رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز نے فرانسس ہالزن کو آئس کیوب نیوٹرینو آبزرویٹری میں فیصلہ کن خدمات اور فلکیاتی ماخذ رکھنے والے ہائی انرجی نیوٹرینوز کی دریافت پر یہ اعزاز دیا۔
82 سالہ ہالزن نے تقریباً چار دہائیاں قبل ایک ایسے تجربے کا تصور پیش کیا تھا جس میں جنوبی قطب کی تقریباً ایک مکعب کلومیٹر برف کو ایک دیوہیکل دوربین میں تبدیل کرکے ایسے ذرات کا سراغ لگایا جاسکے جو تقریباً ہر چیز سے گزر جاتے ہیں۔
نیوٹرینوز کو ’بھوت ذرات‘ کیوں کہا جاتا ہے؟
نیوٹرینوز انتہائی کمیت رکھنے والے، برقی طور پر غیر جانب دار ذرات ہیں جو مادے کے ساتھ بہت کم تعامل کرتے ہیں۔ ہر لمحے کھربوں نیوٹرینوز انسانی جسم سمیت زمین سے گزر رہے ہوتے ہیں، مگر ان میں سے بیشتر کسی ایٹم سے ٹکرائے بغیر گزر جاتے ہیں۔
اسی غیر معمولی خصوصیت کی وجہ سے انہیں اکثر ’بھوت ذرات‘ کہا جاتا ہے۔ عام روشنی کے برعکس نیوٹرینوز گیس، گرد و غبار، سیاروں اور دیگر مادے سے گزر سکتے ہیں اور مقناطیسی میدان انہیں موڑ نہیں سکتے۔
اس لیے جب ان میں سے کوئی ذرات زمین پر موجود ڈیٹیکٹر سے ٹکراتا ہے تو سائنس دان اس کی سمت کا تعین کرکے یہ جاننے کی کوشش کرسکتے ہیں کہ وہ کائنات کے کس حصے سے آیا ہے۔
رائل سویڈش اکیڈمی کی ایوا اولسن نے کہا کہ یہ ذرات ’کائنات کے پیغام رساں‘ ہیں، جو دور دراز کہکشاؤں اور ستاروں کے پھٹنے جیسے انتہائی طاقتور کائناتی واقعات کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں۔

جنوبی قطب کی برف کو دوربین میں کیسے بدلا گیا؟
ہالزن نے 1980 کی دہائی میں جنوبی قطب پر نیوٹرینو کا سراغ لگانے کا منصوبہ پیش کیا۔ ابتدائی تجربہ 'امانڈا' کے نام سے شروع ہوا، جس کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ کیا انٹارکٹیکا کی گہری برف میں حساس روشنی کے سینسر نصب کرکے نیوٹرینوز کو پکڑا جاسکتا ہے۔
تجربے کی کامیابی نے بڑے منصوبے کی راہ ہموار کی اور بعد میں آئس کیوب ٹیوٹرینو آبزرویٹری کی تعمیر شروع ہوئی۔ آئس کیوب کے سینسرز کو انٹارکٹیکا کی برف میں تقریباً 2.5 کلومیٹر گہرائی تک نصب کیا گیا۔ مکمل آبزرویٹری میں 5,160 آپٹیکل سینسرز موجود ہیں جو تقریباً ایک ارب ٹن برف کے اندر پھیلے ہوئے ہیں۔
جب کوئی نیوٹرینو کبھی کبھار برف میں موجود ایٹم کے مرکزے سے ٹکراتا ہے تو ایک چارج شدہ ذرہ پیدا ہوتا ہے، جو انتہائی مدھم نیلی روشنی خارج کرتا ہے۔ اسے چیرینکوف ریڈی ایشن کہا جاتا ہے۔ آئس کیوب کے سینسر اسی روشنی کو ریکارڈ کرکے نیوٹرینو کی توانائی اور سمت کا اندازہ لگاتے ہیں۔
’یہ ایک نئے دور کی فلکیات کا آغاز ہے‘
آئس کیوب کی ایک بڑی کامیابی 2013 میں سامنے آئی، جب سائنس دانوں نے نظام شمسی سے باہر سے آنے والے ہائی انرجی نیوٹرینوز کے شواہد پیش کیے۔
