مارکیٹ میں سیمنٹ، کمرشل بینکوں، فرٹیلائزر، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے حصص میں خریداری دیکھی گئی۔ نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی)، مسلم کمرشل بینک (ایم سی بی)، فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی (ایف ایف سی)، حبکو اور یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ (یوبی ایل) کے حصص بھی مثبت زون میں رہے۔

بدھ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی بحالی کا رجحان دیکھا گیا تھا۔ مسلسل دو سیشنز میں منافع خوری کے بعد خریداری بحال ہونے سے مارکیٹ میں تیزی رہی۔

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کی اطلاعات نے کاروبار کے اختتام کے قریب مارکیٹ کو مزید تقویت دی، جس کے بعد بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 180,311.22 پوائنٹس پر بند ہوا۔

عالمی سطح پر بھی جمعرات کو ایشیائی حصص میں تیزی دیکھی گئی۔ امریکی افراط زر کے اعداد و شمار توقعات کے مطابق آنے کے بعد فیڈرل ریزرو کی جانب سے مستقبل قریب میں شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوگئے۔

دوسری جانب واشنگٹن اور تہران کے درمیان خلیجی جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں تعطل برقرار رہنے کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل کے قریب رہی۔

ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کا وسیع ترین انڈیکس 0.97 فیصد بڑھا، جس کی قیادت جنوبی کوریا کے حصص نے کی، جو 4.4 فیصد اضافے کے ساتھ نمایاں رہے۔

جاپان کا نکی انڈیکس 1.86 فیصد جبکہ ایس اینڈ پی 500 ای منی فیوچرز 0.02 فیصد اضافے کے ساتھ ٹریڈ کرتے رہے۔

امریکی اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں صارفین کی قیمتوں میں 0.1 فیصد اضافہ ہوا، جو ماہرین کی توقعات کے عین مطابق ہے۔

معمولی اضافے کے باعث آئندہ ماہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے جواز کو تقویت ملنے کے امکانات کم ہوگئے ہیں۔

سی ایم ای گروپ کے فیڈ واچ کے مطابق منی مارکیٹس میں اگلے ماہ شرح سود میں اضافے کے امکانات 40 فیصد تک آگئے ہیں، جو ایک ہفتہ قبل 54 فیصد تھے۔ ادھر ایشیا میں تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، تاہم قیمتیں بدستور بلند سطح پر برقرار رہیں۔