اپریل 6, 2025 11:01 شام

English / Urdu

پسند کے ہمسفر کی تلاش میں بوڑھے ہوتے نوجوان

پاکستان میں آج کے نوجوان اپنی پسندیدہ زندگی کے ساتھی کو تلاش کرنے میں اتنے بے چین ہیں کہ عمر کے ایک مخصوص حصے میں پہنچ کر بھی ان کی شادی نہیں ہو پاتی۔ نوجوانوں کے لیے شادی ایک نہ ختم ہونے والا مسئلہ بنتا جا رہا ہے جس میں ایک طرف معاشرتی دباؤ، مذہبی مسائل اور والدین کی مداخلت رکاوٹ بنتے ہیں، تو دوسری طرف جہیز کے مطالبات اور اقتصادی مشکلات بھی اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتی ہیں۔ کیا موجودہ معاشی اور سماجی حالات کے پیش نظر نوجوانوں کی شادی میں حائل رکاوٹوں کو کم کرنے کے لیے کوئی عملی اقدامات کیے جا سکتے ہیں؟ یونیورسٹی آف اوکاڑہ کے شعبہ سماجی تعلیم کی پروفیسر ڈاکٹر عائشہ افتخار نے ‘پاکستان میٹرز’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے نوجوانوں کی شادی میں حائل رکاوٹوں اور ان کے پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ “نوجوانوں کی شادی میں رکاوٹوں کو کم کرنے کے لیے سادہ شادیوں کو فروغ دینا اور جہیز جیسی غیر ضروری روایات کا خاتمہ ضروری ہے۔ حکومت کو روزگار کے مواقع بڑھانے اور شادی کے اخراجات میں معاونت کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ یہ مسئلہ حل ہو سکے۔” پاکستان میں نوجوانوں کی شادی کے معاملے پر فیصلہ کرنا انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔ والدین روایات کے مطابق اپنے بچوں کے لیے شریک حیات کا انتخاب کرتے ہیں، جبکہ نوجوان اپنی پسند کو ترجیح دیتے ہیں۔ ماہر عمرانیات ڈاکٹر حسان علی نے ‘پاکستان میٹرز’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے روایات اور نوجوانوں کی ذاتی پسند سے متعلق کہا کہ “والدین اور نوجوانوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے کھلی گفتگو اور باہمی اعتماد ضروری ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی پسند کو سمجھیں جبکہ نوجوان روایات اور خاندانی اقدار کا احترام کریں تاکہ ایک متوازن فیصلہ ممکن ہو سکے۔” اس کشمکش میں والدین کی مداخلت اہم ہے لیکن ساتھ ہی نوجوانوں کو اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کا حق بھی حاصل ہے۔ معاشی مسائل اور جہیز کا مطالبہ ان رکاوٹوں کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ ان سب عوامل کا اثر نوجوانوں کی زندگیوں پر کس طرح پڑ رہا ہے؟ بہت سے نوجوان اپنی زندگی کے درمیانی حصے میں پہنچ کر بھی ازدواجی زندگی کی طرف قدم نہیں بڑھا پاتے، اور یہ صورتحال مسلسل پیچیدہ ہوتی جارہی ہے۔ ڈاکٹر عائشہ افتخار کے نزدیک “معاشی عدم استحکام اور مہنگائی کے باعث نوجوانوں کے لیے شادی کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اس پر جہیز کے غیر ضروری مطالبات مزید دباؤ ڈال دیتے ہیں، جس کی وجہ سے کئی خاندان اپنی بیٹیوں کی شادی میں تاخیر پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے سماجی رویوں میں تبدیلی اور سادگی کو فروغ دینا ضروری ہے۔” پاکستان میں شادی کے حوالے سے معاشرتی توقعات بہت زیادہ ہیں۔ والدین اور خاندان کی خواہش ہوتی ہے کہ لڑکا یا لڑکی اپنے خاندان کی عزت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک روایتی طریقے سے شادی کرے۔ اس کے باوجود نوجوان اپنی پسند کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن معاشرتی اور ثقافتی روایات کی وجہ سے اکثر ان کے انتخاب کو خاندان کی مخالفت کا سامنا ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں والدین کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے اکثر نوجوان اپنے والدین کے منتخب کردہ شریک حیات کو ترجیح دیتے ہیں جو کہ ان کی ذاتی پسند کے برعکس ہو سکتی ہے۔ یہ دباؤ ان کی زندگی پر گہرا اثر ڈالتا ہے اور انہیں اپنی زندگی کے اہم ترین فیصلے میں الجھن میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ڈاکٹر عائشہ افتخار کا کہنا ہے کہ “پاکستانی معاشرے میں خاندانی نظام اور ثقافتی روایات کا گہرا اثر ہے جس کی وجہ سے والدین اکثر اپنی مرضی کو ترجیح دیتے ہیں۔ پسند کی شادی کو خاندانی وقار اور روایات کے خلاف سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ سے مخالفت جنم لیتی ہے۔ اس رویے میں تبدیلی کے لیے مکالمے اور شعور کی بیداری ضروری ہے۔” مذہبی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اسلام میں پسند کی شادی کو بھی جائز قرار دیا گیا ہے۔ تاہم اس میں شرعی اصولوں کی پابندی ضروری ہے۔ نوجوانوں کے لیے یہ بات اہم ہے کہ وہ اپنے شریک حیات کا انتخاب کرتے وقت دین داری، اخلاقیات اور اسلامی تعلیمات کو مدنظر رکھیں۔ تاہم معاشرتی روایات اور خاندان کی طرف سے شرعی حدود کی صحیح رہنمائی کا فقدان نوجوانوں کے لیے ایک چیلنج بن جاتا ہے۔ معاشی مشکلات بھی اس مسئلے میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکی ہیں۔ مالی دباؤ شادی کے عمل کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ ڈاکٹر حسان علی کا کہنا ہے کہ “اسلام میں نکاح کو آسان بنانے پر زور دیا گیا ہے، لیکن ہمارے معاشرے میں معاشی مسائل اور غیر ضروری رسومات نے شادی کو مشکل بنا دیا ہے۔ مہنگائی، روزگار کی کمی، اور جہیز جیسی روایات نوجوانوں کے لیے مشکلات کھڑی کرتی ہیں۔ دوسری جانب اسلام سادگی اور برابری پر مبنی نکاح کا درس دیتا ہے۔” جہیز کا مسئلہ اس سارے معاملات کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ جہیز کی بڑھتی ہوئی مانگ نے نوجوانوں کی شادی میں رکاوٹ ڈال دی ہے۔ والدین کی طرف سے بڑی رقم، زیورات، اور گاڑی کا تقاضا کیا جاتا ہے، جو اکثر خاندانوں کے لیے مالی طور پر ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے کئی لڑکے اور لڑکیاں اپنی پسند کی شادی مؤخر کر دیتے ہیں۔ اس صورتحال نے ازدواجی زندگی کے آغاز کو ہی مشکل بنا دیا ہے۔ اس پورے معاملے میں بہت سے عوامل شامل ہیں جیسے معاشرتی توقعات، والدین کا دباؤ، اور اقتصادی مشکلات وہ مسائل ہیں جو نوجوانوں کی شادی میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ ڈاکٹر حسان علی کے مطابق “ہمارے معاشرے میں والدین کی اعلیٰ توقعات، مالی دباؤ اور مثالی رشتہ تلاش کرنے کی کوشش شادی میں تاخیر کا باعث بنتی ہے۔ اس مسئلے کا حل سادگی کو فروغ دینا، جہیز کی حوصلہ شکنی کرنا، اور نوجوانوں کو معاشی طور پر خودمختار بنانے میں مدد دینا ہے تاکہ وہ اپنے فیصلے خود کر سکیں۔” اس حوالے سے ڈاکٹر عائشہ افتخار کا کہنا ہے کہ “ہمیں اس بات کی ضرورت ہے کہ جہیز کی لعنت کا خاتمہ کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ شادی ایک خوبصورت اور