2017 میں آبزرویٹری نے تقریباً 290 ٹریلین الیکٹران وولٹ توانائی رکھنے والے ایک نیوٹرینو کا سراغ لگایا۔ اس کے بعد دیگر دوربینوں کو فوری اطلاع دی گئی اور اس ذرے کے ماخذ کو ٹی ایکس ایس 0506+056 نامی ایک دور دراز فعال کہکشاں سے جوڑا گیا، جو زمین سے تقریباً 4 ارب نوری سال دور ہے۔
اس دریافت نے یہ سمجھنے میں مدد دی کہ کائنات کے انتہائی طاقتور اجرام، جن میں سپر میسیو بلیک ہولز شامل ہیں، ہائی انرجی کائناتی نیوٹرینوز پیدا کرسکتے ہیں۔
آئس کیوب اب کائناتی شعاعوں، ڈارک میٹر، نیوٹرینوز کی خصوصیات، ملکی وے اور فعال کہکشاؤں سمیت کائنات کے متعدد رازوں پر تحقیق کے لیے استعمال ہورہا ہے۔
نوبیل انعام کا اعلان ہونے پر اٹلی سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے فرانسس ہالزن نے کہا کہ انہیں اس اعزاز کی توقع نہیں تھی۔ جب یہ منصوبہ شروع کیا گیا تو بہت سے سائنس دانوں کو یہ ایک اچھا خیال ضرور لگا تھا، لیکن بہت کم لوگوں کو یقین تھا کہ یہ کامیاب ہوگا، حتیٰ کہ وہ خود بھی اس کی کامیابی کے بارے میں مکمل طور پر پُراعتماد نہیں تھے۔
ہالزن کے مطابق ان کی تحقیق کے اصل ثمرات ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کی ’اصل دلچسپی‘ یہی ہے کہ وہ ابھی اس سوال کا جواب نہیں دے سکتے کہ آئس کیوب مستقبل میں کائنات کے بارے میں کیا کچھ ظاہر کرے گا، کیونکہ فلکیات ابھی شروع ہوئی ہے۔

فرانسس ہالزن کون ہیں؟
فرانسس ہالزن 23 مارچ 1944 کو بیلجیئم کے شہر تِینن میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے KU Leuven سے ریاضی اور طبیعیات کی تعلیم حاصل کی، 1966 میں ماسٹرز اور 1969 میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔
بعد ازاں انہوں نے جنیوا میں CERN کے ساتھ کام کیا اور 1972 میں یونیورسٹی آف وسکونسن میڈیسن سے وابستہ ہوگئے، جہاں انہوں نے پانچ دہائیوں سے زائد عرصہ گزارا۔
ہالزن نے پارٹیکل فزکس، ایسٹرو فزکس اور کاسمولوجی کے سنگم پر تحقیق کی اور نیوٹرینوز پر توجہ مرکوز کرنے سے قبل اسٹینڈرڈ ماڈل، پارٹیکل کولائیڈرز اور کائناتی شعاعوں پر بھی کام کیا۔
2014 میں امریکی جریدے Smithsonian نے انہیں ’’Neutrino Man‘‘ کا لقب دیا تھا اور ان کی تحقیق کو فلکیات کے ایک نئے دور کی ابتدا قرار دیا تھا۔
بیلجیئم کے وزیراعظم بارٹ ڈی ویور نے بھی ہالزن کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ اعزاز کائنات کے عظیم ترین رازوں کو اس کے انتہائی چھوٹے ذرات کے ذریعے سمجھنے کے لیے ان کی زندگی بھر کی کوششوں کا اعتراف ہے۔
ہالزن کو نوبیل انعام کے ساتھ 12 ملین سویڈش کرونا یعنی تقریباً 12 لاکھ امریکی ڈالر کی انعامی رقم بھی ملے گی۔ نوبیل انعامات ہر سال 10 دسمبر کو اسٹاک ہوم میں تقریب کے دوران پیش کیے جاتے ہیں۔







