جا سکتی۔ آئینی ترمیم اختیارات کی تقسیم کے آئینی اصول کے خلاف ہے۔ پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں 26 آئینی ترمیم کوچیلنج کرتے ہوئے درخواست دائر کی ہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دیاجائے اور اس درخواست میں آئینی ترمیم پر فیصلے تک قائم جوڈیشل کمیشن کو ججز تعیناتی سے روکنے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے تحت ہونے والے تمام اقدامات کالعدم قرار دیے جائیں۔ پارلیمنٹ آئین کے بنیادی خدوخال کو تبدیل نہیں کر سکتی ۔ پی ٹی آئی کی طرف سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی آئین کا بنیادی جزو ہے۔ عدلیہ کی آزادی کے خلاف کوئی ترمیم نہیں کی جا سکتی۔ آئینی ترمیم اختیارات کی تقسیم کے آئینی اصول کے خلاف ہے۔ نجی ٹی وی ڈان نیوز کے مطابق اس سے قبل جماعت اسلامی اور اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی 26ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کررکھا ہے جبکہ سابق وزیر اعظم اور عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ شاہد خاقان عباسی نے بھی 26ویں ترمیم کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ  کا 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے کہنا ہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم کو پارلیمنٹ ہی ختم کرے گی اور عدلیہ کی آزادی بحال ہوگی، انھوں نے کہا کہ  ملی یکجتی کونسل کا مرکزی وفد 27 جنوری کو کرم صورتحال پر وزیراعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈاپور سے اسلام آباد میں ملاقات کرے گا۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل میں وفاق صوبوں کے اعتراض دور کرے، انسانی سمگلنگ کا قلع قمع ہونا چاہیے، مزدور دشمن اقدامات پر اتحادی حکومت ایک پیج پر ہے۔ انھوں نے مزید کہا  کہ ایک سال بعد پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین کا انتخاب اچھا اقدام ہے، سینیٹر اعجاز چودھری کے پروڈکشن آرڈرز پر عمل نہ کرنے پر چیئرمین سینیٹ کا اقدام اچھا ہے۔ دوسری جانب  پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کو کالعدم کرنے کا اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے، اگر اس ترمیم کو کالعدم کرنے کی کوشش کی گئی تو کوئی دوسرا ادارہ تسلیم نہیں کیا جائے گا۔۔ چئیرمین پاکستان پیپلز پارٹی نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کا بنچ ہو یا آئینی بنچ، سب کو آئین اور قانون کا احترام کرنا چاہیے۔ ترمیم کا کوئی بھی رول بیک صرف پارلیمنٹ کو کرنا چاہیے، نہ تو پیپلز پارٹی اور نہ ہی کوئی اور کسی ادارے کی جانب سے تبدیلیوں کو کالعدم کرنے کی کوشش کو قبول کرے گا۔ اکتوبر 2024 میں منظور ہونے والی اس ترمیم نے عدالتی تقرری کے عمل میں، خاص طور پر آرٹیکل175-A میں اہم تبدیلیاں متعارف کروائیں، ان تبدیلیوں میں سے خاص طور پر  چیف جسٹس آف پاکستان کے انتخاب کے طریقہ کار کو تبدیل کیا گیا۔ یاد رہے کہ 26ویں آئینی ترمیمی بل کا مسودہ 20 اکتوبر کو سینیٹ سے دو تہائی اکثریت سے منظور کیا گیا، جس کے بعد اس بل کو 21 اکتوبر کی علی الصبح قومی اسمبلی سے بھی دو تہائی اکثریت منظورکیا گیا تھا۔ 26ویں آئینی ترمیمی بل دراصل قانون سازی ہے جس کا مقصد سپریم کورٹ کے ازخود(سوموٹو) اختیارات لینا ، چیف جسٹس آف پاکستان کی مدت ملازمت تین سال مقرر کرنا اور اگلے چیف جسٹس کی تعیناتی کا اختیار وزیر اعظم کو دینا ہے۔ واضح رہے کہ 26ویں آئینی ترمیم نے اہم بحث چھیڑ دی ہے، سپریم کورٹ کا ایک آئینی بنچ 27 جنوری کو اس کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرے گا۔

صدر مملکت نے درجنوں حجاج کرام کی زندگیاں بچانے والے پاکستانی شہری کو سول ایوارڈ سے نواز دیا

