علی پرویز ملک نے اپنےحلقے میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وسائل اکٹھے کیے بغیر خرچ کرنے سے نتی 2022 والا نکلے گا، جب پاکستان دیوالیہ پن کی نہج پر پہنچا اور مہنگائی کا سونامی آیا۔

انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں جیسے ہی قیمتیں نیچے آئیں، فوری پاکستان میں بھی کمی کی جائےگی۔  وہ آئندہ ہفتے سعودی عرب کا دورہ کرکے تیل کی فراہمی پر شکریہ اور مشکل حالات میں اظہار یکجہتی کریں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس خطے پر بہت بڑی آزمائش کی گھڑی ہے ، خیبر پختونخوا میں دہشتگردی پھر سے سر اٹھا رہی ہے، دہشتگردی ختم کرنے کے لیے سیاسی قائدین کو عسکری قیادت کے پیچھے لبیک کہنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی سے گزارش ہے کہ اپنی ذمہ داری کا احساس کریں، پاکستان کو ہر قسم کے شر سے محفوظ رکھنے کے لیے  قومی یکجہتی ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 99 فیصد معاملات طے ہوچکے تھے، سہیل آفریدی نے مذاکرات سبوتاژ کیے: محسن نقوی

علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ دسمبر، جنوری، فروری میں جو چیلنجز ہیں اس پر وزیراعظم کو ایک نشست میں آگاہی دے دی ہے، جو فیصلہ عوام اور ملک کے حق میں ہوگا وہی ہو گا، سردیوں سے پہلےجو اقدامات کیے جانے چاہیئں وہ بھی وزیراعظم کے سامنے رکھ دیے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ گیس بحران کے طوفان کا مقابلہ بروقت ایل پی جی گیس منگوا کر کریں گے، ایل پی جی گیس کی قیمت پر کہوں گا کہ 70 سال سے قیمتیں اوگرا طے کرتا ہے۔