نیوزی لینڈ سے شکست پر پاکستانی شائقین کیا کہتے ہیں؟

pakistan lost opener against new Zealand in gaddafi stadium

‘گھر سے تو دعا کر کے آئے تھے کہ پاکستان میچ جیت جائے،’ جوش وولولے سے میچ دیکھنے آنے والے پاکستانی شائقین سہ فریقی سیریز کے پہلے میچ میں پاکستان کی شکست کا ذمہ دار کسے مانتے ہیں؟ پاکستان میٹرز کے نامہ نگار عاصم ارشاد کی شائقین کرکٹ سے گفتگو

ایلون مسک کے “ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشینسی” پر فیڈرل جج کا بڑا فیصلہ، امریکی ٹریژری ڈیپارٹمنٹ کے حساس ریکارڈ تک رسائی روک دی گئی

امریکی وفاقی جج نے ایلون مسک کی قیادت میں قائم “ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشینسی” (DOGE) کو ٹریژری ڈیپارٹمنٹ کے حساس ریکارڈ تک رسائی دینے سے روک دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک نیا تنازعہ کھڑا کر رہا ہے جس میں ایلون مسک کے ادارے کے متنازعہ طریقوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ امریکی ڈسٹرکٹ جج ‘پال اے اینگل مایر’ نے اس فیصلے کے بعد حکم دیا کہ مسک کی ٹیم کو فوری طور پر ٹریژری ڈیپارٹمنٹ کے ریکارڈز تک رسائی کی اجازت نہ دی جائے، جو لاکھوں امریکیوں کا ذاتی اور مالیاتی ڈیٹا شامل ہے، جیسے کہ سوشل سیکیورٹی نمبر، بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات اور ٹیکس کی معلومات۔ یہ ریکارڈز اس وقت امریکی حکومت کی سب سے بڑی مالیاتی معلومات میں سے ہیں جنہیں ہر سال ٹریلین ڈالرز کے فراہمی کے عمل میں استعمال کیا جاتا ہے۔ فیصلے کے مطابق 20 جنوری کے بعد سے کسی بھی فرد کو اس حساس ڈیٹا تک رسائی دینے کی ممانعت ہے اور جو مواد پہلے ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے اسے فوری طور پر تباہ کر دینا چاہیے۔ جج نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ حکم اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ امریکی شہریوں کی ذاتی معلومات کو غیر مجاز افراد کے ہاتھوں میں نہ آنے دیا جائے۔ یہ مقدمہ اس وقت منظر عام پر آیا جب 19 ڈیموکریٹ اٹارنی جنرلز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ مقدمے میں یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایلون مسک کے “ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشینسی” کو غیر قانونی طور پر ٹریژری ڈیپارٹمنٹ کے مرکزی ادائیگی کے نظام تک رسائی دے دی، جو ٹیکس ریفنڈز، سوشل سیکیورٹی بینیفٹس اور دیگر اہم سرکاری ادائیگیاں ہینڈل کرتا ہے۔ ضرور پڑھیں: پرنس کریم آغا خان کی آخری رسومات پرتگال میں ادا کر دی گئیں، کب اور کہاں سپرد خاک کیا جائے گا؟ نیو یارک کی اٹارنی جنرل ‘لیٹیشیا جیمز’ نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ایلون مسک کی ٹیم کا اس حساس ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنا، امریکی شہریوں کی ذاتی معلومات کی سیکیورٹی کو خطرے میں ڈال رہا ہے اور یہ غیر قانونی طور پر وفاقی فنڈز کی فراہمی کو بھی روک سکتا ہے۔ جیمز نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ یہ غیر منتخب افراد کا گروہ ہے جو دنیا کے امیر ترین شخص کی قیادت میں ہے، اور ان کے پاس یہ معلومات حاصل کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں تھا۔ انہوں نے واضح طور پر غیر قانونی طور پر یہ رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ ان ادائیگیوں کو روک سکیں جو لاکھوں امریکیوں کے لیے اہم ہیں جیسے صحت کی دیکھ بھال، بچوں کی دیکھ بھال اور دیگر ضروری پروگرامز کی ادائیگیاں۔ مقدمے میں دیگر ریاستوں جیسے ایریزونا، کیلیفورنیا، کولوراڈو، کنیکٹیکٹ اور دیگر نے بھی شامل ہو کر اس بات کی تصدیق کی کہ ٹریژری ڈیپارٹمنٹ کے ریکارڈز تک غیر قانونی رسائی نے امریکی حکومت کی مالیاتی اور انتظامی پالیسیوں میں سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ ان تمام ریاستوں کا کہنا ہے کہ اس رسائی سے وفاقی فنڈز کے جاری کرنے کے عمل میں رکاوٹ آ سکتی ہے، جو کانگریس کی منظوری سے باہر ہے۔ یہ بھی پڑھیں: غزہ جنگ بندی: حماس نے تین اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کر دیا اس فیصلے نے ایلون مسک کے “ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشینسی” (DOGE) کی پالیسیوں پر وسیع پیمانے پر تنقید کو جنم دیا ہے۔ مسک کی ٹیم کا مقصد حکومت کے بے جا اخراجات کو ختم کرنا تھا، تاہم اس کے مخالفین نے اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ مسک اور ان کے اتحادیوں کی بڑھتی ہوئی طاقت امریکی حکومت کے حساس ڈیٹا تک غیر ضروری رسائی فراہم کر رہی ہے۔ مقدمے میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ ٹریژری سیکرٹری اسکاٹ بیسنٹ نے وزارت کی طویل المدتی پالیسیوں کو تبدیل کیا تاکہ مسک کی ٹیم کو اس اہم ڈیٹا تک رسائی دی جا سکے جس سے امریکا کی عوامی معلومات کی حفاظت میں کمی آ سکتی ہے۔ کنیکٹیکٹ کے اٹارنی جنرل ‘ولیم ٹونگ’ نے اس صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا، “یہ امریکا کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈیٹا بریچ ہے۔ DOGE ایک غیر قانونی گروہ ہے جو خفیہ ریکارڈز اور حساس ڈیٹا کے ذریعے اہم ادائیگی کے نظام میں کھنگال رہا ہے۔ اس کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے؟” یہ تمام صورتحال ایک اور اہم پہلو کو اجاگر کرتی ہے، وہ یہ کہ امریکی حکومت کے اندرونی معاملات میں ایلون مسک اور ان کی ٹیم کی بڑھتی ہوئی مداخلت سے نہ صرف حکومت کے انتظامی اختیارات بلکہ امریکی عوام کے ذاتی ڈیٹا کی حفاظت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ فی الحال، جج پال اینگل مایر کا فیصلہ اس معاملے کی پیچیدگیوں اور خطرات کو مزید واضح کرتا ہے، اور یہ ایک نیا باب کھولتا ہے امریکی سیاست اور حکومتی مالیاتی پالیسیوں میں، جس پر ابھی مزید بحث جاری رہے گی۔ مزید پڑھیں: امریکی ریاست الاسکا سے لاپتہ طیارے کا ملبہ مل گیا، تمام مسافر ہلاک