Asif-bashir-recieve-sitar-e-imtiaz

صدر مملکت آصف علی زرداری نے گزشتہ سال شدید گرمی کی وجہ سے بے ہوش ہونے والے متعدد عازمین حج کی زندگیاں بچانے والے پاکستانی حج اسسٹنٹ آصف بشیر کو ملک کے تیسرے سب سے بڑے سول ایوارڈ سے نوازدیا۔ بشیر ان 550 پاکستانی حج معتین (معاونین) میں شامل تھے جنہیں حکومت نے پاکستانی عازمین کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے بھرتی کیا تھا۔ تاہم وہ دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے زائرین کو بھی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ بشیر اپنی پانچ رکنی ٹیم کے ساتھ کئی زائرین کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے پہنچے کیونکہ وہ گزشتہ سال درجہ حرارت 51 ڈگری سے اوپر جانے کے دوران زمین پر بے ہوش ہو گئے تھے۔ وہ 26 لوگوں کو اسپتال لے جانے میں کامیاب رہے، جن میں سے زیادہ تر ہندوستانی تھے۔ ان میں سے 9 جاں بحق ہو گئے جبکہ 17 زندہ بچ گئے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے آصف بشیر کو عوامی خدمات کے اعتراف میں جمعہ کے روز ستارہ امتیاز ایوارڈ سے نواز دیا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق آصف علی زرداری نے ایوان صدر میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران یہ ایوارڈ دیا جس میں اراکین پارلیمنٹ نے شرکت کی۔ بشیر اور ان کی ٹیم زائرین کو پانی اور او آر ایس (اورل ری ہائیڈریشن سلوشن) دے کر بچانے میں کامیاب رہی اور جن لوگوں کو طبی امداد کی ضرورت تھی انہیں قریبی اسپتال منتقل کیا جو ان کی چیک پوسٹ سے تقریبا 5-6 کلومیٹر دور تھا۔ بشیر جن 17 لوگوں کو بچانے میں کامیاب ہوئے ان میں سے 15 ہندوستانی تھے، ایک برطانوی اور ایک کینیڈین شہری تھا۔ بشیر کی کوششوں کے اعتراف میں بھارتی وزیر برائے پارلیمانی اور اقلیتی امور کرن رجو نے انہیں شکریہ کا خط بھی لکھا تھا۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال حج کے دوران سعودی عرب میں درجہ حرارت 50 ڈگری سے بھی اوپر جانے کے باعث متعدد زائرین کی حالت خراب ہوئی اور بہت سے حجاج کرام جانبر نہ ہو سکے۔

