ماہانہ ترقیاتی رپورٹ برائے اگست کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ماہانہ ترقیاتی اپ ڈیٹ کا مقصد عوام کو ملکی معیشت کی موجودہ صورتحال، پیش رفت اور درپیش چیلنجز سے باقاعدگی سے آگاہ کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اڑان پاکستان‘ کے تحت معاشی استحکام کو پائیدار معاشی تبدیلی میں تبدیل کرنا حکومت کی ترجیح ہے، جب کہ برآمدات کو معاشی ترقی کا اہم محرک بنا کر روزگار، بہتر آمدن اور نوجوانوں کے لیے مزید مواقع پیدا کیے جائیں گے۔

احسن اقبال کے مطابق مالی سال 2026-27 کے آغاز پر معیشت سے متعلق حوصلہ افزا اشاریے سامنے آئے ہیں۔ جولائی 2026 میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر 9.2 فیصد رہی، جو مئی میں 11.7 فیصد تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی میں مسلسل کمی اس بات کا اشارہ ہے کہ قیمتوں کا دباؤ اپنی بلند ترین سطح عبور کر چکا ہے اور اب کمی کی جانب گامزن ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کے باقاعدہ اجلاسوں کے ذریعے مارکیٹ اور قیمتوں کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے بروقت انتظامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جولائی 2026 میں بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر 3.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے اسی ماہ کے 3.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ ہیں۔ مالی سال 2025-26 میں ترسیلات زر ریکارڈ 41.6 ارب ڈالر رہیں، جو بیرونی شعبے میں پاکستانی معیشت کی مضبوط لچک اور بیرون ملک پاکستانیوں کے قومی معیشت پر اعتماد کی عکاسی کرتی ہیں۔

احسن اقبال کے مطابق صنعتی پیداوار نے بھی دوبارہ رفتار پکڑی ہے۔ مالی سال 2025-26 میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں اوسطاً 5 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ گزشتہ مالی سال بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 0.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی پیداوار میں بحالی کا عمل وسیع بنیادوں پر جاری ہے اور 22 میں سے 16 شعبوں میں مثبت شرح نمو ریکارڈ ہوئی۔ آٹو موبائلز کے شعبے میں 57.8 فیصد، ٹرانسپورٹ آلات میں 42.4 فیصد جبکہ برقی آلات میں 14.3 فیصد شرح نمو ریکارڈ کی گئی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ مالی سال 2026-27 کے آغاز پر بیرونی شعبے نے بھی حوصلہ افزا کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ جولائی 2026 میں اشیاء کی برآمدات 9.4 فیصد اضافے سے 3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ اشیاء اور سروسز کی مجموعی برآمدات 13 فیصد اضافے کے بعد 3.9 ارب ڈالر رہیں۔

ان کے مطابق سرجیکل مصنوعات کی برآمدات میں 16.3 فیصد، غذائی اشیاء میں 8 فیصد، لیدر مصنوعات میں 7.8 فیصد اور ٹیکسٹائل میں 3.9 فیصد اضافہ ہوا۔ سروسز کے شعبے، بالخصوص آئی ٹی برآمدات، پاکستان کی بیرونی آمدن کی صلاحیت کو بھی مسلسل مضبوط کر رہی ہیں، جبکہ جولائی 2026 میں آئی سی ٹی برآمدات 417 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔

احسن اقبال نے بتایا کہ جولائی 2026 میں اشیاء اور سروسز کی درآمدات 13 فیصد اضافے سے 7.3 ارب ڈالر رہیں، جو ملکی معاشی سرگرمیوں میں بہتری اور پیداواری و سرمایہ جاتی اشیاء کی بڑھتی ہوئی طلب کی عکاسی کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جولائی 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 328 ملین ڈالر رہا، جو جولائی 2025 کے 529 ملین ڈالر کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔ عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود پاکستان کے بیرونی شعبے نے مسلسل لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق مالیاتی استحکام حکومت کے معاشی اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم ستون ہے۔ جولائی 2026 میں ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں 8.4 فیصد اضافے کے ساتھ 820.9 ارب روپے تک پہنچ گئیں، جبکہ گزشتہ سال جولائی میں یہ وصولیاں 757.4 ارب روپے تھیں۔

انہوں نے کہا کہ ملکی وسائل سے آمدن بڑھانے اور ٹیکس نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات جاری ہیں، جب کہ مضبوط مالیاتی نظم و ضبط کے باعث ملکی مالیاتی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ مالی سال 2025-26 میں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 2.6 فیصد تک محدود رہا، جو گزشتہ دو دہائیوں کی کم ترین سطح ہے۔

احسن اقبال نے مزید کہا کہ حکومت سرکاری ترقیاتی سرمایہ کاری کو زیادہ مؤثر، مرکوز اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ اڑان پاکستان کے تحت ترقیاتی وسائل زیادہ معاشی و سماجی اثرات رکھنے والے منصوبوں پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔

ان کے مطابق جولائی 2026 میں وزارت منصوبہ بندی نے ترجیحی ترقیاتی منصوبوں کے لیے 211.327 ارب روپے، یعنی مجموعی فنڈز کا 21.1 فیصد جاری کیا۔ حکومت کی ترجیح ترقیاتی منصوبوں کے لیے بروقت مالی معاونت یقینی بنانا ہے، جب کہ ترقیاتی وسائل کا استعمال واضح نتائج، زیادہ معاشی منافع اور عوامی فلاح کو مدنظر رکھ کر کیا جا رہا ہے۔