وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ سے رابطہ کیا اور وزیراعظم شہباز شریف کا پیغام ان تک پہنچایا۔ لیاقت بلوچ کے مطابق حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان جاری بات چیت کو اعلیٰ سطح پر آگے بڑھانے کے لیے وزیراعظم اور امیر جماعت اسلامی کی ملاقات تجویز کی گئی ہے، تاہم ملاقات کی حتمی تاریخ اور وقت دونوں جانب کی مذاکراتی کمیٹیوں کی مشاورت سے طے کیا جائے گا۔
لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اور حافظ نعیم الرحمان کے درمیان متوقع ملاقات میں عوام کو درپیش معاشی مشکلات اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے متعلق امور زیر بحث آئیں گے۔ جماعت اسلامی کی جانب سے پیٹرولیم لیوی کے مکمل خاتمے کا مطالبہ مرکزی ایجنڈے میں شامل ہوگا۔
جماعت اسلامی کے مطابق امیر جماعت اسلامی وزیراعظم سے ملاقات میں بجلی کی قیمتوں میں کمی، توانائی کے شعبے کے مسائل اور آئی پی پیز سے متعلق معاہدوں پر نظرثانی سمیت دیگر معاشی معاملات بھی اٹھائیں گے۔ پارٹی پہلے بھی حکومت کے سامنے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے متعدد تجاویز پیش کرچکی ہے۔
حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات کا آغاز ستمبر کے اوائل میں ہوا تھا۔ پہلے دور میں جماعت اسلامی کی مذاکراتی کمیٹی نے لیاقت بلوچ کی قیادت میں حکومت کے سامنے چھ تجاویز پیش کی تھیں، جبکہ حکومتی ٹیم کی سربراہی احسن اقبال نے کی تھی۔ حکومتی ٹیم میں دیگر متعلقہ وزرا اور حکام بھی شامل رہے۔
مذاکرات کے دوران جماعت اسلامی نے مؤقف اختیار کیا کہ پیٹرولیم لیوی کے ذریعے عوام پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے اور حکومت کو اس میں کمی یا مکمل خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ جماعت اسلامی نے اس معاملے کو اپنے جاری احتجاج اور دھرنوں کے بنیادی مطالبات میں شامل کر رکھا ہے۔
دوسری جانب حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں، ملکی مالی ضروریات اور معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام کو ریلیف دینے کے لیے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ مذاکرات کے دوران حکومتی ٹیم نے جماعت اسلامی کی تجاویز متعلقہ وزارتوں اور اداروں سے مشاورت کے لیے سامنے رکھنے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔
اس سے قبل حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پیٹرولیم لیوی پر مذاکرات کے متعدد ادوار ہوچکے ہیں۔ ایک مرحلے پر حکومت نے مزید وقت بھی طلب کیا تھا تاکہ جماعت اسلامی کی تجاویز کا متعلقہ اداروں کی مدد سے جائزہ لیا جاسکے۔
مذاکرات میں آئی پی پیز کا معاملہ بھی زیر بحث آیا ہے۔ جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کے لیے آئی پی پیز سے متعلق معاہدوں اور بجلی کے شعبے میں ہونے والی ادائیگیوں کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔ جماعت اسلامی نے اس معاملے پر بھی حکومت سے واضح اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کے پہلے ادوار میں اگرچہ مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال ہوا، تاہم پیٹرولیم لیوی کے مکمل خاتمے پر حتمی اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ بعد کے ایک مذاکراتی دور کے بعد بھی جماعت اسلامی کی جانب سے کہا گیا کہ ٹھوس حکومتی تجویز سامنے نہ آنے کی صورت میں احتجاجی تحریک جاری رکھی جائے گی۔
اب وزیراعظم اور امیر جماعت اسلامی کے درمیان مجوزہ ملاقات کو مذاکراتی عمل میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ دونوں جانب کی کمیٹیاں ملاقات کے ایجنڈے، تاریخ اور دیگر انتظامی امور کو حتمی شکل دیں گی۔
لیاقت بلوچ کے مطابق جماعت اسلامی عوام کو درپیش مہنگائی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، بجلی کے نرخوں اور توانائی کے شعبے سے متعلق مسائل کو وزیراعظم کے سامنے براہ راست رکھنے کی تیاری کررہی ہے، جماعت اسلامی کا بنیادی مطالبہ عوام کو حقیقی اور براہ راست ریلیف فراہم کرنا ہے۔
حکومت کی جانب سے جماعت اسلامی سے دوبارہ اعلیٰ سطح پر رابطہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں فریقین کے درمیان پہلے بھی کئی ادوار میں مذاکرات ہوچکے ہیں۔ موجودہ رابطے کے بعد یہ توقع کی جارہی ہے کہ وزیراعظم اور امیر جماعت اسلامی کی ملاقات میں پیٹرولیم لیوی سمیت دیگر معاشی مطالبات پر سیاسی اور پالیسی سطح پر گفتگو ہوگی۔
جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ پیٹرولیم لیوی کا بوجھ کم یا ختم کیے بغیر عوام کو مطلوبہ ریلیف نہیں مل سکتا، جبکہ حکومت معاشی حالات اور ملکی مالی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تجاویز کا جائزہ لے رہی ہے۔ آئندہ ملاقات میں دونوں فریقین کے درمیان اختلافی نکات پر مزید بات چیت متوقع ہے۔
حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کے آئندہ مرحلے کا حتمی نتیجہ وزیراعظم شہباز شریف اور حافظ نعیم الرحمان کی ملاقات کے بعد سامنے آنے کا امکان ہے، جبکہ دونوں جانب کی مذاکراتی کمیٹیاں ملاقات کے شیڈول اور ایجنڈے کو حتمی شکل دینے کے لیے رابطے جاری رکھیں گی۔