رات کی بجائے دن کے وقت شادیوں کی تقیربات کیوں مقبول رہی ہیں؟

wedding-couple-hands

ایک وقت تھا جب تمام سماجی و اقتصادی پس منظر کے لوگ اپنے بچوں کی شادیوں پر خرچ کرنے کے لئے سالوں تک پیسے بچاتے تھے اور رات کے وقت تقریبات کو ترجیح دی جاتی تھی۔ تاہم اب یہ رحجان بدل رہا ہے اور رات کی بجائے والدین دن میں تقریبات کرنے کو ترجیح دینے لگ پڑے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ ملک میں معاشی تنزلی کی حالیہ لہر اور بدلتی ہوئی ذہنیت نے بہت سے والدین کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی شادیوں کو رات کے وقت کی تقریبات کرنے کے بجائے دن کی تقریبات کو ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ دن کی تقریبات کے انتظامات پر رقم کم خرچ ہوتی، بچ جانے والی رقم شادی کے دیگر اخراجات کے لیے استعمال میں لائی جا سکتی ہے۔ کراچی کے علاقے پاپوش نگر سے تعلق رکھنے والی ایک والدہ علیمہ شہزاد نے اپنی بیٹی کی شادی کی تقریب کا تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ‘جب میری بیٹی کی شادی ہو رہی تھی تو ہم نے دولہے کے گھر والوں کے ساتھ باہمی رضامندی سے اتفاق کیا تھا کہ ہم دن کے وقت ایک ہی مناسب تقریبات کریں گے، جس پر ہمیں رات کے وقت کی تقریب سے بہت کم خرچ کرنا پڑے گا۔ اس دوستانہ معاہدے نے نہ صرف ہمیں عام مالی بوجھ سے نجات دلائی بلکہ اس نے دوسرے خاندانوں کے لئے بھی راہ ہموار کی جو اپنے بچوں کی شادی کے زیادہ عملی طریقوں پر غور کر رہے تھے”۔ اسی طرح کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ سے تعلق رکھنے والے ویلڈنگ کے شعبے سے منسلک وقاص انور نامی نوجوان نے بھی دن کے وقت ایک سادہ سے تقریب کے ذریعے شادی کی۔ اپنی شادی کی تقریب سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وقاص نے بتایا کہ “اپنی شادی کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے میں نے ایسے آپشنز کی تلاش شروع کی جس سے مجھے اپنے خاندان پر کم سے کم مالی دباؤ کے ساتھ شادی کرنے کی اجازت ملے۔ خوش قسمتی سے ایک دن کی شادی سے میں اس میں کامیاب ہوا”۔ وقاص نے خوشی کا اظہار کیا جنہوں نے اپنی شادی کے استقبالیہ پر اڑھائی لاکھ روپے خرچ کیے جس میں مجموعی طور پر 250 مہمانوں نے شرکت کی۔ میچ میکنگ ایجنسی کے مالک ضیا قریشی کے مطابق موجودہ دور میں شادیوں میں تحمل کا مظاہرہ انتہائی اہم تھا، جہاں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی عدم استحکام نے زیادہ تر خاندانوں کے لیے پرتعیش شادیوں کو ناقابل برداشت بنا دیا تھا۔ “شام کو ہونے والی شادی کی تقریبات کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بہت سے والدین کو دن کے وقت آسان، کم خرچ شادیوں پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اگرچہ ثقافتی باریکیاں پہلے شادی کی تقریب کے لئے منتخب کردہ دن کے وقت کا تعین کرتی تھیں، لیکن آج کل زیادہ تر لوگ دن کی تقریبات کے لئے جارہے ہیں کیونکہ وہ میزبانی کرنے کے لئے نسبتا سستے ہیں”۔ شادی ہال کے مالک اور فیڈرل بی ایریا سے تعلق رکھنے والے ایونٹ آرگنائزر عمران سلیم نے قریشی نے مشاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے شادی کے مقامات پر دن اور رات کی تقریبات کے درمیان قیمتوں کے فرق پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ “اہم استقبالیہ تقریبات کے لئے دن کے چارجز عام طور پر ایک ہی دن کے لئے رات کے نرخوں کے مقابلے میں 40 سے 50 فیصد کم ہوتے ہیں۔ اسی طرح شادی سے قبل کی تقریبات جیسے مایوں، مہندی اور بارات کی میزبانی رات کے وقت ہونے والی تقریبات کے مقابلے میں 50 سے 60 فیصد کم خرچ ہوگی، دن کی تقریبات نے خاندانوں کو سادہ مینو کا انتخاب کرکے اعتدال کا مظاہرہ کرنے کی اجازت دی جس میں صرف بنیادی پکوان شامل تھے”۔ اسلام واضح طور پر تمام مسلمانوں کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ شادی کی تقریبات کے انعقاد سمیت تمام معاملات میں اعتدال کو برقرار رکھیں۔ لیاقت آباد کی ایک مقامی مسجد کے مبلغ مولانا محمد تنویر نے کہا کہ “غیر متعلقہ رسومات اور تقریبات پر بھاری رقوم خرچ کرنے سے خاندان شدید مالی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں جو کہ اسلام کے احکامات کے بالکل خلاف ہے”۔ اسی طرح نارتھ ناظم آباد سے تعلق رکھنے والی میچ میکر زہرہ سلیم نے اس بات پر زور دیا کہ “شادی کی رسومات پر زیادہ اخراجات نے خاندانوں پر اس حد تک بوجھ ڈال دیا ہے کہ وسائل کی کمی کی وجہ سے خاندان کے اندر بعد کی شادیوں کو تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تمام سماجی طبقات کو شادیوں میں شائستگی کو اپنانا چاہئے اور فضول خرچی پر سادگی کو ترجیح دینی چاہئے”۔ زہرہ نے کا مزید کہنا ہے کہ “اگرچہ معاشرے کا صرف ایک چھوٹا سا طبقہ اس وقت سادہ شادیوں کی میزبانی کر رہا ہے، لیکن یہ اب بھی فضول خرچی سے دور ایک مثبت تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے”۔ دن کے وقت شادیوں کی تقریبات کا رجحان بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی دباؤ کے پیش نظر ایک مثبت تبدیلی ہے۔ والدین اور نوجوان سادگی اور اعتدال کو اپناتے ہوئے شادیوں کے اخراجات کم کر رہے ہیں جو نہ صرف اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے بلکہ خاندانوں کو مالی پریشانیوں سے بھی بچاتا ہے۔ یہ رجحان نہ صرف وسائل کی بچت کو فروغ دیتا ہے بلکہ معاشرتی مسائل کو کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ سادگی سے کی جانے والی شادیوں کا یہ بڑھتا ہوا رجحان ہمارے معاشرتی رویوں میں مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔

خیبر: سیکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن،4 خوارج ہلاک

دہشت گردی کوختم کرنےکے لیے پاک فوج نے خوارجوں کے خلاف کامیاب آپریشن کر کے خوارج کے سرگنہ عزیز الرحمن ، قاری اسماعیل اور مخلص سمیت 4 خوارجوں کو جہنم واصل کیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکورٹی فورسز نے خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر ضلع خیبر کے جنرل علاقے باغ میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کیا،جس کے دوران اپنے ہی دستوں نے خوارج کے مقام کو موثر طریقے سے گھیر لیا، جس کے نتیجے میں خوارج کے سرغنہ عزیز الرحمان ، قاری اسماعیل اور مخلص سمیت چار خوارج جہنم واصل ہوئے، جب کہ دو خوارج زخمی ہوگئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق مارے گئے خوارج کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا، خوارج اسی اسلحہ اور بارود کو  علاقے میں سیکیورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کے ساتھ ساتھ معصوم شہریوں کے قتل میں استعمال کر رہےتھے۔  ترجمان پاک فوج کے مطابق علاقے میں پائے جانے والے کسی اور خارجی کو ختم کرنے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن کیا جا رہا ہے کیونکہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔  یاد رہے کہ رواں ماہ 17جنوری کو سیکیورٹی فورسز نے خیبر ضلع کے علاقے تیراہ میں خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر خفیہ معلومات کی بنیاد پر ایک آپریشن کیا، جس کے دوران سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 5خوارج مارے گئے۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق  اس آپریشن میں ہلاک ہونےو الوں میں خوارج کا سرغنہ عابداللہ المعروف’’ تراب ‘‘ بھی شامل تھا، جبکہ ایک خوارج کو گرفتار کیا گیا اور آپریشن کے دوران خوارج سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ۔ نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق رواں ماہ سکیورٹی فورسز نے 12 اور 13 جنوری کوخیبرپختونخوا میں 2 کارروائیاں کیں جن میں 8 خوارج کو جہنم واصل کیا گیا۔ آئی ایس پی آر نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے ضلع ٹانک میں خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، اس دوران خوارج کے ٹھکانےکو مؤثر طریقے سے تلاش کیا گیا جب کہ اس آپریشن میں 6 خوارج مارے گئے۔

!کراچی کا جادوئی اسپرے، چند سیکنڈذ میں بلیڈنگ کو روک کر بیکٹیریا کا خاتمہ کرے

کراچی کے ایک باصلاحیت طالب علم نے بایئو ریف نامی ایک نیا اسپرے تیار کیا ہے، جو شریم شیل  سے حاصل ہونے والے قدرتی اجزاء پر مبنی ہے۔ یہ اسپرے بلیڈنگ کو صرف چند سیکنڈز میں روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ساتھ ہی بیکٹیریا کو مؤثر طریقے سے ختم کرتا ہے۔ اس پراڈکٹ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ قدرتی اجزاء سے تیار کی گئی ہے، بایئو ریف اسپرے کا کلینکل ٹیسٹ ابھی جاری ہے، اور اس کے کامیاب نتائج کے بعد اسے مارکیٹ میں متعارف کرایا جائے گا۔ طالب علم کا مقصد اس پراڈکٹ کو پاکستان کے ساتھ ساتھ بیرون ملک بھی ایکسپورٹ کرنا ہے تاکہ اس کے فوائد عالمی سطح پر لوگوں تک پہنچ سکیں۔ بایئو ریف کی تیاری میں جدید سائنسی تحقیق اور قدرتی اجزاء کا بہترین امتزاج کیا گیا ہے، جس سے اس کی تاثیر اور فائدہ دونوں کو یقینی بنایا گیا ہے۔ یہ اسپرے خاص طور پر زخمی ہونے یا چوٹ لگنے کی صورت میں استعمال کیا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ فوری طور پر بلیڈنگ روکنے اور بیکٹیریا کی افزائش کو روکتے ہوئے انفیکشن سے بچاؤ فراہم کرتا ہے۔ بایئو ریف کا یہ سائنسی حل صحت کے میدان میں اہم پیشرفت ہو سکتا ہے اور عالمی سطح پر طبی مصنوعات کی فہرست میں ایک نیا مقام حاصل کر سکتا ہے۔