ایم کیو ایم پاکستان میں ہلچل، کارکنان نے بہادر آباد مرکز پر دھاوا بول دیا

ایم کیو ایم پاکستان میں تنظیمی معاملات کی تقسیم اور پارٹی کے فیصلوں کی مرکز بہادر آباد کے بجائے گورنر ہاؤس سے جاری ہونے پر کارکنان میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ کارکنوں نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے بہادر آباد کے مرکز پر دھاوا بول دیا اور وہاں احتجاج کیا۔ احتجاج کے دوران “گو گورنر گو” اور “گو ٹیسوری گو” کے نعرے بھی لگائے گئے، جو اس بات کی نشاندہی کر رہے تھے کہ کارکنان پارٹی کے فیصلوں میں شفافیت اور مشاورت کے فقدان سے سخت نالاں ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان کے مرکزی دفتر میں اس احتجاج کی لہر اس وقت شدت اختیار کر گئی جب کارکنان نے تنظیمی فیصلوں کے حوالے سے مشاورت کے بغیر سرکلر جاری کرنے پر شدید اعتراضات اٹھائے۔ کارکنان نے پارٹی کے رہنماؤں کے فیصلوں کے بارے میں اپنی بے چینی کا اظہار کیا، جنہیں انہوں نے گورنر ہاؤس میں بیٹھ کر منسوخ کر دیا تھا، بجائے اس کے کہ وہ پارٹی کے مرکزی دفتر میں رہ کر کیے جاتے۔ گزشتہ روز تنظیمی عہدوں کے حوالے سے ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا جس نے پارٹی میں مزید اضطراب پیدا کر دیا۔ اس جاری کردہ نوٹیفکیشن میں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی زیر قیادت مختلف ذمہ داریوں کی تقسیم کی گئی، جس کے تحت سینٹرل آرگنائزنگ کمیٹی کی نگرانی فاروق ستار، انیس قائم خانی اور امین الحق کے ہاتھ میں دی گئی۔ تاہم، پارٹی کے کارکنان نے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے یہ کہا کہ انہیں اس بارے میں مشاورت نہیں کی گئی تھی۔ یہ بھی پڑھیں: 8 فروری 2024 کے الیکشن دھاندلی زدہ تھے جس کے نتیجے میں حکومت بنی، سینیٹر کامران مرتضی نئے نوٹیفکیشن میں مصطفیٰ کمال، فیصل سبزواری اور رضوان بابر کو لیبر ڈویژن کی نگرانی کا اختیار دیا گیا تھا جبکہ شعبہ خواتین کی ذمہ داریاں نسرین جلیل، انیس قائم خانی اور کیف الوریٰ کو سونپی گئیں۔ تاہم، کارکنان نے ان عہدوں کی تقسیم کو بے بنیاد اور غیر جمہوری قرار دیا۔ کارکنوں کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان میں قیادت کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے اور پارٹی کے تمام اہم فیصلے گورنر ہاؤس میں ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے کارکنان میں بے چینی اور مایوسی پھیل رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کو ایک مضبوط اور جمہوری طریقہ کار اپنانا چاہیے تاکہ فیصلے تمام کارکنوں کی مشاورت سے کیے جائیں، نہ کہ صرف چند افراد کی مرضی سے۔ احتجاج کے دوران کارکنان نے پارٹی رہنماؤں سے ہاتھا پائی بھی کی اور اپنی آواز بلند کی کہ وہ اپنی تنظیمی حیثیت کو تسلیم کرانا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر فاروق ستار نے جیونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خالد مقبول صدیقی کی جانب سے جاری سرکلر مکمل طور پر درست ہے اور اسے پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے 11 اراکین کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو اس فیصلے پر اعتراض ہے تو وہ پارٹی کے اندر رہ کر اپنی بات کر سکتا ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان میں یہ بحران اس بات کا غماز ہے کہ پارٹی کی اندرونی تنظیمی معاملات اور قیادت کے حوالے سے اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں، جس سے پارٹی کے مستقبل اور مستقبل کے انتخابات پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اس تنازعہ کی شدت کے پیش نظر، سیاسی حلقوں میں اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ آیا ایم کیو ایم پاکستان اپنی موجودہ حالت میں انتخابی میدان میں کامیاب ہو سکے گی یا نہیں۔ مزید پڑھیں: علی امین گنڈا پور کا بڑا دعویٰ: پی ٹی آئی اور عمران خان نظریہ بن چکے ہیں، ہم اپنا حق لینے تک نہیں رکیں گے