باؤلرز کی عید اور بیٹرز کا قبرستان، ملتان ٹیسٹ کا پہلا روز ختم

Pak-vs-WI-2nd-test-day-1

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی مابین جاری 2 ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے آخری میچ کے پہلے روز گیند بازوں کی عید ہو گئی۔ ملتان میں جاری سیریز دوسرے ٹیسٹ میچ کے پہلے روز کے کھیل کے اختتام پر مہمان ویسٹ انڈیز نے عمدہ گیند بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کو بیک فٹ پر دھکیل دیا۔ پاکستانی ٹیم نے پہلی اننگز میں ویسٹ انڈیز کو 163 رنز پر آل آؤٹ تو کر لیا لیکن خود بھی 154 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ پاکستان کی جانب وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان 49 رنز کے ساتھ نمایاں بلے باز رہے۔ ان کے علاوہ کوئی بھی بلے باز کالی آندھی کے خلاف جم کر کھیل نہ سکا۔ ایک کے بعد ایک گرتی وکٹ نے پاکستانی بلے بازوں کی ناک میں دم کر کے رکھا۔ 22 کے مجموعی سکور پر پہلی وکٹ گری تو 25 کے مجموعی سکور پر مزید 2 وکٹیں گر گئی جس کے بعد پاکستانی بلے باز سمبھل نہ پائے۔ کامران غلام اور سعود شکیل نے تھوڑی مزاحمت کا مظاہرہ کیا لیکن وہ بھی ویسٹ انڈیز کی گھومتی گیندوں کا سامنا نہ کر پائے۔ پاکستان کی جانب سے کپتان شان مسعود 15، محمد حریرا 9، بابر اعظم ایک، کامران غلام 16، نائب کپتان سعود شکیل 32، سلمان علی آغا 9 اور ابرار احمد 2 رنز بنا کر پویلین لوٹے جبکہ کاشف علی اور نعمان علی کھاتہ بھی نہ کھول پائے۔ ویسٹ انڈیز کی جانب سے جومل وارکین نے 4 جبکہ گداکیش موتی نے 3 اور کیمار روچ نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔   View this post on Instagram   A post shared by Pakistan Cricket (@therealpcb) قبل ازیں پاکستان نے نعمان علی کی عمدہ گیند بازی اور ہیٹرک کے باعث ویسٹ انڈیز کی پہلی اننگز میں 163 رنز پر آل آؤٹ کیا۔ پاکستان کی جانب سے نعمان علی نے ہیٹرک کرتے ہوئے 6 وکٹیں اڑائیں اور ٹیسٹ ہیٹرک کرنے والے پہلے پاکستانی سپنر کا اعزاز بھی اپنے نام کیا۔ ان کے علاوہ ساجد خان نے 2 جبکہ مسٹری اسپنر ابرار احمد اور ڈیبیوٹن کاشف علی نے ایک ایک کھلاڑی کو پویلین کی راہ دکھائی۔ ویسٹ انڈیز کی جانب سے بھی کوئی بھی بلے باز کریز پر جم کر کھیل نہ سکا، ایک کے بعد ایک بلے باز پویلین لوٹتا رہا، ویسٹ انڈیز کی جانب سے گداکیش موتی 55 رنز کے ساتھ نمایاں بلے باز رہے۔ جومل واریکن نے ناقابلِ شکست 36 جبکہ سینئر فاسٹ باؤلر کیمار روچ نے 25 اور کیوام ہوج نے 21 رنز کی اننگز کھیلی۔ ان کے علاوہ کوئی بھی بلے باز ڈبل فیگر میں نہ پہنچ سکا جبکہ 4 بلے باز بغیر کھاتہ کھولے پویلین لوٹ گئے۔   View this post on Instagram   A post shared by Pakistan Cricket (@therealpcb) یار رہے یہ ٹیسٹ میچ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین ہونے والی 2 میچوں کی ٹیسٹ سیریز کا دوسرا میچ ہے۔ پہلا ٹیسٹ بھی ملتان میں ہی کھیلا گیا تھا جس میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو یک طرفہ مقابلے کے بعد 127 رنز سے شکست دی تھی۔ اس میچ میں بھی پاکستانی سپنرز نے ویسٹ انڈیز بلے بازوں کی ایک نہ چلنے دی تھی۔ میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پانے والے ساجد خان نے مجموعی طور پر 9 وکٹیں حاصل کی تھیں جبکہ نعمان علی نے بھی میچ میں مجموعی طور پر 6 کھلاڑیوں کو پویلین واپس بھیجا تھا۔